57. Al-Hadidالحديد
The Iron · Medinan · 29 ayahs · 4 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿1﴾
اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو کوئی بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ اور وہی زبردست ہے حکمت والا ہے۔لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿2﴾
اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں وہی حیات دیتا ہے اور (وہی) موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قاد رہے۔هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿3﴾
وہی ہے (سب سے) پہلے اور (سب سے) پیچھے اور (وہی) ظاہر ومخفی بھی اور وہی ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿4﴾
وہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کردیا پھر تخت شاہی پر قائم ہوگیا۔ وہ اسے بھی جانتا ہے جو چیز زمین کے اندر داخل ہوتی ہے اور (اسے بھی جانتا ہے) جو چیز اس میں سے نکلتی ہے اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے۔ اور وہ تمہارے ساتھ ہے خواہ تم کہیں بھی ہو اور وہ خوب دیکھتا رہتا ہے جو کچھ بھی تم کرتے رہتے ہو۔لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ﴿5﴾
اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف (سب) امور لوٹ جائیں گے۔یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿6﴾
وہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور وہی داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور وہ دلوں (کی بات) تک خوب جانتا ہے۔اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ﴿7﴾
ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور جس مال میں اس نے دوسروں کا جانشین بیان ہے اس میں سے خرچ کرو سو جو لوگ تم میں سے ایمان لے آئیں اور خرچ کریں انہیں بڑا اجر ہوگا۔وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿8﴾
آخر تمہیں کیا ہوگیا ہے جو تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے ہو درآنحالیکہ رسول تمہیں بلا رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ اور (اللہ خود) تم سے اس کا اقرار لے چکا ہے۔۔ اگر تم کو ایمان لانا ہوهُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴿9﴾
وہ وہی ہے جو اپنے بندہ پر صاف آیتیں اتارتا ہے تاکہ تم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال لائے اور بیشک اللہ تمہارے اوپر شفیق ہے بڑا مہربان ہے۔وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ع﴿10﴾
تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ہو درآنحالیکہ آسمان اور زمین سب آخر میں اللہ ہی کے رہ جائیں گے۔ تم میں جو لوگ فتح (مکہ) سے قبل ہی خرچ کرچکے اور لڑچکے (وہ ان کے برابر نہیں جو بعد فتح لڑے اور خرچ کیا) وہ لوگ درجہ میں بڑھے ہوئے ہیں ان لوگوں سے جنہوں نے بعد کو خرچ کیا اور لڑے اور اللہ نے بھلائی کا وعدہ تو سب ہی سے کر رکھا ہے اور اللہ کو تمہارے اعمال کی پوری خبر ہے۔مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ﴿11﴾
کوئی شخص ہے جو اللہ کو اچھی طرح قرض کے طور پردے پھر اللہ اسے اس شخص کیلئے بڑھاتا چلا جائے اور اس کے لئے اجر پسند یدہ ہے وہ دن۔یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ﴿12﴾
) بھی یاد رکھنے کے قابل ہے) جب ایمان والوں اور ایمان والیوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کی داہنی طرف دوڑتا ہوگا۔ آج تم کو بشارت ہے باغوں کی جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہو گے (اور) یہی بڑی کامیابی ہے۔یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ﴿13﴾
یہ وہ دن ہوگا جب منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہیں گی کہ ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ حاصل کرلیں۔ (ان سے) کہا جائے گا تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر (وہیں) روشنی تلاش کرو۔۔ پھر ان (فریقین) کے درمیان ایک دیوار قائم کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا کہ اس کی اندروانی جانب میں رحمت ہوگی اور اس کی بیرونی جانت کی طرف عذاب ہوگا۔یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ﴿14﴾
منافقین) پکار کر (مومنین سے) کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے وہ کہیں گے ہاں تھے تو لیکن تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا اور تم راستہ دیکھا کرتے تھے اور تم شک رکھتے تھے اور تم کو تمہاری بیہودہ تمناؤں نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آپہنچا اور تم کو بڑے فریبییے نے اللہ کے ساتھ فریب میں ڈالے رکھا۔فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿15﴾
غرض آج نہ تم سے کوئی معاوضہ لیاجائے گا اور نہ کافروں سے تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے وہی تمہاری رفیق ہے اور وہ کیسا بر اٹھکانا ہے۔اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ﴿16﴾
