2. Al-Baqaraالبقرة

The Cow · Medinan · 286 ayahs · 40 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓمّٓۚ﴿1﴾

    الف الام میم
  2. ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ﴿2﴾

    یہ کتاب (کہ) کوئی شبہ اس میں نہیں ہدایت ہے (اللہ سے) ڈر رکھنے والوں کے لئے
  3. الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ﴿3﴾

    جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور نماز کی پابندی کرتے ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔
  4. وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ﴿4﴾

    اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اس پر جو آپ پر اتارا گیا ہے ۔ اور (اس پر) جو آپ سے قبل اتارا گیا ہے۔ اور آخرت پر بھی (وہ) پورا یقین رکھتے ہیں۔
  5. اُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿5﴾

    : یہی لوگ اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ اور یہی (پورے) بامراد ہیں۔
  6. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿6﴾

    ترجمہ بیشک جو لوگ کفر (اختیار) کئے ہوئے ہیں۔ ان کے حق میں یکساں ہے خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا آپ انہیں نہ ڈرائیں۔ وہ ایمان نہ لائیں گے۔
  7. خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ع﴿7﴾

    مہر لگا دی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کی شنوائی پر۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ اور ان کے لئے بڑا (ہی) عذاب ہے۔
  8. وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ﴿8﴾

    اور کچھ لوگ ایسے (بھی) ہیں جو کہتے ہیں۔ کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ اور روز آخرت پر حالانکہ وہ (بالکل ہی) ایمان والے نہیں
  9. یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ﴿9﴾

    دھوکا دینا چاہتے ہیں اللہ کو اور ایمان والوں کو۔ حالانکہ (فی الواقع) دھوکا کسی کو بھی نہیں دیتے بجز اپنی ذات کے۔ اور اس کا بھی احساس نہیں رکھتے۔
  10. فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ﴿10﴾

    ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ سو اللہ نے بڑھا دی ان کی بیماری۔ اور ان کے لیے عذاب درد ناک (ہونا) ہے۔ : اس لئے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے
  11. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ﴿11﴾

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد مت پھیلاؤ تو کہتے ہیں کہ ارے ! ہم تو اصلاح کررہے ہیں
  12. اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ﴿12﴾

    سن رکھو حقیقۃ یہی لوگ فسادی ہیں اور یہ اس کا بھی احساس نہیں رکھتے
  13. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ﴿13﴾

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لے آؤ جیسا کہ لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں کہ کہا ہم (ایسا) ایمان لے آئیں جیسا کہ بیوقوف ایمان لائے ہیں ؟ سن رکھو کہ بیوقوف تو خود یہی لوگ ہیں اور اس کبھی علم نہیں رکھتے۔
  14. وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ﴿14﴾

    اور جب ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لاچکے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ ہم بھی تو ایمان لاچکے ہیں۔ اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو محض بنا رہے تھے۔
  15. اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿15﴾

    انہیں اللہ بنا رہا ہے۔ اور وہ انہیں ڈھیل دے رہا ہے (تو) وہ اپنی سرکشی میں سرگردان ہورہے ہیں
  16. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ﴿16﴾

    یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے گمراہی خرید کرلی ہدایت کے بدلے سو نہ ان کی تجارت ہی سود مند ہوئی اور نہ وہ راہ یاب ہوئے۔
  17. مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ﴿17﴾

    ان کی (عجیب) مثال تو ان کی سی (عجیب) مثال ہے۔ جنہوں نے آگ جلائی پھر جب آگ نے اپنے اردگرد کو روشن کردیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی سلب کرلی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑد یا کہ کچھ دیکھتے بھالتے نہیں
  18. صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ﴿18﴾

    (وہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں۔ تو اب وہ واپس نہ ہوں گے۔۔
  19. اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ﴿19﴾

    یا پھر جیسے آسمان سے زور کا مینہ برس رہا ہو۔ اس میں اندھیرے ہیں اور گرج اور بجلی۔ وہ ٹھونسے ہوئے ہیں اپنے کانوں میں انگلیاں کڑک کے سب ب موت کے اندیشہ سے۔ حالانکہ اللہ گھیرے ہوئے ہے کافروں کو۔
  20. یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ع﴿20﴾

    قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائی ہی اچک لے جائے۔ وہ جب ان پر چمکتی ہے تو اس کی روشنی میں یہ چلتے ہیں اور جہاں ان پر اندھیرا ہوا (تو بس) کھڑے رہ جاتے ہیں۔ اللہ اگر چاہتا تو ان کے کان اور ان کی بینائی سلب کرلیتا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
  21. یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ﴿21﴾

    اے انسانو !۔ عبادت (اختیار) کرو اپنے پروردگار کی۔ جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اور تم سے قبل والوں کو (بھی)۔ عجب نہیں کہ تم پرہیز گا بن جاؤ۔
  22. الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿22﴾

    (وہ) وہی (پروردگار) ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرش اور آسمان کو ایک چھت بنادیا ہے۔۔ اور آسمان سے پانی اتارا۔ پھر تمہارے لئے غذا کو پھل پیدا کئے۔ سو تم اللہ کے ہمسر نہ ٹھہراؤف۔ تم جانتے (بوجھتے) بھی ہو۔۔
  23. وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿23﴾

    اور اگر تم اس کتاب ہی کے بارے میں شک میں ہو۔ جو ہم نے اپنے بندہ پر اتاری ہے۔ تو کوئی ایک سورت اس جیسی تم بھی بنا لاؤف۔ اور اپنے حمایتیوں کو بھی اللہ کے مقابلے میں بلالوف۔ اگر تم سچے ہو۔
  24. فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ﴿24﴾

    اور اگر تم (یہ) نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکو گے۔ تو پھر اس آگ سے ڈروف۔ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ (اور) وہ کافروں کے لئے تیار کی ہوئی ہے۔۔
  25. وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿25﴾

    اور ان لوگوں کو خوشخبری سنا دیجیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے۔ کہ ان کے لئے (بہشت کے) باغ ہیں کہ ان کے نیچے دریا بہ رہے ہوں گے۔ انہیں جب کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا تو وہ بول اٹھیں گے۔ کہ یہ تو وہی ہے جو ہمیں (اس کے) قبل مل چکا ہے۔ اور انہیں وہ (واقعی) دیا ہی جائے گا ملتا جلتا ہوا۔ اور ان کے لئے پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ اور وہ ان (بہشتوں) میں ہمیشہ کے لئے ہوں گے۔
  26. اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ﴿26﴾

    اللہ اس سے ذرا نہیں شرماتا۔ کہ کوئی مثال بیان کرے مچھر کی یا اس سے بھی بڑھ کر (کسی اور چیز کی) سو جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ تو یہی سمجھیں گے کہ وہ (مثال) یقیناً حق ہے ان کے پروردگار کی جانب سے۔ البتہ جو لوگ کفر اختیار کئے ہوئے ہیں وہ یہی کہتے رہیں گے۔ کہ اللہ کا اس مثال سے مطلب کیا تھا ؟۔ گمراہ بھی کرتا ہے بہتوں کو اسی سے۔ اور راہ بھی دکھاتا ہے بہتوں کو اسی سے۔ ہاں وہ گمراہ کسی کو (بھی) اس سے نہیں کرتا بجربے حکمی کرنے والوں کے۔
  27. الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿27﴾

    جو اللہ سے اپنے معاہدہ کو اس کے استحکام کے بعد توڑتے ہیں۔ اور جس چیز کو اللہ نے حکم دیا تھا جوڑے رکھنے کا اسے کاٹتے ہیں۔ اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ تو بس یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے۔
  28. كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿28﴾

    تم لوگ کس طرح کفر کرسکتے ہو اللہ سے درآنحالیکہ تم بےجان تھے۔ سو اس نے تمہیں جاندار کیا۔ پھر وہی تمہیں موت دے گا۔ پھر وہی تمہیں زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تم واپس کئے جاؤگے۔
  29. هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ع﴿29﴾

    وہ وہی (خدا) ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ بھی زمین میں ہے سب کا سب۔ پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ کی۔ اور انہیں سات آسمان درست کرکے بنادیا۔ اور وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
  30. وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿30﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو)۔ جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے کہا۔ میں زمین پر اپنا نائب بنانا چاہتا ہوں۔ وہ بولے کیا تو اس میں ایسے کو بنائے گا جو اس میں فساد برپا کرے گا اور خون بہائے گا درآنحالیکہ ہم تیری حمد کی تسبیح کرتے رہتے ہیں ۔ اور تیری پاکی پکارتے رہتے ہیں ؟ (اللہ نے) فرمایا یقیناً میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
  31. وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿31﴾

    اور اللہ نے آدم کو نام سکھلادیئے کل کے کل۔ پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا۔۔ پھر فرمایا بتلاؤ تو ان کے نام اگر تم سچے ہو۔۔
  32. قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿32﴾

    وہ بولے تو پاک ذات ہے۔ ہمیں تو کچھ علم نہیں مگر ہاں وہی جو تو نے ہمیں علم دے دیا۔۔ بیشک تو ہی ہے بڑا علم والا۔ حکمت والا۔۔
  33. قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ﴿33﴾

    (اللہ نے) فرمایا اے آدم بتلا دو انہیں ان کے نام۔۔ پھر جب انہوں نے انہیں ان کے نام بتلادیئے۔۔ تو فرمایا۔ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزیں جانتا ہوں اور جو کہ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ تم چھپاتے ہو وہ سب جانتا ہوں۔۔
  34. وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ﴿34﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے فرشتوں سے کہا۔ کہ آدم ؑ کے آگے جھکو۔ تو (وہ سب) جھکے مگر ابلیس (نہ جھکا)۔ اس نے انکار کیا اور تکبر میں آگیا۔ اور کافروں میں سے ہوگیا۔۔
  35. وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿35﴾

    اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہوسہو اور اس میں جہاں سے چاہو خوب کھاؤ۔ اور اس درخت کے پاس نہ جانا۔ ورنہ تم گنہ گاروں میں سے ہوجاؤ گے۔
  36. فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ﴿36﴾

    پھر شیطان نے دونوں کو پھسلایا اسی درخت کے باعث۔ اور جس میں تھے اس سے انہیں نکلوادیا۔ اور ہم نے کہا (اب) تم سب نیچے اتر جاؤ۔ ایک دوسرے کے دشمن ہوکر۔ اور تمہارے لئے زمین ہی پر ٹھکانا اور ایک میعاد تک نفع اٹھانا ہے۔
  37. فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴿37﴾

    پھر آدم ؑ نے اپنے پروردگار سے کچھ الفاظ سیکھ لئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرلی وہ تو ہی بڑا توبہ قبول کرنے والا۔ بڑا مہربان۔
  38. قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿38﴾

    (اور) ہم نے حکم دیا کہ تم سب اس سے نیچے اتر جاؤ۔ پھر اگر تمہیں میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے۔ تو جو جو کوئی پیروی میری ہدایت کی کرے گا سو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہی ہوں گے۔
  39. وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ع﴿39﴾

    اور جو لوگ کفر کریں گے اور ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے سو وہی دوزخی ہیں۔ اور وہ اس میں (ہمیشہ) پڑے رہیں گے۔۔
  40. یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ﴿40﴾

    اے بنی اسرائیل۔ میرا وہ انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کیا۔۔ اور مجھ سے وعدہ پورا کرو تو میں تم سے وعدہ پورا کروں۔۔ اور تم صرف مجھ سے ڈرتے رہو۔۔
  41. وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ﴿41﴾

    اور اس (کتاب) پر ایمان لاؤجو میں نے (اب) نازل کی ہے تصدیق کرتی ہوئی اس (کتاب) کی جو تمہارے پاس ہے اور مت بنو اس کے ساتھ اولین کفر کرنے والے۔۔ اور میری آیتوں کو فروخت مت کرڈالو تھوڑی سی قیمت پر۔ اور صرف مجھ سے ڈرو۔۔
  42. وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿42﴾

    اور حق کو ناحق کے ساتھ خلط ملط مت کرو۔۔ اور حق کو مت چھپاؤ۔۔ درآنحالیکہ تم جان بھی رہے ہو۔
  43. وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ﴿43﴾

    ۔ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور (نماز میں) جھکنے والوں کے ساتھ جھکتے رہو۔
  44. اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿44﴾

    کیا تم دوسرے لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے کو بھول جاتے ہو ؟۔ درآنحالیکہ تم کتاب (الہی) پڑہتے رہتے ہو۔ سو کیا تم عقل سے کام (ہی) نہیں لیتے ؟
  45. وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ﴿45﴾

    اور صبر اور نماز سے مددچاہو۔ اور وہ بیشک گراں مگر خشوع رکھنے والوں پر (نہیں)
  46. الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ع﴿46﴾

    جنہیں اس کا خیال رہتا ہے کہ انہیں اپنے پروردگار سے ملنا (بھی) ہے اور اس کا کہ انہیں اس کی طرف واپس ہونا ہے۔۔
  47. یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ﴿47﴾

    اے بنی اسرائیل میرا وہ انعام یاد کرو جو میں نے تم پر کیا ۔ اور تمہیں دنیا جہان والوں پر فضیلت دی۔
  48. وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ﴿48﴾

    اور اس دن سے ڈرتے رہو جب نہ کوئی کسی کے حق میں بدلہ بن سکے گا اور نہ کسی کے حق میں سفارش قبول ہوگی اور نہ کسی سے معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ انہیں مدد ہی پہنچ سکے گی۔
  49. وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ﴿49﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی تھی جو تمہارے اوپر بڑا عذاب توڑ رہے تھے۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے۔ اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔
  50. وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ﴿50﴾

    : اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تمہارے لئے سمندر کو پھاڑ دیا تھا۔ پھر ہم نے تمہیں نجات دے دی اور فرعون والوں کو غرق کردیا درآنحالیکہ تم دیکھ رہے تھے۔
  51. وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ﴿51﴾

