13. Ar-Ra'dالرعد
The Thunder · Medinan · 43 ayahs · 6 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿1﴾
الۗمّۗرٰ۔ یہ کتاب کی آیتیں ہیں جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوئی ہے یہ سچ ہے، مگر اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ﴿2﴾
اللہ وہی تو ہے جس نے ستونوں کے بغیر آسمان جیسا کہ تم دیکھتے ہو (اتنے اونچے) بنائے، پھر عرش پر جا ٹھہرا، سورج اور چاند کو کام میں لگا دیا، ہر ایک ایک معین میعاد تک گردش کر رہا ہے۔ وہی (دنیا کے) کاموں کا انتظام کرتا ہے، اس طرح وہ اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کے سامنے جانے کا یقین کرو۔وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿3﴾
اور وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا، اس میں پہاڑ اور نہریں پیدا کیں اور ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں بنائیں، وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے، غور کرنے والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿4﴾
اور زمین میں کئی طرح کے قطعات ہیں، ایک دوسرے سے ملے ہوئے، انگور کے باغات اور کھیتی اور کھجور کے درخت، بعض کی بہت سی شاخیں ہیں اور بعض کی اتنی نہیں ہوتیں اس کے باوجود کہ پانی سب کو ایک ہی ملتا ہے اور ہم بعض میووں کو بعض پر لذت میں فضیلت دیتے ہیں اور اس میں سمجھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿5﴾
اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا پھر دوبارہ پیدا کیے جائیں گے ؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے رب سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے، اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے۔وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿6﴾
اور یہ لوگ بھلائی سے پہلے آپ سے برائی کے جلد خواستگار ہیں (طالب عذاب ہیں) ، حالانکہ ان سے پہلے (عذاب کی) مثالیں گزر چکی ہیں۔ اور آپ کا پروردگار لوگوں کو ان کی بےانصافیوں کے باوجود معاف کرنے والا ہے۔ اور بیشک آپ کا رب سخت عذاب دینے والا ہے۔وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ع﴿7﴾
اور کفار کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی نازل کیوں نہیں ہوئی ؟ (تو اے محمد ﷺ !) آپ تو صرف ڈرانے والے ہیں اور ہر ایک قوم کے لیے رہنما ہوا کرتا ہے۔اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ﴿8﴾
اللہ ہی اس بچہ سے واقف ہے جو عورت کے پیٹ میں ہوتا ہے۔ پیٹ کے سکڑنے اور بڑھنے سے بھی واقف ہے۔ اور ہر چیز کا اس کے پاس ایک اندازہ مقرر ہے۔عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ﴿9﴾
وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والاسب سے برتر ہے غالب ہے۔سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ﴿10﴾
کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں چھپ جائے یا دن کی روشنی میں کھلم کھلا چلے پھرے اس کے نزدیک برابر ہے۔لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ﴿11﴾
اس کے آگے اور پیچھے اللہ کے نگران ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ اللہ اس نعمت کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلیں جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ ٹل نہیں سکتی اور اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہیں ہوتاهُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ﴿12﴾
اور وہی تو ہے جو تم کو ڈرانے اور امید دلانے کے لیے بجلی دکھاتا ہے، اور بھاری بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ﴿13﴾
کڑک اور فرشتے سب اس کے خوف سے اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح و تمجید کرتے رہتے ہیں۔ اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے۔ اور وہ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں، اور وہ بڑی قوت والا ہے۔لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ﴿14﴾
برحق پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے، مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ دور ہی سے پانی اس کے منہ تک آپہنچے، حالانکہ وہ اس تک کبھی بھی نہیں آسکتا اور اسی طرح کفار کی پکار بیکار ہے۔وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩۩﴿15﴾
اور جتنی مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے۔ خوشی سے یا زبردستی سے اللہ کے آگے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام سجدے کرتے ہیں۔قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴿16﴾
ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کا رب کون ہے ؟ کہہ دیجئے کہ ”اللہ“۔ پھر ان سے کہیے کیا تم نے اللہ کو چھوڑ کر اولیاء کو کارساز بنایا ہے، جو خود اپنے نفع و نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے، یہ بھی پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں ؟ یا اندھیرا اور اجالا برابر ہوسکتا ہے ؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو اللہ کا شریک مقرر کیا ہے، کیا انہوں نے اللہ کی سی مخلوق پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ اللہ ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہی اکیلا اور زبردست ہےاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ﴿17﴾
اسی نے آسمان سے مینہ برسایا، پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے، پھر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے، سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہوجاتا ہے اور پانی جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح اللہ (غلط اور صحیح کی) مثالیں بیان کرتا ہے (تاکہ تم سمجھو)۔لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ع﴿18﴾
جن لوگوں نے اللہ کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں دے ڈالیں تو نجات نہ ہوگی۔ ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ﴿19﴾
بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ اور نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہیں۔الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ﴿20﴾
جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اقرار کو نہیں توڑتےوَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ﴿21﴾
اور جن قرابت کے رشتوں کو جوڑے رکھنے کا حکم اللہ نے دیا ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف کھاتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ﴿22﴾
اور جو رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے تکلیفوں پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں اور برائی کا جواب نیکی سے دیتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے عاقبت کا گھر ہے۔جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ﴿23﴾
یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ، دادا، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی بہشت میں جائیں گے اور فرشتے بہشت کے ہر ایک دروازے سے ان کے پاس آئیں گے۔سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ﴿24﴾
اور کہیں گے تم پر رحمت ہو یہ تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب گھر ہے۔وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ﴿25﴾
اور جو لوگ اللہ سے پکا وعدہ کر کے توڑ دیتے ہیں۔ جن قرابت کے رشتوں کو جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے وہ ان کو توڑے دیتے ہیں، اور ملک میں فساد کرتے ہیں ایسوں پر لعنت ہے اور ان کے لیے گھر بھی برا ہے۔اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ع﴿26﴾
اللہ جس کو چاہتا ہے فراخ رزق دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے اور کافر لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں، اور دنیا کی زندگی کا آخرت کے مقابلہ میں بہت تھوڑا فائدہ ہے۔وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ﴿27﴾
اور کافر کہتے ہیں اس پیغمبر پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اس کو اپنی طرف کا راستہ دکھاتا ہے۔اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ﴿28﴾
جو لوگ ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں، اور سن رکھو کہ اللہ کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں۔اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ﴿29﴾
جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے خوش حالی اور عمدہ ٹھکانا ہے۔كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ﴿30﴾
(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے نبی ﷺ !) ہم نے آپ کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ آپ ان کو وہ کتاب جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دیں اور یہ لوگ رحمن کو نہیں مانتے، فرما دیں کہ وہی تو میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں اسی پر بھروسا رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ع﴿31﴾
اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس کے اثر سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے تو (پھر بھی وہ ایمان نہ لاتے۔) بات یہ ہے کہ سب کام اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ تو کیا مومنین کو اس بات سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت کے راستے پر چلا دیتا، اور کفار پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی۔ یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آپہنچے، بیشک اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ﴿32﴾
اور آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ہنسی مذاق ہوتے رہے ہیں۔ تو میں نے کافروں کو مہلت دی، پھر پکڑ لیا سو دیکھ لو کہ (ہمارا) عذاب کیسا تھا۔اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ﴿33﴾
تو کیا اللہ جو ہر متنفس کے اعمال کا نگران اور نگہبان ہے، (وہ بتوں کی طرح بےعمل اور بیخبر ہوسکتا ہے ؟) اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں، ان سے کہو کہ ذرا ان کے نام تو بولو۔ کیا تم اس کو ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں کہیں بھی نہیں پاتا، صرف ظاہری اور جھوٹی بات کی تقلید کرتے ہو، اصل یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ ہدایت کے راستے سے روک لیے گئے ہیں۔ اور جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں۔لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ﴿34﴾
ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے۔ اور ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ﴿35﴾
جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کی صفات یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، اس کے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں اور اس کے سائے بھی، یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں اور کافروں کا انجام دوزخ ہے۔وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ﴿36﴾
اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اس کتاب سے جو آپ پر نازل ہوئی ہے خوش ہوتے ہیں اور بعض فرقے اس کی بعض باتیں نہیں بھی مانتے، کہہ دو کہ مجھ کو یہی حکم ہوا ہے کہ اللہ ہی کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائوں، میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے لوٹنا ہے۔وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ع﴿37﴾
اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے، اور اگر آپ عقل و دانش آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلیں گے تو اللہ کے سامنے نہ تو کوئی آپ کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ﴿38﴾
(اے نبی ﷺ ہم نے آپ سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے تھے اور ان کی بیبیاں اور اولاد بھی تھی، اور کسی پیغمبر کے اختیار کی بات نہ تھی کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نشانی لائے، ہر حکم لوح محفوظ میں درج ہے۔یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ﴿39﴾
اللہ جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے، اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے۔وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ﴿40﴾
اور اگر ہم کوئی عذاب، جس کا ان لوگوں سے وعدہ کرتے ہیں، آپ کو دکھائیں (تمہارے سامنے ان پر نازل کریں) یا آپ کی زندگی پوری ہونے کے بعد عذاب بھیجیں تو آپ کا کام احکام پہنچا دینا ہے اور ہمارا کام حساب لینا ہے۔اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿41﴾
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آئے ہیں، اور اللہ جیسا چاہتا ہے حکم کرتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹالنے والا نہیں۔ وہ جلد حساب لینے والا ہے۔وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ﴿42﴾
جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی بہتیری چالیں چلتے رہے ہیں، سو سب تدبیر اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے۔ ہر شخص جو کچھ کر رہا ہے وہ اسے جانتا ہے اور کافر جلد معلوم کرلیں گے کہ عابقت کا گھر کس کا ہے۔وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ع﴿43﴾
اور کافر لوگ کہتے ہیں، کہ آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں، کہہ دیں کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ اور وہ شخص جس کے پاس آسمانی کتاب کا علم ہے گواہ کافی ہے۔