کیا ایمان والوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت اور جو دین حق نازل ہوا ہے اس کے آگے جھک جائیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں ان کے قبل کتاب ملی تھی پھر ان پر ایک لمبازمانہ گزر گیا تو ان کے دل خوب سخت ہوگئے اور ان میں کے بہت سے کافر ہیں۔اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿17﴾
جانے رہو کہ اللہ ہی زمین کو اس کے خش ہوئے پیچھے زندہ ردیتا ہے ہم نے مثالیں تمہارے سامنے کھول کر پیش کردی ہیں تاکہ تم سمجھو۔اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ﴿18﴾
بلاشبہ صدقہ دینے والے اور صدقہ دینے والیاں (یہ جو) اللہ کو خلوص کے ساتھ (قرضہ دیں) تو وہ صدقہ ان کے لئے بڑہا یا جائے گا اور ان کے لئے اجر پسندیدہ ہے۔وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ع﴿19﴾
اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر (پورا) ایمان رکھتے ہیں وہی تو اپنے پروردگار کے ہاں صدیق اور شہید ہیں ان کے لئے ان کا اجر اور ان کا نور (خاص) ہوگا۔ اور جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخی ہیں خوب جان لواِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ﴿20﴾
کہ دنیوی زندگی محض ایک کھیل کود اور (ظاہری) خوشنمائی اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال واولاد میں ایک دوسرے پر اپنی برتری جتلانا ہے۔ گویا کہ مینہ ہے کہ اس کی پیداوار کاشتکاروں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر خشک ہوجاتی ہے سو تو اسے زرد دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے۔ اور آخرت میں عذاب شدید بھی ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی بھی اور دنیوی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴿21﴾
دوڑو اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت کی سی ہے۔ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں یہ اللہ کا فضل ہے وہ اپنا فضل جسے چاہے عطا کرے اور اللہ ہی بڑے فضل والا ہے۔مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ﴿22﴾
کوئی سی بھی مصیبت نہ دنیا میں آتی ہے اور نہ خاص تمہاری جانوں میں مگر یہ کہ (سب) ایک رجسٹر میں (لکھی ہیں) قبل اس کے کہ ہم ان جانوں کو پیدا کریں یہ اللہ کیلئے آسان ہے۔لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ﴿23﴾
) یہ بات بتادی گئی ہے) تاکہ جو چیز تم سے لی جارہی ہے اس پر (اتنا) رنج نہ کرو اور جو چیز اس نے تمہیں دی ہے اس پر اتراؤ نہیں۔ اور اللہ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا۔اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ﴿24﴾
(وہ لوگ ایسے ہیں) جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔ اور جو کوئی روگردانی اختیار کرے گا تو اللہ تو (سر تا سر) بےنیاز ہے ستودہ صفات ہے۔لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠﴿25﴾
ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی ہوئی چیزیں دے کر بھیجا۔ اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور انصاف کرنے کو نازل کیا تاکہ لوگ اعتدال پر قائم رہیں۔ اور اس لئے بھی تاکہ اللہ جان لے کہ بےدیکھے اس کی اور اسکے پیغمبروں کی مدد کون کرتا ہے۔ بیشک اللہ (بڑا) قوت والا ہے (بڑا) زبردست ہے۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَع﴿26﴾
اور ہم نے نوح اور ابراہیم ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب جاری کردی۔ سو ان میں سے ہدایت یافتہ بھی ہوئے اور اکثر ان میں کے نافرمان نکلے۔ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ﴿27﴾
پھر ہم ان کے بعد اپنے پیغمبروں کو یکے بعدد یگرے بھیجتے رہے اور ان کے بعد ہم نے عیسیٰ ؑ ابن مریم کو بھیجا۔ اور ہم نے انہیں انجیل دی۔ اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کے دلوں میں ہم شفقت اور نرمی رکھ دی تھی۔ اور رہبانیت کو انہوں نے خود ایجاد کرلیا ہم نے ان پر واجب نہیں کیا تھا بلکہ انہیں نے اللہ کی رضا مندی کی خاطر (اسے اختیار کرلیا تھا)۔ سو انہوں نے اس کی رعایت پوری پوری نہ کی۔ سوا ان میں سے جو (اب) ایمان لائے ہم نے انہیں ان کا اجر دیا اور زیادہ تو ان میں کے نافرمان ہی ہیں۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ﴿28﴾
اے ایمان والو اللہ سے ڈور اور اس کے پیغمبر پر ایمان لاؤ اللہ تم کو اپنی رحمت سے دو حصہ دے گا۔ اور تمہارے لئے (وہ) نور پیدا کردے گا کہ تم اسے لئے چلو پھر وگے اور وہ تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحم کرنے والا ہے۔لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ع﴿29﴾
(اور یہ دولتیں اس لئے عطا کرے گا) تاکہ اہل کتاب کو (قیامت میں) معلوم ہوجائے کہ انہیں اللہ کے فضل کے کسی چیز پر بھی دسترس نہیں اور یہ کہ فضل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے عطا کرے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