    ترجمہ اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ کرلیا تھا۔ پھر تم نے ان کے پیچھے گوسالہ کو اختیار کرلیا۔ اور تم (سخت) ظالم تھے۔
  52. ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿52﴾

    پھر ہم نے تم کو اس کے بعد بھی معاف کردیا۔ کہ شاید تم شکرگزار بن جاؤ۔
  53. وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ﴿53﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور فرقان دیئے تاکہ تم راہ یاب ہوجاؤ۔
  54. وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴿54﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا۔ کہ اے میری قوم یقیناً ! تم لوگوں نے اپنے اوپر (بڑا) ظلم کیا اپنی گوسالہ گیری سے۔ سو اب اپنے خدا سے توبہ کرو۔ پھر اپنے اشخاص کو قتل کرو۔ یہی بہتر ہے تمہارے حق میں تمہارے خدا کے نزدیک۔ پھر اس نے تمہاری توبہ قبول کرلی۔ بیشک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا بڑا مہربان ہے۔
  55. وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ﴿55﴾

    : اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز نہ باور کریں گے تمہارے (کہنے سے) ۔ جب تک کہ ہم خدا کو دیکھ نہ لیں علانیہ۔ سو (اس پر) تم کو آلیا کڑک نے۔ اور تم (اس کا آنا) دیکھ رہے تھے۔
  56. ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿56﴾

    پھر ہم نے تم کو جلا اٹھایا تمہارے مرے پیچھے۔ کہ شاید تم شکر گزاربنو۔
  57. وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿57﴾

    اور ہم نے تمہارے اوپر ابر کا سایہ کردیا۔ اور ہم نے تمہارے اوپر من وسلوی اتارا۔ کھاؤان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو دے رکھی ہیں ۔ اور انہوں نے زیادتی ہم پر نہیں کی بلکہ زیادتی اپنی ہی جانوں پر کرتے رہے۔
  58. وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ﴿58﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے کہا تھا۔ کہ اس بستی میں داخل ہوجاؤ۔ اور اس میں جہاں سے چاہوخوب کھاؤ پیو۔ اور دروازہ (شہر) میں عاجزی سے جھکے ہوئے داخل ہونا۔ اور کہتے جانا توبہ ہے۔ ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور ہم نیک کاروں کو زیادہ ہی دیتے ہیں۔
  59. فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ع﴿59﴾

    مگر ان زیادتی کرنے والوں نے جو انہیں بتایا گیا تھا اس کے خلاف ایک اور کلمہ بدل ڈالا۔ سو ہم نے ان زیادتی کرنے والوں پر ایک بلاآسمان سے نازل کی۔ اس سبب سے کہ وہ نافرمانی کرتے رہے تھے۔
  60. وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ﴿60﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا مانگی۔ سو ہم نے کہا (اے موسی) اپنا عصا (فلاں) پتھر پر مارو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ (اور) ہر گروہ نے اپنا (اپنا) گھاٹ معلوم کرلیا۔ کھاؤ پیو اللہ کے (دیئے ہوئے) رزق میں سے اور زمین پر فسادی بن کر مت پھرو۔
  61. وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ع﴿61﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز ایک کھانے پر بس نہیں کرسکتے۔ سو اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا کردیجئے ان چیزوں کی جنہیں زمین اگاتی ہے۔ ساگ ہوا ککڑی ہوئی گیہوں ہوا مسور ہوئی پیاز ہوا۔ (موسی ؑ نے) کہا تو کیا جو شیز ادنی ہے تم اسے لینا چاہتے ہو اس چیز کے مقابلہ میں جو بہتر ہے (تو خیر) کسی شہر میں اتر پڑو (وہیں) مل جائے گا جو کچھ تم مانگتے ہو۔ اور ان پر جما دی گئی ذلت اور محتاجی۔ اور وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوگئے۔ یہ (سب) اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی نشانیوں سے انکار کرتے رہتے تھے۔ اور انبیاء کو ناحق قتل (تک) کر ڈالتے تھے۔ یہ (سب) اس لئے ہوا کہ وہ نافرمانی کرتے اور حد سے بڑھ بڑھ جاتے تھے۔
  62. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿62﴾

    بیشک جو لوگ ایمان لاچکے ہیں۔ اور جو لوگ یہودی ہوئے ۔ اور نصاری۔ اور صابی۔ (غرض) جو کوئی بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئے۔ اور نیک عمل کرے۔ سو ان (سب) کے لیے ان کے پروردگار کے پاس ان کا اجر ہے اور نہ کوئی اندیشہ ان کے لیے ہے اور نہ وہ کوئی غم کریں گے۔
  63. وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴿63﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے عہدلیا۔ اور ہم نے تمہارے اوپر (کوہ) طور کو بلند کیا۔ مضبوطی کے ساتھ اس (کتاب) کو پکڑ رکھو جو ہم نے تم کو دی ہے۔ اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
  64. ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿64﴾

    پھر تم اس (عہد) سے اس کے بعد (بھی پھرگئے۔ سو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم ضرور تباہ ہونے والوں میں ہوتے۔
  65. وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ﴿65﴾

    اور تم خوب جان چکے ہو ان لوگوں کو جنہوں نے تم میں سے سبقت کے بارے میں تجاوز کیا تھا۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ۔
  66. فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ﴿66﴾

    ہم نے اسے (موجب) عبرت بنادیا اس زمانہ کے اور اس کے بعد کے لوگوں کے لیے۔ اور ایک (موجب) نصیحت (بنادیا) خوف خدا کے رکھنے والوں کے لیے۔
  67. وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ﴿67﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ تمہیں اللہ حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو۔ وہ بولے آپ ہم سے ہنسی کررہے ہیں کیا ؟۔ موسیٰ نے کہا خدا مجھے اس سے پناہ میں رکھے کہ میں جاہلوں میں ہوجاؤں۔
  68. قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ﴿68﴾

    وہ بولے ہماری طرف سے اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں بتائے کہ وہ کیسی ہو کہا کہ وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو نہ بن بیائی (بلکہ) دونوں عمروں کے درمیان ہو سو (اب) کرڈالوجو کچھ تمہیں حکم ملا ہے
  69. قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ﴿69﴾

    وہ بولے ہماری طرف سے اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہے۔ کہا کہ وہ فرماتا ہے کہ گائے خوب گہرے زرد رنگ کی ہو دیکھنے والوں کو اچھی معلوم ہوتی ہو۔
  70. قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ﴿70﴾

    وہ بولے اپنے پروردگار سے ہماری طرف سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں بتائے کہ وہ (اور) کیسی ہو ؟ اس لیے کہ گائے میں ہمیں اشتباہ پڑگیا ہے۔ اور اللہ نے چاہا تو ہم ضرور راہ پاجائیں گے۔
  71. قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ع﴿71﴾

    کہا کہ وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے محنت کرنے والی نہ ہو جو زمین کو جوتتی ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو۔ اس میں (کوئی) داغ (دھبہ) نہ ہو۔ وہ بولے اب آپ ٹھیک پتہ لائے۔ پھر انہوں نے اسے ذبح کیا اور وہ ایسا کرتے معلوم نہیں ہوتے تھے۔
  72. وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ﴿72﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو قتل کرڈالا تھا۔ پھر تم آپس میں اس باب میں جھگڑنے لگے۔ اور اللہ کو وہ ظاہر کردینا تھا جسے تم چھپا رہے تھے۔۔
  73. فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿73﴾

    تو ہم نے کہا کہ اس (میت) پر اس (گائے) کا کوئی ٹکڑا مارو۔ یوں ہی اللہ مردوں کو زندہ کرے گا۔ اور وہ تم کو اپنی نشانیاں۔ دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔
  74. ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿74﴾

    اس پر بھی تمہارے دل اس کے بعد بھی سخت ہی رہے۔ چناچہ وہ مثل پتھر کے ہیں بلکہ سختی میں ان سے بھی بڑھ کر۔ اور پتھر تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس سے دریا پھوٹ نکلتے ہیں۔ اور کوئی ان میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ پھٹ جاتا ہے اور اس میں سے پانی نکلتا ہے۔ اور کوئی ان میں سے ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ کی ہیبت سے نیچے آگرتا ہے۔ اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں۔
  75. اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿75﴾

    تو کیا تم اس کی توقع رکھتے ہو۔ کہ وہ لوگ تمہارے (کہنے سے) ایمان لے آئیں گے۔ درآنحالیکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کا کلام سنتے ہیں پھر اسے کچھ کا کچھ کردیتے ہیں بعد اس کے کہ اسے سمجھ چکے ہیں اور وہ اسے (خوب) جانتے بھی ہیں۔
  76. وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿76﴾

    اور جب وہ ان سے ملتے ہیں جو ایمان لاچکے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں تنہا ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ ارے کیا تم انہیں وہ بتا دیتے ہو جو خدا نے تم پر منکشف کیا ہے۔ جس سے وہ تمہیں تمہارے پروردگار کے حضور میں قائل کردیں گے سو کیا تم نہیں سمجھتے ؟۔
  77. اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ﴿77﴾

    کیا یہ (اتنا بھی) نہیں جانتے کہ اللہ کو اس کی بھی خبر ہے جسے یہ چھپاتے ہیں اور اس کی بھی جسے یہ جتلاتے ہیں ؟۔
  78. وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ﴿78﴾

    اور ان میں ان پڑھ (بھی) ہیں جو کتاب (الہی) کا کوئی علم نہیں رکھتے بجز جھوٹی آرزوؤں کے اور یہ محض تخیلات میں پڑے رہتے ہیں۔
  79. فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ﴿79﴾

    سو (بڑی) خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو کتاب (الہی) کو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔ تاکہ اس سے قدرے قلیل معاوضہ حاصل کریں۔ سوخرابی ہے ان کے لیے اس کی بدولت جو وہ اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں۔ اور خرابی ہے ان کے لیے اس کی بدولت جو وہ حاصل کرتے ہیں۔
  80. وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿80﴾

    اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کو تو دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں بجز چند گنے چنے دنوں کے۔ آپ کہیے کیا تم اللہ کے ہاں سے کوئی وعدہ پاچکے ہو جو اللہ اب اپنے وعدہ کے خلاف نہ کرے گا ؟) یا (یوں ہی) اللہ پر وہ جوڑ رہے ہو جس کا علم تم نہیں رکھتے۔
  81. بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿81﴾

    (نہیں) بلکہ اصل یہ ہے کہ جو کوئی بھی بدی اختیار کرے گا اور اس کا گناہ اس کو گھیر لے گا سو یہی لوگ اہل دوزخ ہیں۔ اس میں ہمیشہ پڑے رہنے والے۔
  82. وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ع﴿82﴾

    اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں تو یہی لوگ اہل جنت ہیں اس میں ہمیشہ رہنے والے۔
  83. وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿83﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔ کہ عبادت نہ کرنا (کسی کی) بجز اللہ کے۔ اور حسن سلوک سے پیش آنا (اپنے) ماں باپ سے اور قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے بھی) ۔ اور لوگوں سے (بالعموم) بھلی بات کہنا۔ اور نماز قائم رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا۔ پھر تم (سب ان احکام سے) پھرگئے بجز تم میں سے (معدودے) چند کے اور تم ہی ہو گردن کش۔
  84. وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ﴿84﴾

    اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ اپنوں کا خون نہ بہانا۔ اور اپنے لوگوں کو اپنے وطن سے مت نکالنا پھر تم نے اس کا اقرار کرلیا اور تم (اس کے) گواہ ہو۔
  85. ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿85﴾

    پھر تم ہی وہ ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کرتے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کے وطن سے نکال بھی دیتے ہو (اور) ان کے مقابلہ میں گناہ وظلم کے ساتھ (ان کے مخالفین کی) مدد بھی کرتے ہو۔ اور اگر وہ تم تک اسیر ہو کر پہنچ جاتے ہیں تو تم انہیں فدیہ دیکر چھڑا لیتے ہو۔ حالانکہ ان کا (وطن سے) نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔ تو کیا تم کتاب کے ایک حصہ کو مانتے ہو اور ایک حصہ سے انکار کرتے ہو ؟ ۔ پس تم میں سے جو ایسا کرے اس کی سزا کیا ہے بجز دنیوی زندگی میں رسوائی کے ؟ ۔ اور قیامت کے دن یہ سخت ترین عذاب میں ڈالے بھی جائیں گے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں۔
  86. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ع﴿86﴾

    یہی لوگ ہیں جنہوں نے دنیوی زندگی خریدد لی ہے آخرت کے معاوضہ میں۔ سو ان پر سے نہ عذاب ہلکا کیا جائے گا۔ اور نہ انہیں مدد ہی پہنچے گی۔
  87. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ﴿87﴾

    اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب عطا کی۔ اور ان کے پیچھے ہم نے پے درپے پیغمبر بھیجے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے روشن نشانات عطاکئے۔ اور ہم نے روح القدس (کے ذریعہ سے ان کی تائید کی۔ تو کیا جب کبھی کوئی پیغمبر تمہارے پاس ان (احکام) کے ساتھ آیا جو تمہارے نفس کو نہ بھائے۔ تو تم اکڑنے لگے۔ پھر بعض کو تم نے جھٹلایا۔ اور بعض کو تم قتل ہی کرنے لگے۔
  88. وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ﴿88﴾

    اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارے قلوب محفوظ ہیں۔ (نہیں) بلکہ اللہ نے ان پر لعنت کر رکھی ہے ان کے کفر کے باعث۔ اور وہ ایمان بہت ہی تھوڑا رکھتے ہیں۔
  89. وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ﴿89﴾

    اور جب ان کے پاس ایک کتاب اللہ کے پاس سے پہنچ گئی تصدیق کرنے والی اس کی جو ان کے پاس (پہلے سے) موجود ہے۔ اور اس کے قبل یہ (خود ہی) کافروں سے بیان کیا کرتے تھے۔ پھر جب ان کے پاس وہ آگیا جس کو (خوب) پہچانتے تھے تو اسی سے کفر کربیٹھے ۔ سو اللہ کی لعنت ہو کافروں پر۔
  90. بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴿90﴾

    بری ہے وہ چیز جس کے عوض میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ہے۔ کہ انکار کرتے ہیں اس (کلام) کا جو اللہ نے نازل کیا ہے (محض) اس ضد پر کہ اللہ نے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہا اپنا فضل (خاص) نازل کیا۔ سو وہ مستحق ہوگئے غضب بالائے غضب کے۔ اور کافروں کے لیے عذاب ذلت والا ہے۔
  91. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿91﴾

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لاؤ اس (کلام) پر جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر تو ایمان رکھتے ہیں جو ہمارے اوپر نازل ہوا ہے۔ اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے اس سے یہ کفر کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ (خود بھی) حق ہے اور اس کی (بھی) تصدیق کرنے والا ہے جو ان کے پاس ہے۔ آپ کہیے کہ اچھا تو تم اس کے قبل انبیاء کو کیوں قتل کرتے رہے ہو اگر تم واقعی ایمان والے تھے ؟۔
  92. وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ﴿92﴾

    اور موسیٰ ؑ تمہارے پاس کھلے ہوئے نشان لے کر آئے۔ اس پر بھی تو تم نے ان کے پیچھے گوسالہ کو اختیار کرلیا۔ اور تم تو ہو ہی ظالم۔
  93. وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿93﴾

    اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تم سے قول وقرار لیا تھا۔ اور تمہارے اوپر کوہ طور کو بلند کیا تھا۔ (کہ) جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے۔ اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور سنو۔ یہ (اس وقت) بولے تھے کہ (ہاں) ہم نے سن تو لیا مگر ہم نے مانا نہیں۔ اور ان کے دلوں میں گوسالہ ان کے کفر سابق کے سبب سے پیوست ہوگیا تھا۔ آپ کہہ دیجئے (کیسی) بری ہے وہ بات جس کا حکم تمہارا ایمان تمہیں دے رہا ہے اگر تم (واقعی) ایمان والے ہو۔
  94. قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿94﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ اگر عالم آخرت خاص تمہارے ہی لیے ہے دوسروں کو چھوڑ کر۔ تو موت کی آرزو کردیکھو اگر تم سچے ہو۔
  95. وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ﴿95﴾

    لیکن وہ اس کی آرزو ہرگز کبھی بھی نہ کریں گے بہ سبب ان (اعمال بد) کے جو یہ اپنے ہاتھوں سمیٹ چکے ہیں۔ اور اللہ ظالموں سے (خوب) واقف ہے۔
  96. وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ع﴿96﴾

    اور آپ انہیں زندگی پر حریص سب لوگوں کے بڑھ کر پائیں گے۔ (یہاں تک کہ) مشرکوں سے بھی بڑھ کر۔ ان میں سے ایک ایک یہ چاہتا ہے کہ ہزار (ہزار) برس کی عمر پائے۔ حالانکہ اگر اتنی عمر وہ پا بھی جائے تو یہ (امر) اسے عذاب سے تو نہیں بچا سکتا۔ اور جو کچھ وہ کررہے ہیں اللہ اسے (خوب) دیکھ رہا ہے۔
  97. قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴿97﴾

    آپ کہہ دیجئے جو کوئی جبرائیل کا مخالف ہے۔ تو انہوں نے اس (قرآن) کو آپ کے قلب پر اللہ کے حکم سے اتارا ہے (وہ) تصدیق کرنے والا ہے اس (کلام) کا جو اس کے قبل سے ہے اور ہدایت ہے اور ایمان والوں کے لیے خوشخبری ہے۔
  98. مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ﴿98﴾

    جو کوئی مخالف ہو اللہ کا یا اس کے فرشتوں کا یا اس کے پیغمبروں کا یا جبرئیل کا یا میکائیل کا۔ تو اللہ (بھی) بالیقین مخالف ہے (ایسے) کافروں کا۔
  99. وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ﴿99﴾

    اور بالیقین ہم نے آپ پر روشن نشان اتارے ہیں۔ اور ان سے کوئی (بھی) انکار نہیں کرتا بجز نافرمانوں کے۔
  100. اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿100﴾

    کیا یہ ہے کہ انہوں نے جب کبھی بھی کوئی عہد کیا ہے۔ تو انہیں میں سے کسی (نہ کسی) جماعت نے توڑ ہی پھینکا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ ترتواعتقاد ہی نہیں رکھتے۔
  101. وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘﴿101﴾

    اور جب ان کے پاس پیغمبر اللہ کی طرف سے آئے تصدیق کرتے ہوئے اس (کتاب) کی جو ان کے پاس موجود تھی۔ تو (ان) اہل کتاب میں سے ایک جماعت نے کتاب اللہ کو اپنی پشت کے پیچھے پھینک مارا۔ گویا وہ جانتے ہی (بوجھتے) نہیں۔
  102. وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ﴿102﴾

    اور (یہ لوگ) پیچھے لگ لئے۔ اس (علم) کے جو سلیمان کی بادشاہت میں شیطان پڑھا کرتے تھے۔ اور سلیمان ؑ نے (تو کبھی) کفر نہیں کیا۔ البتہ شیطان (ہی) کفر کیا کرتے تھے۔ لوگوں کو سحر کی تعلیم دیتے۔ اور (وہ پیچھے لگ لیے) ۔ اس (علم) کے بھی جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت وماروت پر اتارا گیا تھا۔ اور وہ دونوں کسی کو بھی (اس فن کی باتیں) نہیں بتاتے تھے۔ جب تک یہ نہ کہہ دیتے۔ کہ تم تو بس ایک (ذریعہ) امتحان ہیں۔ سو تم (کہیں) کفر نہ اختیار کرلینا۔ مگر (لوگ) ان دونوں سے وہ (سحر) سیکھ ہی لیتے۔ جس سے وہ جدائی ڈال دیتے درمیان مرد اور اس کی زوجہ کے۔ حالانکہ وہ (فی الواقع) کسی کو بھی اس کے ذریعہ سے نقصان نہ پہنچا سکتے مگر ہاں ارادہ الہی سے۔ اور یہ وہ چیز سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے اور انہیں نفع نہیں پہنچا سکتی۔ اور (یہ بھی) یہ خوب جانتے ہیں کہ جس نے اسے اختیار کرلیا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور بہت ہی بری وہ چیز ہے جس کے عوض میں انہوں نے اپنے آپ کو بیچ ڈالا ہے۔۔ کاش وہ (اتنا ہی) جانتے۔
  103. وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿103﴾

    اور اگر وہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرتے تو اس کا ثواب اللہ کے ہاں کہیں بہتر ہوتا کاش وہ (اتنا جانتے۔
  104. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿104﴾

    اے ایمان والو ”راعنا“ مت کہا کرو۔ اور ”انظرنا“ کہا کرو اور سنتے رہا کرو۔ اور کافروں کے لئے عذاب دردناک ہے۔
  105. مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴿105﴾

    جو لوگ کافر ہیں (خواہ) اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے۔ وہ اسے (ذرا بھی) پسند نہیں کرتے کہ تمہارے اوپر کوئی بھی بھلائی تمہارے پروردگار کی طرف سے اتر کر رہے حالانکہ اللہ اپنی رحمت سے جسے چاہے مخصوص کرلے اور وہ بڑے ہی فضل والا ہے۔
  106. مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿106﴾

    ہم جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں۔۔ تو (کوئی) اس سے بہتر ہی۔ یا مثل اس کے لے آتے ہیں کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
  107. اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴿107﴾

    کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے سلطنت آسمانوں اور زمین کی ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی تمہارا یار ومدد گار نہیں۔
  108. اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ﴿108﴾

    تم تو شاید یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے سوال کرڈالو۔ جیسا کہ (اس کے) قبل موسیٰ ؑ سے سوال کئے جاچکے۔ اور جو کوئی ایمان کے بدلہ میں کفر اختیار کرلے گا۔ سو وہ یقیناً سیدھی راہ سے بھٹک گیا
  109. وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿109﴾

    بہت سے اہل کتاب تو دل ہی سے چاہتے ہیں کہ تمہیں ایمان (لے آنے) کے بعد پھر سے کافر بنالیں۔ حسد کی راہ سے جو ان کے نفسوں میں ہے۔ (اور یہ بھی) بعد اس کے کہ ان پر حق واضح ہوچکا۔ سو معاف کرتے رہو۔ تاآنکہ اللہ اپنا حکم بھیج دے۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
  110. وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿110﴾

    اور نماز کی پابندی رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ اور جو کچھ بھلائی تم اپنے واسطے آگے بھیج دو گے اسے اللہ کے پاس پالوگے ۔ یقیناً تم جو کچھ کررہے اللہ اس کا خوب دیکھنے والا ہے۔
  111. وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿111﴾

    اور یہ کہتے ہیں کہ جنت میں کوئی ہرگز داخل نہ ہوگا مگر یہاں وہی جو یہودی یا نصرانی ہوں ۔ یہ ان کی (نری) آرزوئیں ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنی سند لاؤ اگر تم سچے ہو۔
  112. بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ع﴿112﴾

    ہاں البتہ۔ جو کوئی بھی اپنی ذات کو اللہ کے آگے جھکائے اور وہ مخلص بھی ہو۔ تو ایسے کے لیے اس کے پروردگار کے پاس اس کا اجر ہے اور ایسوں پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ مغموم ہوں گے۔
  113. وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿113﴾

    اور یہود کہتے ہیں کہ نصاری کسی بنیاد پر نہیں۔ اور نصاری کہتے ہیں کہ یہود کسی بنیاد پر نہیں۔ درآنحالیکہ وہ سب (ایک ہی) کتاب (آسمانی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ بھی کہنے لگے انھیں کا ساقول جو (کچھ بھی) علم نہیں رکھتے۔ سو اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن اس باب میں فیصلہ کردے گا جس میں وہ جھگڑتے رہتے ہیں۔۔
  114. وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿114﴾

    اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں کو اس سے روک دے کہ ان میں اس کا نام لیا جائے۔ اور اس کی بربادی کی کوشش کرے۔ یہ لوگ اس لائق ہی نہیں کہ ان میں (داخل) ہوں مگر ہاں یہ کہ ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں (بھی بڑی) رسوائی ہے اور آخرت میں (بھی) بڑا عذاب ہے۔
  115. وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴿115﴾

    اور اللہ ہی کا ہے مشرق (بھی) اور مغرب (بھی) ۔ سو تم جدھر کو بھی منہ پھیرو۔ اللہ ہی کی ذات ہے۔ اللہ بڑا وسعت والا ہے۔ بڑا علم والا ہے۔
  116. وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ﴿116﴾

    اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے ایک بیٹا بنالیا ہے پاک ہے وہ !۔ اصل یہی ہے کہ اسی کی ملک ہے جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہے۔ سب اسی کے حکم بردار ہیں۔۔
  117. بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ﴿117﴾

    (وہ) موجد ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اور جب کسی کام کا کرنا ٹھہرا لیتا ہے۔ تو بس اتنا ہی اس سے کہتا ہے (کہ) ہوجا۔ بس وہ ہوجاتا ہے۔
  118. وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ﴿118﴾

    اور جنہیں علم سے بہرہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا ؟۔ یا ہمارے پاس کوئی نشان (عظیم) کیوں نہیں آجاتا ؟۔ اسی طرح وہ لوگ کہہ چکے ہیں جو ان سے پہلے ہوچکے ہیں انہیں کا سا کہنا۔ ان کے قلوب متشابہ ہوگئے۔ ہم نے اپنے نشان تو کھول کھول دیے ہیں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔
  119. اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ﴿119﴾

    ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر۔ اور آپ سے اہل دوزخ کی بابت کچھ بھی پوچھ نہ ہوگی۔
  120. وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ﴿120﴾

    اور آپ سے یہود ونصاری ہرگز خوش نہ ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ ہوجائیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کی (بتلائی ہوئی) تو راہ بس وہی ہے۔ اور اگر آپ بعد اس علم کے جو آپ کو پہنچ چکا ہے ان کی خواہشوں کی پیروی کرنے لگے۔ تو آپ کے لیے اللہ (کی گرفت) کے مقابلہ میں نہ کوئی یار ہوگا نہ مددگار۔
  121. اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ع﴿121﴾

    جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے اور وہ اسے اسی طرح پڑھتے ہیں جس طرح اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ وہ لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے۔ اور جو کوئی اس س سے کفر (اختیار) کرلے گا تو یہی لوگ (پورا) نقصان اٹھانے والے ہیں۔
  122. یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ﴿122﴾

    اے بنی اسرائیل میری وہ نعمتیں یاد کرو جو میں نے تم کو بخشیں۔ اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا جہاں والوں پر فضیلت دی۔
  123. وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ﴿123﴾

    اور اس روز سے ڈرو جب نہ کوئی کسی کے بھی کام آئے گا اور نہ اس کے طرف سے معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ اسے سفارش نفع پہنچا سکے گی اور نہ انہیں مد ہی پہنچ سکے گی۔
  124. وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ﴿124﴾

    اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ابراہیم کو۔ ان کے پروردگار نے چند امور میں آزمایا۔ اور انہوں نے وہ انجام دے دئیے۔ ارشاد ہوا کہ میں یقیناً تمہیں لوگوں کا پیشوابنانے والا ہوں۔ بولے اور میری نسل سے بھی ؟ ارشاد ہوا کہ میرا وعدہ نافرمانوں کو نہیں پہنچتا۔
  125. وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ﴿125﴾

    اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے خانہ (کعبہ) ۔ کو لوگوں کے لئے ایک مقام رجوع اور مقام امن مقرر کیا۔ اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنالو۔ اور ہم نے ابراہیم ؑ اور اسمعیل ؑ کی طرف حکم بھیجا۔ کہ تم دونوں میرے گھر کو پاک صاف رکھو۔ طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کیلئے۔
  126. وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿126﴾

    اور (وہ وقت بھی یاد رکھنے کے قابل ہے) جب ابراہیم ؑ نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار اس شہر کو امن والا بنادے اور اس میں رہنے بسنے والوں کو روزی دے پھلوں۔ سے (یعنی) ان رہنے والوں کو جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائیں۔ (اللہ نے) ارشاد فرمایا کہ جو کفر کرے گا میں اسے بھی کچھ دن مزہ اٹھانے دوں گا پھر اسے کشاں کشاں عذاب جہنم تک پہنچا دوں گا اور وہ کیسا برا ٹھکانا ہے۔
  127. وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿127﴾

    اور (وہ وقت بھی یاد رکھنے کے قابل ہے) جب ابراہیم ؑ اور اسمعیل ؑ خانہ (کعبہ) کی بنیادیں بلند کررہے تھے۔ اے ہمارے پروردگار ہم سے (یہ) قبول کر۔ یقیناً تو ہی (سب کچھ) سننے والا ہے (سب کچھ) جاننے والا ہے۔
  128. رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴿128﴾

    اے پروردگار ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا دے۔ اور ہماری نسل سے ایک فرمانبردار امت پیدا کر۔ اور ہم کو ہمارے دینی قاعدے بتلادے۔ اور ہمارے حال پر توجہ رکھ۔ یقیناً تو تو بڑا توجہ فرمانے والا ہے بڑا مہربان ہے۔
  129. رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ع﴿129﴾

    اے ہمارے پروردگار ان میں ایک پیغمبر انہیں میں سے بھیج۔ (جو) انہیں تیری آیتیں پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب (الہی) اور دانائی کی تعلیم دے اور انہیں پاک (وصاف) کرے۔ یقیناً تو تو بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  130. وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿130﴾

    اور ابراہیم ؑ کے مذہب سے کون پھرے گا مگر وہی جس نے اپنے کو احمق بنالیا ہو۔ اور ہم نے تو انہیں دنیا میں بھی برگزیدہ کرلیا تھا۔ اور آخرت میں بھی وہ زمرۂ صالحیں میں ہوں گے۔
  131. اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿131﴾

    اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ حکم بردار ہوجاؤ۔ وہ بولے میں حکم بردار ہوں سارے جہان کے پروردگار کا۔
  132. وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ﴿132﴾

    : اور ابراہیم ؑ اس کی ہدایت کرگئے اپنے بیٹوں کو اور اسی طرح یعقوب ؑ بھی۔ (اپنے بیٹوں کو) ۔ کہ اے میرے بیٹوبیشک اللہ نے تمہارے لئے دین کا انتخاب فرمالیا ہے۔ سو ایسا ہرگز نہ ہونے پائے کہ تم مرتے وقت بجز مسلم کے کچھ اور ہو۔
  133. اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ﴿133﴾

    ترجمہ بھلا اس وقت تم کیا موجود تھے جب یعقوب ؑ کو موت آپہنچی۔ اور اس وقت انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟۔ وہ بولے ہم عبادت کریں گے گے آپ کے اور آپ کے اپ دادوں ابراہیم ؑ اور اسمعیل ؑ اور اسحاق ؑ کے معبود کی (اس) معبود واحد کی اور ہم تو اس کین حکم بردار ہیں۔
  134. تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿134﴾

    یہ ایک جماعت ہے جو گزر چکی۔ ان کے آگے ان کا کیا ہوا آئے گا اور تمہارے آگے تمہارا کیا ہوا اور وہ جو کچھ کرتے رہے اس کی پوچھ گچھ تم سے نہ ہوگی۔
  135. وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿135﴾

    اور یہ (لوگ) کہتے ہیں کہ یہودی ہوجاؤ یا نصرانی ہوجاؤ تو راہ یاب ہوجاؤگے۔ آپ کہہ۔ دیجے کہ نہیں بلکہ (ہم نے تو) ابراہیم ؑ سیدھی راہ والے کا مذہب پالیا۔ اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔
  136. قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ﴿136﴾

    کہہ دو کہ ہم تو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس پر جو ہم پر اتارا گیا۔ اور جو ابراہیم ؑ اور اسمعیل ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ اور اولاد (یعقوب علیہ السلام) پر اتارا گیا۔ اور جو موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ کو دیا گیا اور اس پر جو دوسرے انبیاء کو ان کے پروردگار کی طرف سے دیا گیا۔ اور ہم ان میں سے کسی کے درمیان بھی فرق نہیں کرتے۔ اور ہم اللہ ہی کے حکم بردار ہیں۔
  137. فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ﴿137﴾

    تو اگر یہ لوگ ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان رکھتے ہو تو بیشک وہ بھی راہ پاگئے۔ اور اگر منہ موڑے رہیں تو بس (بڑی) مخالفت میں پڑے ہیں۔ سو اب اللہ آپ کی طرف سے ان کے مقابلہ۔ ہے اور وہ (بڑا) سننے والا (بڑا) جاننے والا ہے۔
  138. صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ﴿138﴾

    (ہمارے اوپر) اللہ کا رنگ ہے۔ اور اللہ سے بہتر کون رنگ (دینے والا) ہے ؟۔ ہم تو اس کی بندگی کرنے والے ہیں۔
  139. قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ﴿139﴾

    آپ کہیے کہ کیا تم ہم سے اللہ کے باب میں حجت کئے جاتے ہو۔ درآنحالیکہ وہ ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے۔ اور ہمارے عمل ہمارے لیے ہیں اور تمہارے عمل تمہارے لیے اور ہم تو اسی کے لیے خالص ہیں۔
  140. اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿140﴾

    کیا تم (یہ) کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ اور اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ اور اولاد (یعقوب علیہ السلام) یہودی یا نصرانی تھے ؟ ۔ آپ کہیے تم واقف تر ہو یا اللہ ؟ ۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اس شہادت کو چھپائے جو اس کے پاس اللہ کے ہاں سے پہنچ چکی ہے ؟۔ ورنہ اللہ تمہارے کرتوتوں سے بیخبر تو ہے نہیں۔
  141. تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ع﴿141﴾

    یہ ایک جماعت ہے جو گزر چکی۔ ان کا کیا ہوا ان کے آگے آئے گا اور تمہارا کیا ہوا تمہارے آگے آئے گا۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے اس کی پوچھ کچھ تم سے نہ ہوگی۔
  142. سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿142﴾

    اب بیوقوف لوگ (ضرور) کہیں گے۔ کہ کس چیز نے ان (مسلمانوں) کو ان کے (اس) قبلہ سے جس پر وہ اب تک تھے۔ ہٹادیا آپ کہہ دیجئے۔ کہ مشرق ومغرب سب اللہ ہی کی ملک ہیں۔ وہ جسے چاہے۔ سیدھی راہ چلا دیتا ہے ۔
  143. وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴿143﴾

    اور اسی طرح ہم نے تمہیں۔ ایک امت عادل بنادیا ہے۔ تاکہ تم گواہ رہو لوگوں پر۔ اور رسول گواہ رہیں تم پر۔ اور جس قبلہ پر آپ (اب تک) تھے۔ اسے تو ہم نے اسی لئے رکھا تھا کہ ہم پہچان لیں رسول کا اتباع کرنے والوں کو الٹے پاؤں واپس چلے جانے والوں سے۔ اور یہ (حکم) بہت گراں ہے مگر ان لوگوں کو نہیں جنہیں اللہ نے راہ دکھا دی ہے۔ اور اللہ ایسا نہیں کہ ضائع ہوجانے دے تمہارے۔ ایمان کو اور اللہ تو لوگوں پر بڑا شفیق ہے بڑا مہربان ہے۔
  144. قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ﴿144﴾

    بیشک ہم نے دیکھ لیا آپ کے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا۔ سو ہم ضرور آپ کو متوجہ کردیں گے اس قبلہ کی طرف جسے آپ چاہتے ہیں۔ اچھا اب کرلیجیے اپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف۔ اور تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو اپنے چہرے کرلیا کرو اسی کی طرف۔ اور جن لوگوں کو کتاب مل چکی ہے وہ یقیناً جانتے ہیں کہ وہ (حکم) واقعی ہے ان کے پروردگار کی طرف۔ اور اللہ بیخبر نہیں ان کی کارروائیوں سے۔
  145. وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ﴿145﴾

    اور اگر آپ ان لوگوں کے سامنے جنہیں کتاب مل چکی ہے ساری ہی نشانیاں لے آئیں۔ (جب بھی) یہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے۔ اور نہ آپ ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں اور نہ وہ (آپس میں) ایک دوسرے کے قبلہ کو ماننے والے ہیں۔ اور اگر (کہیں) آپ ان کی خواہشوں کی پیروی کرنے لگیں۔ بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے۔ تو یقیناً آپ (بھی) ظالموں میں (شمار) ہوں گے۔
  146. اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ﴿146﴾

    جن لوگوں کو ہم کتاب دے چکے ہیں۔ وہ آپ کو پہچانتے ہیں اس طرح جیسے کہ اپنی نسل والوں کو پہچانتے ہیں۔ اور بیشک ان میں کے کچھ لوگ خوب چھپاتے ہیں حق کو حالانکہ جانتے ہوتے ہیں۔
  147. اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ع﴿147﴾

    یہ امر حق ہے تیرے پروردگار کی طرف سے پس تو کہیں شک کرنے والوں میں ہرگز نہ ہوجانا۔
  148. وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿148﴾

    اور ہر ایک کے لیے کوئی رخ ہوتا ہے جدھر وہ متوجہ رہتا ہے۔ سو تم نیکیوں کی طرف بڑھو۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تم سب کو پالے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
  149. وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿149﴾

    اور آپ جس جگہ سے بھی (باہر) نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف موڑ لیا کریں۔ اور یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے امر حق ہے۔ اور اللہ اس سے بیخبر نہیں جو تم کررہے ہو۔
  150. وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ﴿150﴾

    اور آپ جس جگہ سے بھی (باہر) نکلیں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف موڑ لیا کریں۔ اور تم لوگ (بھی) جہاں کہیں ہو اپنا منہ اس کی طرف موڑ لیا کرو۔ تاکہ لوگوں کو تمہارے مقابلہ میں حجت نہ رہ جائے۔ سوا ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہیں۔ سو تم ان سے ڈرو۔ بلکہ (صرف) مجھی سے ڈرو۔ تاکہ میں اپنا انعام تم پر پورا کروں۔ اور تاکہ تم راہ پر (قائم) رہو۔
  151. كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ﴿151﴾

    : (اسی طرح) جیسے ہم نے تمہارے درمیان ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا۔ جو تمہارے روبرو ہماری آیتیں پڑھتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے۔ اور تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں اس کی تعلیم دیتا ہے۔ جو تم نہیں جانتے تھے
  152. فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ع﴿152﴾

    سو تم مجھے یاد کرتے رہو۔ میں بھی تمہیں یاد کرتا رہوں گا۔ اور میری شکر گزاری کرتے رہو اور میری ناشکری نہ کرو
  153. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴿153﴾

    اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ رہے
  154. وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ﴿154﴾

    اور جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں انہیں مردہ نہ کہو (نہیں) بلکہ وہ زندہ ہیں۔ البتہ تم ادراک نہیں کرسکتے۔
  155. وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ﴿155﴾

    اور ہم تمہاری آزمائش کرکے رہیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور مال اور جان اور پھلوں کے کچھ نقصان سے۔ اور آپ صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنادیجیے۔
  156. الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ﴿156﴾

    کہ جب ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں۔ کہ بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور بیشک ہم اسی کی طرف واپس ہونے والے ہیں۔
  157. اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ﴿157﴾

    یہ لوگ وہ ہیں کہ ان پر نوازشیں ہوں گی ان کے پروردگار کی طرف سے اور رحمت (بھی) یہی لوگ راہ یاب ہیں۔
  158. اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ﴿158﴾

    صفاومروہ بیشک اللہ کی یادگاروں میں سے ہیں۔ سو جو کوئی بیت (اللہ) کا حج کرے یا عمرہ کرے۔ اس پر (ذرا بھی) گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان آمد ورفت کرے۔ اور جو کوئی خوشی سے کوئی امر خیر کرے سو اللہ تو بڑا قدر دان ہے بڑا علم رکھنے والا ہے۔
  159. اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ﴿159﴾

    بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں اس چیز کو جو ہم کھلی ہوئی نشانیوں اور ہدایت میں سے نازل کرچکے ہیں بعد اس کے کہ ہم اسے لوگوں کے لیے کتاب (الہی) میں کھول چکے ہیں۔ : یہی وہ لوگ ہیں کہ اللہ ان پر لعنت کرتا ہے اور ان پر لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔
  160. اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴿160﴾

    البتہ جو لوگ توبہ کرلیں۔ اور درست ہوجائیں۔ اور ظاہر کردیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ میں ان پر متوجہ ہوجاؤں گا رحمت سے۔ اور میں بڑا توبہ قبول کرنے والا ہوں بڑا رحمت والا ہوں۔
  161. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ﴿161﴾

    بیشک جو لوگ کفر کرتے ہیں اور مرجائیں اسی حال میں کہ وہ کافر ہیں سو یہ وہی لوگ ہیں کہ ان پر لعنت ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور آدمیوں کی سب کی۔
  162. خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ﴿162﴾

    وہ اس میں پڑے رہنے والے ہیں۔ کہ نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہونے پائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔
  163. وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿163﴾

    اور تمہارا خدا ایک خدا ہے بجز اس کے کوئی خدا نہیں۔ بےانتہا رحم وکرم کرنے والا بار بار رحم کرنے والا۔
  164. اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿164﴾

    یقیناً آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادل بدل میں اور جہازوں کے چلنے میں جو سمندر میں ان چیزوں کے ساتھ چلتے ہیں جو لوگوں کو نفع پہنچاتی ہیں اور (اس) پانی میں جسے اللہ نے اتارا پھر اس زمین کو اس کے رمادہ ہونے کے بعد جلا اٹھایا اور اس میں ہر طرح کے حیوانات پھیلا دیئے اور ہواؤں کے بدلنے میں اور بادل میں (جو) آسمان اور زمین کے درمیان مقید ہے (ان سب میں) ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں نشانیاں (موجود) ہیں۔
  165. وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ﴿165﴾

    اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ اللہ کے علاوہ دوسروں کو بھی شریک بنائے ہوئے ہیں۔ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی اللہ سے (رکھنا چاہیے) ۔ اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ کی محبت سب سے قوی رکھتے ہیں۔ اور کاش ظالم جب عذاب کو دیکھ لیتے۔ تو سمجھ لیتے کہ قوت اللہ ہی کی ہے ساری کی ساری۔ اور یہ کہ اللہ کا عذاب بہت ہی سخت ہے
  166. اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ﴿166﴾

    (اس وقت کا خیال کرو) جب مقتدا (یا متبوع) اپنے مقتدیوں (یا پیرو وں) سے الگ ہوجائیں گے۔ اور ان کے باہمی تعلقات ٹوٹ کر رہ جائیں گے۔
  167. وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ع﴿167﴾

    اور پیرو کہنے لگیں گے۔ کاش ہم کو پھر ایک دفعہ (جانا) مل جاتا۔ تو ہم بھی ان سے الگ ہوجائیں جیسے یہ ہم سے الگ ہوگئے بس اسی طرح اللہ ان کے اعمال کو انہیں (خالی) ارمان (کرکے) دکھائے گا۔ اور وہ دوزخ سے کبھی بھی نہ نکل پائیں گے۔
  168. یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴿168﴾

    اے انسانو ! زمین پر جو کچھ حلال اور پاکیزہ موجود ہے اس میں سے کھاؤ (پیو) ۔ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
  169. اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿169﴾

    وہ تو تمہیں بس برائی اور گندگی ہی کا حکم دیتا ہے۔ اور اس کا کہ تم اللہ پر ایسی باتیں گڑھ لو جس کا تم علم نہیں رکھتے ہو۔
  170. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ﴿170﴾

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے اتارا ہے اس کی پیروی کرو۔ تو کہتے ہیں کہ نہیں ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ (دادوں) کو پایا ہے۔ خواہ ان کے باپ (دادا) نہ ذراعقل بھی رکھتے ہوں اور نہ ہدایت رکھتے ہوں۔
  171. وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ﴿171﴾

    اور جو لوگ کافر ہیں ان کا حال تو اس شخص جیسا ہے۔ جو ایسے (جانور) کے پیچھے چلا رہا ہے جو کچھ سنتا ہی نہیں بجز بلانے اور پکارنے کے (یہ) لوگ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو (کچھ بھی) نہیں سمجھتے۔
  172. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ﴿172﴾

    اے ایمان والو پاک چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں کھاؤ پیو۔ اور اللہ کا شکر ادا کرتے رہو۔ اگر تم خاص اسی کی بندگی کرنے والے ہو۔
  173. اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿173﴾

    اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جو (جانور) غیر اللہ کے لئے نامزد کیا گیا ہو حرام کیا ہے لیکن (اس میں بھی) جو شخص مضطر ہوجائے۔ اور نہ بےحکمی کرنے والا ہو اور نہ حد سے نکل جانے والا ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں بیشک اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔
  174. اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿174﴾

    بیشک جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے معاوضہ میں قلیل قیمت حاصل کرتے ہیں سو ایسے لوگ تو اپنے سینوں میں بس آگ ہی (آگ) بھر تے ہیں۔ اور اللہ قیامت کے دن ان سے نہ کلام کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
  175. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ﴿175﴾

    یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو خرید لیا ہے ہدایت کے بدلہ میں اور عذاب کو نجات کے بدلہ میں اور یہ لوگ کیسی جیوٹ رکھتے ہیں دوزخ کے لیے۔
  176. ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ع﴿176﴾

    اور یہ (سزا) اس لئے ہوگی کہ اللہ نے تو کتاب کو (بالکل) ٹھیک ٹھیک اتارا تھا۔ اور بیشک جو لوگ کتاب کے بارے میں اختلاف ڈال رہے ہیں وہ (بڑے) دور دراز کے خلاف میں پڑے ہوئے ہیں۔
  177. لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴿177﴾

    طاعت یہ نہیں ہے۔ کہ تم اپنا منہ مشرق یا مغرب کی طرف پھیرلیا کرو۔ بلکہ طاعت یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ اور قیامت کے دن اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائے۔ اور اس کی محبت میں مال صرف کرے قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیروں اور سائلوں پر۔ اور گردنوں کے آزاد کردینے میں۔ اور نماز کی پابندی کرتے اور زکوٰۃ ادا کرتے۔ اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے والے جبکہ وعدہ کرچکے ہوں اور تنگی میں اور بیماری میں اور لڑائی کے وقت صبر کرنے والے ۔ یہی لوگ ہیں جو سچے اترے اور یہی لوگ تو متقی ہیں۔
  178. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿178﴾

    اے ایمان والو تم پر مقتولوں کے باب میں قصاص فرض کردیا گیا ہے۔ آزاد کے بدلہ میں آزاد اور غلام کے بدلہ میں غلام اور عورت کے بدلہ میں عورت۔ ہاں جس کسی کو اس کے فریق مقابل کی طرف سے کچھ معافی حاصل ہوجائے۔ سو مطالبہ معقول (اور نرم) طریق پر کرنا چاہیے۔ اور مطالبہ کو اس (فریق) کے پاس خوبی سے پہنچا دینا چاہیے۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے۔ سو جو کوئی اس کے بعد بھی زیادتی کرے گا اس کے لیے (آخرت میں) عذاب درد ناک ہے۔
  179. وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴿179﴾

    اور تمہارے لیے اے اہل فہم (قانون) قصاص میں زندگی ہے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
  180. كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ﴿180﴾

    تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آتی معلوم ہو بشرطیکہ کچھ مال بھی چھوڑ رہا ہو تو وہ والدین اور عزیزوں کے حق میں معقول طریقہ سے وصیت کرجائے یہ لازم ہے پرہیزگاروں پر۔
  181. فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ﴿181﴾

    پھر جو کوئی اسے اس کے سننے کے بعد بدل ڈالے سو اس کا گناہ بس انہیں پر ہوگا جو اسے بدل ڈالیں۔ بیشک اللہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے۔
  182. فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿182﴾

    البتہ جس کسی کو وصیت کرنے والے سے متعلق کسی بےعنوانی یا گناہ کا علم ہوجائے۔ وہ ان لوگوں کے آپس میں صلح کرادے۔ تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا مغفرت کرنے والا ہے بڑا رحم کرنے والا ہے۔
  183. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ﴿183﴾

    اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے۔ جیسا کہ ان لوگوں پر فرض کئے گئے تھے جو تم سے قبل ہوئے ہیں۔ عجب نہیں کہ تم متقی بن جاؤ۔
  184. اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿184﴾

    یہ روزے) گنتی کے چند روز کے (ہیں) ۔ پھر تم میں سے جو شخص بیمار ہو۔ یا سفر میں ہو۔ اس پر دوسرے دنوں کا شمار رکھنا (لازم ہے) ۔ اور جو لوگ اسے مشکل سے برداشت کرسکیں۔ ان کے ذمہ فدیہ ہے (کہ وہ) ایک مسکین کا کھانا ہے۔ اور جو کوئی خوشی خوشی نیکی کرے۔ اس کے حق میں بہتر ہے اور اگر تم علم رکھتے ہو۔ تو بہتر تمہارے حق میں یہی ہے کہ تم روزے رکھو۔
  185. شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿185﴾

    ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ہے۔ وہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ اور (اس میں) کھلے ہوئے (دلائل میں) ہدایت اور (حق و باطل میں) امتیاز کے۔ سو تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پائے لازم ہے کہ وہ (مہینہ بھر) روزہ رکھے۔ اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو (اس پر) دوسرے دنوں کا شمار رکھنا (لازم ہے) ۔ اللہ تمہارے حق میں سہولت چاہتا ہے اور تمہارے حق میں دشواری نہیں چاہتا۔ اور یہ (چاہتا ہے) کہ تم شمار کی تکمیل کرلیا کرو۔ اور یہ کہ تم اللہ کی بڑائی کیا کرو اس پر کہ تمہیں راہ بتادی۔ عجب نہیں کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔
  186. وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ﴿186﴾

    اور جب آپ سے میرے بندے میرے باب میں دریافت کریں۔ تو میں تو قریب ہی ہوں۔ دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔ (لوگوں کو) چاہئے کہ میرے احکام قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں۔ عجب نہیں کہ ہدایت پاجائیں
  187. اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴿187﴾

    جائز کردیا گیا ہے تمہارے لیے روزوں کی رات میں اپنی بیویوں سے مشغول ہونا۔ وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اللہ کو خبر ہوگئی کہ تم اپنے کو خیانت میں مبتلا کرتے رہتے تھے۔ پس اس نے تم پر رحمت سے توجہ فرمائی اور تم سے درگزر کردی۔ سو اب تم ان سے ملوملاؤ۔ اور اسے تلاش کرو جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے۔ اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ تم پر صبح کا سفید خط سیاہ خط سے نمایاں ہوجائے۔ پھر روزہ کو رات (ہونے) تک پورا کرو۔ اور بیویوں سے اس حال میں صحبت نہ کرو جب تم اعتکاف کئے ہو مسجدوں میں۔ یہ اللہ کے ضابطے ہیں سو ان (سے نکلنے) کے قریب بھی نہ جانا۔ اللہ اسی طرح اپنے احکام لوگوں کیلئے کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ عجب نہیں کہ وہ پرہیزگار بن جائیں۔
  188. وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ع﴿188﴾

    اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طور پر مت کھاؤ اڑاو۔ اور نہ اسے حکام تک پہنچاؤ کہ جس سے لوگوں کے مال کا ایک حصہ تم گناہ سے کھا جاؤ درآنحالیکہ تم جان رہے ہو۔
  189. یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴿189﴾

    آپ سے (لوگ) نئے چاندوں کے باب میں دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ وہ لوگوں کے لئے حج کے لئے آلہ شناخت اوقات ہیں۔ اور یہ تو (کوئی بھی) نیکی نہیں کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے آؤ۔ البتہ نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص تقوی اختیار کرے۔۔ اور گھروں میں ان کے دروازوں ہی سے آؤ۔ اور اللہ سے تقوی اختیار کئے رہو تاآنکہ فلاح پاجاؤ۔
  190. وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴿190﴾

    اور اللہ کی راہ میں لڑو ان لوگوں سے جو تم سے لڑتے ہیں۔ اور حد سے باہر مت نکلو کہ اللہ حد سے باہر نکل جانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
  191. وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ﴿191﴾

    اور انہیں جہاں کہیں پاؤ قتل کرو اور جہاں سے انہیں نے تمہیں نکالا ہے تم انہیں نکالو۔ فتنہ تو قتل سے (بھی) سخت تر ہے۔ اور ان سے مسجد حرام کے قریب قتال نہ کرو جب تک وہ (خود) تم سے قتال نہ کریں۔ ہاں اگر وہ (خود) تم سے قتال کریں تو (تم بھی) انہیں قتل کرو یہی سزا ہے کافروں کی۔
  192. فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿192﴾

    پھر اگر وہ باز آجائیں۔ تو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔
  193. وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ﴿193﴾

    اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فساد (عقیدہ) باقی نہ رہ جائے۔ اور دین اللہ ہی کے لیے رہ جائے۔ سو اگر وہ باز آجائیں۔ تو سختی (کسی پر بھی) نہیں بجز (اپنے حق میں) ظلم کرنے والوں کے۔
  194. اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ﴿194﴾

    حرمت والا مہینہ تو حرمت والے مہینہ کے عوض میں ہوتا ہے۔ اور حرمتیں معاوضہ کی چیزیں ہیں۔ تو جو کوئی تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر زیادتی کرو۔ جیسی اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جانتے رہو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
  195. وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ﴿195﴾

    اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔ اور اپنے کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور اپنے کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو اور اچھے کام کرتے رہو یقیناً اللہ اچھے کام کرنے والوں کو پسند کرتا ہے
  196. وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ع﴿196﴾

    : اور حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو۔ پھر اگر گھر جاؤ تو جو بھی قربانی کا جانور میسر ہو (اسے پیش کردو) ۔ اور جب تک قربانی اپنے مقام پر پہنچ جائے اپنے سر نہ منڈاؤ۔ لیکن اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کچھ تکلیف ہو تو وہ روزوں سے یاخیرات یا ذبح سے فدیہ دے دے لیکن جب تم حالت اطمینان ہو۔ تو پھر جو شخص عمرہ سے مستفید ہو اسے حج سے ملا کر تو جو قربانی بھی اسے میسر ہو وہ کر ڈالے اور جس کسی کو میسر ہی نہ آئے۔ وہ تین دن کے روزے زمانہ حج میں رکھ ڈالے اور سات روزے جب تم واپس ہو یہ پورے دس (روزے) ہوئے۔ یہ۔ اس کے لیے (درست) ہے جس کے اہل مسجد حرام کے قریب نہ رہتے ہوں۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جانے رہو کہ اللہ سخت گرفت کرنے والا ہے۔
  197. اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ﴿197﴾

    اہم حج کے (چند) مہینے معلوم ہیں۔ جو کوئی ان میں اوپر حج مقرر کرے۔ تو پھر حج میں نہ کوئی فحش بات ہونے پائے اور نہ کوئی بےحکمی اور نہ کوئی جھگڑا۔ اور جو کوئی بھی نیک کام کرو گے اللہ کو اس کا علم ہوکر رہے گا۔ اور زاد راہ لے لیا کرو۔ اور بہترین زاد راہ تو تقوی ہے۔ سو اے اہل فہم میرا ہی تقوی اختیار کئے رہو۔
  198. لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ﴿198﴾

    تمہیں اس باب میں کوئی مضائقہ نہیں کہ تم اپنے پروردگار کے ہاں سے تلاش معاش کرو۔ پھر جب تم جوق در جوق عرفات سے واپس ہونے لگو۔ تو اللہ کا ذکر مشعر حرام کے پاس کرلیا کرو۔ اور ان کا ذکر اس طرح کرو جیسا اس نے تمہیں بتایا ہے۔ اور اس سے قبل تم یقیناً محض ناواقفوں میں تھے۔
  199. ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿199﴾

    ہاں تو تم وہاں جا کر واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں۔ اور اللہ سے مغفرت طلب کرو بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔
  200. فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴿200﴾

    پھر جب تم اپنے مناسک ادا کررہے ہو۔ تو اللہ کی یاد کرو اپنے باپ دادوں کی یاد کی طرح بلکہ یہ یاد اس سے بھی بڑھ کر ہو۔ اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے ہمیں دنیا (ہی) میں دے دے۔ اور ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔
  201. وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ﴿201﴾

    اور کوئی ان میں ایسے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے ہم کو دنیا میں (بھی) بہتری دے اور آخرت میں (بھی) بہتری اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچائے رکھنا۔
  202. اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿202﴾

    یہ وہ لوگ ہیں جنہیں۔ حصہ مل کر رہے گا بہ عوض اس کے کہ جو انہوں نے عمل کر رکھا ہے اور اللہ حساب بہت جلد لے لے گا۔
  203. وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿203﴾

    اور اللہ کو (ان چند) گنے ہوئے (دنوں) میں (برابر) یاد کرتے رہو۔ جو شخص (ان) دو دونوں میں جلدی کرے اس پر (بھی) کوئی گناہ نہیں۔ اور جو تاخیر کرے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ (یہ) اس کے لئے جو ڈرتا رہتا ہے۔۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جانتے رہو کہ تم (سب) اسی کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔
  204. وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ﴿204﴾

    اور لوگوں میں ایسا شخص بھی ہے۔ کہ اس کی گفتگو جو دنیوی غرض سے اچھی معلوم ہوتی ہے اور جو اس کے دل میں ہے اس پر وہ اللہ کو گواہ لاتا ہے ! درآنحالیکہ وہ شدید ترین دشمن ہے۔
  205. وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ﴿205﴾

    اور جب پیٹھ پھیر کرجاتا ہے تو اس دوڑ دھوپ میں رہتا ہے کہ زمین پر فساد کرے اور کھیتی اور جانوروں کو تلف کرے۔ درآنحالیکہ اللہ فساد کو (بالکل) پسند نہیں کرتا۔
  206. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ﴿206﴾

    اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خوف خدا کرو تو اسے نخوت گناہ پر (اور زیادہ) آمادہ کردیتی ہے۔ سو اس کے لیے جہنم بس ہے اور بری سے بری آرام گاہ ہے !
  207. وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ﴿207﴾

    اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنی جان (تک) اللہ کی رضا جوئی میں بیچ ڈالتا ہے۔ اور اللہ بندوں کے حق میں بڑا شفیق ہے۔
  208. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴿208﴾

    اے ایمان والو اسلام میں پورے داخل ہوجاؤ۔ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو وہ تو تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے
  209. فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿209﴾

    پھر اگر تم بعد اس کے کہ تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں پہنچ چکی ہیں ڈگمگاگئے تو جانے رہو کہ اللہ بڑا زبردست ہے بڑا حکیم ہے
  210. هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ع﴿210﴾

    (یہ لوگ) تو بس اسی کا انتظار کررہے ہیں کہ ان کے پاس خدا بادل کے سائبانوں میں آجائے اور فرشتے (بھی) ۔ اور قصہ ہی ختم ہوجائے اور اللہ ہی کی طرف (سارے) معاملات رجوع کئے جائیں گے
  211. سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿211﴾

    (آپ) بنی اسرائیل سے پوچھ دیکھئے ہم نے انہیں کھلی نشانیاں کتنی دے رکھی تھیں اور جو کوئی اللہ کی نعمت کو بدل ڈالے بعد اس کے کہ وہ اس کو پہنچ چکی ہو تو اللہ بھی سزا دینے میں بڑا سخت ہے۔
  212. زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴿212﴾

    خوشنما کردی گئی ہے دنیوی زندگی ان لوگوں کی نظر میں جو کافر ہیں اور وہ ان لوگوں سے تمسخر کرتے ہیں جو ایمان لے آئے ہیں۔ (درآنحالیکہ) جو لوگ ڈرتے رہتے ہیں وہ ان سے (کہیں) اوپر ہوں گے قیامت کے دن۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا رہتا ہے۔
  213. كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿213﴾

    لوگ ایک ہی امت تھے۔۔ پھر اللہ نے انبیاء بھیجے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے۔ اور ان کے ساتھ کتب حق نازل کیں۔ کہ وہ لوگوں کے درمیان اس باب میں فیصلہ کرے جس میں وہ اختلاف رکھتے تھے۔ اور کسی نے اس میں اختلاف نہیں کیا مگر انہی نے جنہیں وہ ملی تھی انہی کی ضد کے باعث بعد اس کے کہ انہیں کھلی ہوئی نشانیاں پہنچ چکی تھیں۔ پھر اللہ نے اپنے فضل سے انہیں جو ایمان والے تھے وہ امر حق بتادیا جس کے بارے میں وہ اختلاف کررہے تھے۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے راہ راست بتا دیتا ہے۔
  214. اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ﴿214﴾

    کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ درآنحالیکہ (ابھی) تم پر ان لوگوں کے حالات پیش نہیں آئے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ انہیں تنگی اور سختی پیش آئی اور انہیں ہلا ڈالا گیا۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور جو لوگ ان کے ہمراہ ایمان لائے تھے بول اٹھے۔ کہ اللہ کی امداد (آخر) کب آئے گی۔ سن رکھو اللہ کی امداد یقیناً قریب ہی ہے۔
  215. یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ﴿215﴾

    آپ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں۔ آپ کہہ دیجئے کہ جو کچھ تمہیں مال سے خرچ کرنا ہے۔ سو وہ حق ہے والدین کا اور عزیزوں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا۔۔ اور جو بھی نیکی کروگے اللہ کو اس کا پورا علم رہتا ہے۔
  216. كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ع﴿216﴾

    تمہارے اوپر قتال فرض کردیا گیا ہے۔ درآنحالیکہ وہ تم پر گراں ہے۔ لیکن کیا عجب کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور کیا عجب کہ تم کسی چیز کو پسند کرتے ہو اور وہ تمہارے حق میں (باعث) خرابی ہو۔۔ اور علم تو اللہ ہی رکھتا ہے اور تم علم نہیں رکھتے۔
  217. یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿217﴾

    اور آپ سے حرمت والے مہینے کی بابت (یعنی) اس میں قتال کی بابت دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اس میں قتال کرنا بڑا (گناہ) ہے۔ اور اس سے کہیں بڑے (جرم) اللہ کے نزدیک اللہ کی راہ سے روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام سے روک دینا اور اس سے اس کے رہنے والوں کو نکال دینا ہیں۔ ۔ اور فتنہ سے (کہیں) بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ تم سے جنگ جاری ہی رکھیں گے تاآنکہ اگر ان کا بس چلے تو تمہیں تمہارے دین سے پھیر ہی کر ہیں۔ اور جو کوئی بھی تم میں سے اپنے دین سے پھرجائے اور اس حال میں کہ وہ کافر ہے مرجائے تو یہی وہ لوگ ہیں کہ ان کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکارت گئے۔ اور یہ اہل دوزخ ہیں اسی میں (ہمیشہ) پڑے رہنے والے۔
  218. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿218﴾

    بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ تو یہی لوگ اللہ کی رحمت کی امید رکھیں گے۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔
  219. یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ﴿219﴾

    (لوگ) آپ سے شراب اور قمار کی بابت دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ ان میں بڑا گناہ ہے۔ اور لوگوں کے لئے فائدے بھی ہیں۔ اور ان کا گناہ ان کے فائدوں سے کہیں بڑھا ہوا ہے۔ اور (لوگ) آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کتنا خرچ کریں۔۔ آپ کہ دیجئے کہ جتنا آسان ہو۔۔ اللہ اسی طرح تمہارے لئے کھول کر احکام بیان کرتا ہے تاکہ تم سوچ لیا کرو
  220. فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿220﴾

    دنیا اور آخرت کے (معاملات) میں۔ اور (لوگ) آپ سے یتیموں کے باب میں د ریافت کرتے ہیں۔۔ آپ کہ دیجئے کہ مصلحت کی رعایت رکھنا بہتر ہے۔ اور اگر تم ان کے ساتھ (خرچ) شامل رکھو تو وہ تمہارے بھائی (ہی) ہیں۔۔ اللہ کو علم ہے کہ مفسد (کون) ہے اور مصلح (کون) ۔ اور اللہ اگر چاہتا تو تم کو پریشانی میں ڈال دیتا۔ اللہ یقیناً زبردست ہے حکمت والا ہے۔
  221. وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ع﴿221﴾

    اور نکاح مشرک عورتوں کے ساتھ نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ کہ مومنہ کنیز تک بہتر ہے (آزاد) مشرک عورت سے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو۔ اور اپنی عورتوں کو (بھی) مشرکوں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور مومن غلام تک بہتر ہے۔ مشرک (آزاد) سے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو وہ لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور اللہ جنت ومغفرت کی طرف بلا رہا ہے۔ اور لوگوں سے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
  222. وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ﴿222﴾

    اور لوگ آپ سے حیض کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ آپ کہ دیجئے کہ وہ ایک (طرح کی) گندگی ہے۔ پس تم عورتوں کو حیض کے دوران میں چھوڑے رہو۔۔ اور جب تک وہ پاک نہ ہو ان سے قربت نہ کرو۔ پھر جب وہ پاک ہوجائیں۔ تو ان کے پاس آؤ جس جگہ سے اللہ نے تمہیں اجازت دے رکھی ہے۔ بیشک اللہ محبت رکھتا توبہ کرنے والوں سے اور محبت رکھتا ہے پاک صاف رہنے والوں سے۔
  223. نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿223﴾

    تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں۔ سو تم اپنے کھیت میں آؤ جس طرح چاہو۔ اور اپنے حق میں آیندہ کے لیے کچھ کرتے رہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یقین رکھو کہ تمہیں اس سے ملنا ہے۔ اور آپ ایمان والوں کو خوشخبری سنا دیجئے۔
  224. وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿224﴾

    اور اللہ (کے نام) کو اپنی قسموں کے ذریعہ سے اپنی نیکی کے اور اپنے تقوی کے اور اپنی اصلاح خلق کے کاموں کے حق میں حجاب نہ بنا لو۔ اور اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔
  225. لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ﴿225﴾

    اللہ تمہاری قسموں میں سے لایعنی (قسم) پر مؤخذہ نہ کرے گا البتہ تم سے اس (قسم) پر مؤاخذہ کرے گا۔ جس پر تمہارے دلوں نے قصد کیا ہے اور اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا برد بار ہے۔
  226. لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿226﴾

    جو لوگ اپنی بیویوں سے (ہمبستری کرنے کی) قسم کھا بیٹھے ہیں ان کے لیے مہلت چار ماہ تک ہے۔ پھر اگر یہ لوگ رجوع کرلیں تو اللہ بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔
  227. وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿227﴾

    اور اگر طلاق (ہی) کا پختہ ارادہ کرلیں۔ تو بیشک اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔
  228. وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿228﴾

    اور طلاقنیں اپنے کو تین میعادوں تک روکے روکے رہیں۔۔ اور ان کے لیے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو پیدا کر رکھا ہے اسے وہ چھپائے رکھیں۔ اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اور ان کے شوہران کے واپس لے لینے کے اس (مدت) میں زیادہ حقدار ہیں۔ بشرطیکہ اصلاح حال کا قصد رکھتے ہو۔ اور عورتوں کا (بھی) حق ہے جیسا کہ عورتوں پر حق ہے۔ موافق دستور (شرعی) کے۔ اور مردوں کو ان کے اوپر ایک گونہ فضیلت حاصل۔ اور اللہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  229. اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴿229﴾

    طلاق تو دو ہی بار کی ہے۔ اس کے بعد (یا تو) رکھ لینا ہے قاعدے کے مطابق یا پھر خوش عنوانی کے ساتھ چھوڑع دینا ہے۔ اور تمہارے لیے جائز نہیں کہ جو مال تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو۔ ہاں بجز اس صورت کے کہ جب اندیشہ ہو کہ اللہ کے ضابطوں کو دونوں قائم نہ رکھ سکیں گے۔ سو اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ تم اللہ کے ضابطوں کو قائم نہ رکھ سکوگے۔ تو دونوں پر اس (مال) کے باب میں کوئی گناہ نہ ہوگا جو عورت معاوضہ میں دے دے۔ یہ (سب) اللہ کے ضابطے ہیں سو ان سے باہر نہ نکلنا اور جو کوئی اللہ کے ضابطوں سے باہر نکل جائے گا سو ایسے لوگ تو (اپنے حق میں) ظلم کرنے والے ہیں۔
  230. فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿230﴾

    پھر اگر کوئی اپنی عورت کو طلاق دے ہی دے۔۔ تو وہ عورت اس کے لیے اس کے بعد جائز نہ رہے گی یہاں تک یہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔ پھر اگر وہ (بھی) اسے طلاق دے دے۔ تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ پھر مل جائیں۔ بشرطیکہ دونوں گمان غالب رکھتے ہوں کہ اللہ کے ضابطوں کو قائم رکھیں گے۔ اور یہ بھی اللہ کے ضابطے ہیں انہیں وہ کھول کر ان لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے جو علم رکھتے ہیں۔
  231. وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ع﴿231﴾

    اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو۔ اور وہ اپنی مدت گزرنے پر پہنچ جائیں۔ تو (اب یا تو) انہیں عزت کے ساتھ روکے رکھو اور یا عزت کے ساتھ رہائی دے دو ۔ اور ان کو تکلیف پہنچانے کی غرض سے نہ روکے رہو۔ اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ اپنی ہی جان پر ظلم کرے گا۔ اورا للہ کے احکام کو ہنسی (کھیل) نہ سمجھو۔ اور اللہ کی نعمتیں اپنے اوپر یاد کرو۔ اور (اس) کتاب و حکمت کو بھی جو اس نے تم پر اتاری ہے کہ اس سے وہ تمہیں نصیحت کرتا رہتا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جاتے رہو کہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
  232. وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿232﴾

    اور جب تم طلاق دے چکو اپنی عورتوں کو اور پھر وہ اپنی مدت کو پہنچ چکیں۔ تو تم انہیں اس سے مت روکو۔ کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ وہ آپس میں سب شرافت کے ساتھ راضی ہوں۔ اس (مضمون) سے نصیحت کی جاتی ہے تم میں سے اس شخص کو جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ یہی تمہارے حق میں پاکیزہ تر اور صاف تر ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ہو۔
  233. وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿233﴾

    اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلائیں پورے دو سال۔ (یہ مدت) اس لیے ہے جو رضاعت کی تکمیل کرنا چاہے۔ اور جس کا بچہ ہے اس کے ذمہ ہے ان (ماؤں) کا کھانا اور کپڑا موافق دستور کے۔ کسی شخص کو حکم نہیں دیا جاتا بجز اس کی برداشت کے بہ قدر۔ نہ کسی ماں کو تکلیف پہنچائی جائے اس کے بچہ کے باعث اور نہ کسی باپ کو تکلیف پہنچائی جائے اس کے بچہ کے باعث۔ اور اسی طرح (کا انتظام) وارث کے ذمہ بھی ہے۔ پھر اگر دونوں اپنی باہمی رضامندی اور مشورہ سے دودھ چھڑا دینا چاہیں۔ تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔ اور اگر تم لوگ اپنے بچوں کو (کسی اور انا کا) دودھ پلوانا چاہو تب بھی تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم (ان کے) حوالے کردو جو کچھ انہیں دینا ہے موافق دستور کے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور جانے رہو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کا خوب دیکھنے والا ہے۔
  234. وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿234﴾

    اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینہ اور دس دن تک روکے رکھیں۔ ۔ پھر جب وہ اپنی مدت تک پہنچ جائیں۔ تو تم پر اس باب میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ عورتیں اپنی ذات کے بارے میں کچھ (کاروائی) کریں کے ساتھ۔ اور جو تم کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔
  235. وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ع﴿235﴾

    اور تم پر کوئی گناہ میں نہیں کہ تم ان (زیر عدت) عورتوں کے پیغام نکاح کے باب میں کوئی بات اشارۃ کہو یا (یہ ارادہ) اپنے دلوں ہی میں پوشیدہ رکھ۔ اللہ کو تم کہ تم ان عورتوں کا ذکر مذکور کروگے۔ البتہ ان سے کوئی وعدہ خفیہ (بھی) نہ کرو۔ مگر ہاں کوئی بات عزت و حرمت کے موافق (چاہوتو) کہہ دو ۔ اور عقد نکاح کا عزم اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ میعاد مقرر اپنے ختم کو نہ پہنچ جائے۔ اور جانے رہو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے۔ سو اس سے ڈرتے رہو اور جانے رہو کہ اللہ بخشنے والا ہے بڑا بردبار ہے۔
  236. لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ﴿236﴾

    تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم ان بیویوں کو جنہیں تم نے نہ ہاتھ لگایا اور نہ ان کے لیے مہر مقرر کیا طلاق دے دو ۔ وسعت والے کے ذمہ اس کی حیثیت کے لائق ہے اور تنگی والے کے ذمہ اس کی حیثیت کے لائق۔ (یہ) خرچ شرافت کے موافق ہو (اور یہ) واجب ہے خوش معاملہ لوگوں پر۔
  237. وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿237﴾

    اور اگر تم نے انہیں طلاق دے دی ہے قبل اس کے کہ انہیں ہاتھ لگایا ہو لیکن ان کے لیے کچھ مقرر کرچکے ہو تو جتنا مہر تم نے مقرر کیا ہے اس کا آدھا واجب ہے بجز اس صورت کے کہ (یا تو) وہ عورتیں خود معاف کردیں یا وہ (اپنا حق) معاف کردے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔۔ اور اگر تم (اپنا حق) معاف کردو تو یہ بہت ہی قرین تقوی ہے۔ اور آپس میں لطف و احسان نظر انداز نہ کرو۔ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ یقیناً اس کا خوب دیکھنے والا ہے۔
  238. حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ﴿238﴾

    (سب ہی) نمازوں کی پابندی رکھو۔ اور (خصوصا) درمیانی نماز کی۔ اور اللہ کے سامنے عاجزوں (کی طرح) کھڑے رہا کرو۔
  239. فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ﴿239﴾

    لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو تو تم پیدل ہی (پڑھ لیا کرو) یا سواری پر۔ پھر جب تم امن میں آجاؤ تو اللہ کو یاد کیا کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا ہے جس کو تم جانتے (بھی) نہ تھے۔
  240. وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿240﴾

    اور جو لوگ تم میں سے وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں (ان پر لازم ہے) اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت (کرجانے) کی کہ وہ ایک سال تک (گھر سے) نکالی نہ جائیں۔ لیکن اگر (خود) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں اس باب میں جسے وہ (بیویاں) اپنے باب میں شرافت کے ساتھ کریں۔ اور اللہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  241. وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ﴿241﴾

    اور طلاقنوں کے حق میں بھی نفع پہنچانا دستور کے موافق مقرر ہے۔
  242. كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ع﴿242﴾

    (یہ) پرہیزگاروں پر واجب ہے۔ اللہ اسی طرح تمہارے لئے کھول کر اپنے احکام بیان کرتا ہے شاید کہ تم سمجھو۔
  243. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ﴿243﴾

    کیا تجھے خبر نہیں۔ ان لوگوں کی کہ جو اپنے گھروں سے نکل گئے تھے موت سے بچنے کے لئے اور وہ ہزاروں ہی تھے۔ تو اللہ نے ان سے کہا کہ مرجاؤ۔ پھر اس نے انہیں جلا دیا۔ بیشک اللہ انسانوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔ لیکن اکثر انسان شکر نہیں ادا کرتے۔
  244. وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿244﴾

    اور اللہ کی راہ میں قتال کرو۔ اور جانے رہو کہ اللہ بڑا سننے والا ہے خوب جاننے والا ہے۔
  245. مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿245﴾

    کون ایسا ہے جو اللہ کو اچھا قرضہ قرض دے۔ پھر اللہ اسے بڑھا کر اس کے لیے کئی گنا کردے۔ اور اللہ ہی تنگی بھی کرتا ہے اور فراخی بھی کرتا ہے۔ اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
  246. اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ﴿246﴾

    کیا تجھے خبر نہیں موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کی ایک جماعت کی۔ جب کہ ان لوگوں نے اپنے نبی سے کہا۔ کہ ہمارے لئے ایک امیر مقرر کر دیجئے کہ ہم خدا کی راہ میں قتال کریں۔ (نبی نے) کہا کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر تم پر قتال فرض کردیا جائے تو تم قتال نہ کرو ؟ ۔ وہ بولے بھلاہمارے لیے کونسا ایسا سبب ہوسکتا ہے کہ ہم خدا کی راہ میں نہ لڑیں ڈرآنحالی کہ ہم نکالے جاچکے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنے فرزندوں سے۔۔ لیکن جب ان پر قتال فرض کردیا گیا تو وہ (سب) پھرگئے بجز ان میں ایک قلیل تعداد کے۔ اور اللہ ظالموں سے خوف واقف ہے۔
  247. وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴿247﴾

    اور ان لوگوں سے ان کے نبی نے کہا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو امیر مقرر کردیا ہے۔ وہ بولے اسے ہمارے اوپر کیسے امیری حاصل ہوسکتی ہے درآنحالیکہ ہم اس سے بڑھ کر امیری کے مستحق ہیں اور اسے مال میں بھی تو وسعت نہیں دی گئی ہے۔ (نبی نے) کہا کہ اسے اللہ نے تمہارے مقابلہ میں انتخاب کرلیا ہے۔ اور اسے علم وجسم دونوں میں کشادگی زیادہ دی ہے۔۔ اور اللہ اپنا ملک جیسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ بڑا وسعت والا ہے بڑا علم والا ہے۔
  248. وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ع﴿248﴾

    اور ان سے ان کے نبی نے کہا کہ اس کی امارت کا نشان یہ ہے۔ کہ تمہارے پاس وہ صندوق (از خو د) آجائے گا جس میں (سامان) تسکین تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے۔ اور کچھ بچی ہوئی چیزیں بھی جنہیں آل موسیٰ اور آل ہارون چھوڑ گئے ہیں۔ اس (صندوق) کو فرشتے لے آئیں گے۔ بیشک اس واقعہ میں تمہارے لئے ایک نشان ہے۔ اگر تم ایمان والے ہو
  249. فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴿249﴾

    پھر جب طالوت فوجوں کو لے کر بڑھے تو بولے۔ کہ اللہ تمہارے امتحان ایک دریا کے ذریعہ سے لینا چاہتا ہے۔ سو جو کوئی اس میں سے پانی پی لے گا وہ میرا نہیں ہے۔ اور جو کوئی اسے نہ چکھے سو وہی میرا ہے مگر ہاں جو کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے لے (اس کا مضائقہ نہیں)۔ ۔ لیکن ان (سب) نے اس سے پی لیا بجز ان میں سے تھوڑے سے (آدمیوں) کے۔ پھر جب طالوت اور مومنین بھی ان کے ساتھ اس (دریا) سے اتر گئے تو وہ بولے کہ آج تو ہم میں جالوت اور اس کی فوجوں سے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ اور وہ لوگ جنہیں یقین تھا کہ اللہ کے روبروپیش ہوں گے۔ بولے کہ بارہا چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتیں پر اللہ کے حکم سے غالب آگئی ہیں۔ اور اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
  250. وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ﴿250﴾

    اور جب وہ جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابل آئے تو بولے اے ہمارے پروردگار ہمارے اوپر صبر ڈال دے اور ہمارے قدم جمائے رکھ اور ہمیں غالب کر کافر لوگوں پر۔
  251. فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ﴿251﴾

    پھر انہوں نے ان کو اللہ کے حکم سے شکست دے دی۔ اور داؤد ؑ نے جالوت کو قتل کردیا۔ اور اللہ نے داؤد ؑ کو بادشاہت اور دانائی عطا کی اور جو کچھ چاہا انہیں سکھایا۔ اور اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو (روئے) زمین پر فساد برپا ہوجاتا۔ لیکن اللہ تو جہان والوں پر بڑا فضل رکھنے والا ہے۔
  252. تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ﴿252﴾

    یہ اللہ کی آیتیں ہیں ہم انہیں آپ کو پڑھ کر سناتے ہیں ٹھیک ٹھیک۔ اور آپ یقیناً مرسلین میں سے ہیں۔
  253. تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ع﴿253﴾

    ان رسولوں میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دے رکھی ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا ہے۔ ان میں سے بعض کے درجے اس نے بلند کئے ہیں۔ اور ہم نے عیسیٰ ابن مریم ؑ ۔ کو شواہد عطاء کئے۔ اور ہم نے ان کی تائید روح القدس کے ذریعہ سے کی۔ اور اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو ان کے بعد کے لوگ آپس میں خونریزی نہ کرتے بعد ان کے کہ ان کے پاس شواہد آچکے تھے۔ لیکن (لوگ) آپس میں جھگڑے۔ کوئی تو ان میں سے ایمان لے آیا اور کوئی ان میں سے کفر ہی کرتا رہا۔ اور اگر اللہ کی مشیت ہی ہوتی تو وہ آپس میں خونریزی نہ کرتے۔ لیکن اللہ وہی کرتا ہے جو ارادہ کرلیتا ہے۔
  254. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴿254﴾

    اے ایمان والو جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ قبل اس کے کہ وہ دن آجائے۔ جس میں نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی اور نہ سفارش اور کافر ہی تو ظالم ہیں۔
  255. اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ﴿255﴾

    اللہ (وہ ہے کہ) کوئی معبود اس کے سوا نہیں۔ وہ زندہ ہے سب کا سنبھالنے والا ہے۔ اسے نہ اونگھ آسکتی ہے نہ نیند۔ اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ کون ایسا ہے جو اس کے سامنے بغیر اس کی اجازت کے سفارش کرسکے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ مخلوقات کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اس سب کو۔ اور وہ اس کے معلومات کے میں سے کسی چیز کو بھی گھیر نہیں سکتے۔ سوا اس کے کہ جتنا وہ خود چاہے۔ اس کی کرسی نے سما رکھا ہے۔ آسمانوں اور زمین کو اور اس پر ان کی نگرانی ذرہ بھی گراں نہیں۔ اور وہ عالی شان ہے عظیم الشان ہے۔
  256. لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿256﴾

    دین میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت وگمراہی سے صاف صاف کھل چکی ہے۔ تو جو کوئی طاغوت سے کفر کرے اور اللہ پر ایمان لے آئیں اس نے ایک بڑا مضبوط حلقہ تھام لیا۔ جس کے لیے کوئی شکستگی نہیں۔ اور وہ بڑا سننے والا اور بڑا جاننے والا ہے۔
  257. اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ع﴿257﴾

    اللہ ان کا ساتھی ہے جو ایمان لائے۔ اور انہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکال کر لاتا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے ساتھی شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر تاریکیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہی لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں ہمیشہ پڑے رہیں گے۔
  258. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ﴿258﴾

    کیا تو نے اس شخص کے حال پر نظر نہیں کی۔ جس نے ابراہیم ؑ سے اس کے رب کے بارے میں مباحثہ کیا تھا۔ اس سبب سے کہ اللہ نے اسے بادشاہت دے رکھی تھی۔ جبکہ ابراہیم ؑ نے اس سے کہا کہ میرا رب۔ تو وہ ہے جو زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے۔ وہ بولا کہ زندگی اور موت تو میں دیتا ہوں ابراہیم ؑ نے کہا اچھا اللہ تو آفتاب کو مشرق سے نکالتا ہے تو اسے مغرب سے نکال دکھا۔ اس پر وہ جو کافر تھا دنگ رہ گیا۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو راہ ہدایت نہیں دکھاتا۔
  259. اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿259﴾

    یا (پھر) اس شخص (کے حال پر نظر کی) ۔ جو ایک بستی سے گزرا تھا اس حال میں کہ وہ (بستی) اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی تھی۔ وہ کہنے لگا اللہ اس (آبادی) کو اس کے مرے پیچھے کیوں کر جلا اٹھائے گا ؟ ۔ سو اللہ نے اس (شخص) کو سو سال تک مردہ رکھا پھر اسے جلا اٹھایا۔ (پھر) پوچھا تو کتنی مدت (اس حالت میں) رہا اس نے کہا میں رہا (اس حالت میں) کوئی دن بھر یا اس کا کچھ حصہ۔ فرمایا نہیں بلکہ تو سو سال (کی مدت) تک رہا۔ اپنے کھانے اور پینے کی طرف تو دیکھ (کہ اب تک) وہ سڑا گلا نہیں ہے۔ اور اپنے گدھے کو دیکھ۔ اور (یہ سب) اس لئے کہ ہم تجھے ایک نشان لوگوں کے لیے بنائیں۔ اور ہڈیوں کی طرف دیکھ ہم انہیں کس طرح ترتیب دیتے ہیں اور پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ پھر جب اس پر (یہ سب) روشن ہوگیا تو اس نے کہا میں یقین رکھتا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
  260. وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿260﴾

    اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جب ابراہیم ؑ نے عرض کی کہ اے میرے پروردگار مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح جلائے گا۔ ارشاد ہوا کیا آپ کو یقین نہیں ہے۔ عرض کی ضرور ہے لیکن (یہ درخواست) اس لیے ہے کہ قلب کو (اور) اطمینان ہوجائے۔ ارشاد ہوا کہ اچھا چار پرندے لیجئے۔ پھر انہیں اپنے سے ہلالیجئے پھر ان میں کا ایک ایک حصہ پہاڑ پر رکھ دیجئے۔ پھر ان کو اپنی طرف بلائیے (تو) وہ دوڑتے ہوئے آپ کے پاس چلے آئیں گے۔ اور یقین رکھیے کہ اللہ بڑا زبردست ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  261. مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴿261﴾

    جو لوگ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں ان کے مال کی مثال ایسی ہے۔ جیسے کہ ایک دانہ ہے کہ اس سے سات بالیاں اگیں ہر ہر بالی کے اندر سو دانے ہوں۔ اور اللہ جسے چاہے افزونی دیتارہتا ہے۔ اللہ بڑا وسعت والا ہے۔ بڑا علم والا ہے۔
  262. اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿262﴾

    جو لوگ اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرچکے ہیں اس کے عقب میں احسان واذیت سے کام نہیں لیتے۔ ان کے لیے اس کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوب (واقع) ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
  263. قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ﴿263﴾

    مناسب بات اور درگزر ایسی خیرات سے بہتر ہے جس کے عقب میں اذیت ہو۔ اللہ بڑا غنی ہے بڑا بردبار ہے۔
  264. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ﴿264﴾

    اے ایمان والو اپنے صدقوں کو احسان (رکھ کر) اور اذیت (پہنچا کر) باطل نہ کردو۔ جس طرح وہ شخص اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کے دکھاوے کو اور اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ سو اسکی مثال تو ایسی ہے کہ جیسے ایک چکنا پتھر ہے جس پر کچھ مٹی ہے پھر اس پر زور کی بارش ہو سو وہ اس کو بالکل صاف کردے۔ (ایسے لوگ) کچھ بھی نہ حاصل کرسکیں گے اپنی کمائی سے۔ اور اللہ کافر لوگوں کو راہ ہدایت نہ دکھائے گا۔
  265. وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿265﴾

    اور ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال رضائے الہی کی طلب میں خرچ کرتے رہتے ہیں اور اپنے نفس میں پختگی (پیدا کرنے کی غرض سے) ۔ ایک باغ کی طرح ہے جو کسی ٹیکرے پر ہو اور اس پر زور کا مینہ پڑا ہو پھر وہ دوگنے پھل لایا ہو۔ اور اگر زور کا مینہ نہ بھی پڑے تو ہلکی پھوار (ہی کافی ہے) ۔ اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو خوب دیکھنے والا ہے۔
  266. اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ع﴿266﴾

    کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک باغ کھجوروں اور انگوروں کا ہو جس کے نیچے نہریں پڑی بہہ رہی ہوں (اور) اس کے ہاں اس باغ میں (اور بھی) ہر قسم کے میوے ہوں اور اس کا بڑھاپا آچکا ہو اور اس کے عیال کمزور ہوں اس (باغ) پر ایک بگولا آئے کہ اس میں آگ ہو تو وہ (باغ) جل جائے اللہ اسی طرح تمہارے لیے کھول کر نشانیاں بیان کرتا ہے تاکہ تم فکر سے کام لو۔
  267. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴿267﴾

    اے ایمان والو جو تم نے کمایا ہے اس سے عمدہ چیزیں خرچ کرو۔ اور اس میں سے (بھی) جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی ہیں۔ اور خراب چیز کا قصد بھی نہ کرو کہ اس میں سے خرچ کرو گے حالانکہ تم خود بھی اس کے لینے والے نہیں ہو بجز اس صورت کے کہ چشم پوشی ہی کرجاؤ۔ اور جانے رہو کہ اللہ بےنیاز ہے ستودہ صفات ہے۔
  268. اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ﴿268﴾

    شیطان تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے اور حکم دیتا ہے تمہیں بخل کا۔ اور اللہ تم سے اپنی طرف سے مغفرت کا اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا وسعت والا ہے بڑا علم والا ہے۔
  269. یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ﴿269﴾

    وہ جسے چاہے حکمت عطا کرتا ہے اور جسے حکمت عطاء ہوگئی اسے یقیناً خیر کثیر عطا ہوگئی۔ اور نصیحت تو بس صاحبان فہم ہی قبول کرتے ہیں۔
  270. وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ﴿270﴾

    اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو یا جو نذر مانتے ہو یقیناً اللہ (سب کچھ) جانتا ہے اور ناانصافوں کا حامی کوئی بھی نہ ہوگا۔
  271. اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿271﴾

    اگر تم صدقات کو ظاہر کردو جب بھی اچھی بات ہے اور اگر انہیں چھپاؤ اور فقیروں کو دو جب تو یہ تمہارے حق میں اور بہتر ہے۔ اور اللہ تم سے تمہارے کچھ گناہ بھی دور کردے گا۔ اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔۔
  272. لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ﴿272﴾

    A ان کی ہدایت آپ کے ذمہ نہیں۔ بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تم جو کچھ بھی مال میں سے خرچ کرتے ہو سوا پنے لئے (کرتے ہو) ۔ اور تم اللہ ہی کی رضاجوئی کے لیے خرچ کرتے ہو۔ اور تم مال میں سے جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو (سب) تم کو پورا پورا لوٹا دیا جائے گا اور تم پر (ذرا بھی) زیادتی نہ کی جائے گی۔
  273. لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ع﴿273﴾

    (اصل) حق ان حاجتمندوں کے لیے جو اللہ کی راہ میں گھر گئے ہیں۔ ملک میں کہیں چل پھر نہیں سکتے۔ ناواقف انہیں غنی خیال کرتا ہے ان کی احتیاط سوال کے باعث۔ تو انہیں ان کی بشرہ ہی سے پہچان لے گا۔ وہ لوگ سے لگ لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور تم مال میں سے جو کچھ خرچ کرتے ہو اللہ اس کا خوب جاننے والا ہے۔
  274. اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ﴿274﴾

    جو لوگ اپنا مال رات اور دن (اور) پوشیدہ اور آشکارا خرچ کرتے رہتے ہیں سو ان لوگوں کے لیے ان کے پر ورگار کے پاس اجر ہے نہ ان کے لئے کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
  275. اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿275﴾

    جو لوگ سود کھاتے رہتے ہیں۔ وہ لوگ نہ کھڑے ہوسکیں گے سو اس کے کہ جیسے وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان نے جنون سے خبطی بنادیا ہو۔ یہ سزا اس لئے ہوگی کہ وہ کہتے ہیں۔ کہ بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہے۔ حالانکہ اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ پھر جس کسی کو نصیحت اس کے پروردگار کی طرف سے پہنچ گئی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ پہلے ہوچکا وہ اس کا ہوچکا۔ اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ رہا۔ اور جو کوئی پھر عود کرے تو یہی لوگ دوزخ والے ہیں اس میں وہ ہمیشہ پڑے رہیں گے۔
  276. یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ﴿276﴾

    اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اور اللہ کسی کفر کرنے والے گنہگار کو دوست نہیں رکھتا۔
  277. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿277﴾

    بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اور نماز کی پابندی کی اور زکوٰۃ دی ان کے لیے ان کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
  278. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿278﴾

    اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اے چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔
  279. فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ﴿279﴾

    لیکن تم نے ایسا نہ کیا تو خبردار ہوجاؤ جنگ کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے۔ اور اگر تم توبہ کرلو گے تو تمہارے اصل اموال تمہارے ہی ہیں۔ نہ تم (کسی پر) ظلم کروگے نہ تم پر (کسی کا) ظلم ہوگا۔
  280. وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿280﴾

    اور اگر تنگدست ہے تو اس کے لیے آسودہ حالی تک مہلت ہے۔ اور اگر معاف کردو تو تمہارے حق میں (اور) بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔
  281. وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ع﴿281﴾

    اور اس دن سے ڈرتے رہو جس میں تم (سب) اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر ہر شخص کو اس کا معاوضہ پورا پورا ملے گا اور ان پر ظلم (ذرا بھی) نہ ہوگا۔
  282. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿282﴾

    اے ایمان والو جب ادھار کا معاملہ کسی مدت معین تک کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو۔ اور لازم ہے کہ تمہارے درمیان لکھنے والا ٹھیک ٹھیک لکھے اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اللہ نے اس کو سکھادیا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ لکھ دے اور چاہیے کہ وہ شخص لکھوائے جس کے ذمہ حق واجب ہے۔ اور چاہیے کہ وہ اپنے پروردگار اللہ سے ڈرتا رہے اور اس میں سے کچھ بھی کم نہ کرے۔ پھر اگر وہ جس کے ذمہ حق واجب ہے عقل کا کوتاہ ہو یا یہ کہ کمزور ہو۔ اور اس قابل نہ ہو کہ وہ خود لکھوا سکے۔ تو لازم ہے کہ اس کا کارکن ٹھیک ٹھیک لکھوا دے۔ اور اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ کرلیا کرو۔ پھر اگر دونوں مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ تاکہ ان دوعورتوں میں سے ایک دوسری کو یاد دلا دے اگر کوئی ایک ان دو میں سے بھول جائے۔ اور گواہ جب بلائے جائیں تو انکار نہ کریں۔ اور اس (معاملت) کو خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی اس کی میعاد تک لکھنے سے اکتا نہ جاؤ یہ کتابت اللہ کے نزدیک زیادہ سے زیادہ قرین عدل ہے اور شہادت کو درست تر رکھنے والی ہے اور زیادہ سزاوار اس کی کہ تم شبہ میں نہ پڑو۔ بجز اس کے کہ کوئی سودا دست بدست ہو جسے تم باہم لیتے ہی رہتے ہو سو تم پر اس میں کوئی الزام نہیں کہ تم اسے نہ لکھو۔ اور جب خرید وفروخت کرتے ہو (تب بھی) گواہ کرلیا کرو۔ اور کسی کاتب اور گواہ کو نقصان نہ دیا جائے۔ اور اگر (ایسا) کرو گے تو یہ تمہارے حق میں ایک گناہ (شمار) ہوگا۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
  283. وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ع﴿283﴾

    اور اگر تم سفر میں ہو اور کوئی کاتب نہ پاؤ۔ سو رہن رکھنے کی چزیں ہی جو قبضہ میں دے دی جائیں۔ اور تم میں سے کوئی کسی اور پر اعتبار رکھتا ہے۔ تو جس کا اعتبار کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ دوسرے کی امانت (کا حق) ادا کردے اور چاہیے کہ اللہ (یعنی) اپنے پروردگار سے ڈرتا رہے۔ اور گواہی کو مت چھپاؤ اور جو کوئی اسے چھپائے گا اس کا قلب گنہگارہو گا۔ اور تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس کا بڑا جاننے والا ہے۔
  284. لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿284﴾

    اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور جو کچھ تمہارے نفسوں کے اندر ہے اگر تم اس کو ظاہر کردو۔ یا اسے چھپائے رکھو بہرحال اللہ اس کا حساب تم سے لے گا۔ پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
  285. اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ﴿285﴾

    پیغمبر ایمان لائے اس پر جو ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اور مومنین (بھی) یہ سب ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیمبروں پر۔ ہم اس کے پیغمبروں میں باہم کوئی فرق بھی نہیں کرتے۔ اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی۔ اہم تیری مغفرت (طلب کرتے ہیں) اے ہمارے پروردگار۔ اور تیری ہی طرف واپسی ہے
  286. لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ع﴿286﴾

    اللہ کسی کو ذمہ دار نہیں بناتا مگر اس کی بساط کے مطابق۔ اسے ملے گا وہی جو کچھ اس نے کمایا اور اس پر پڑے گا وہی جو کچھ اس نے کمایا۔ اے ہمارے پروردگار ہم پر گرفت نہ کر اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ڈالا تھا ان لوگوں پر جو ہم سے پیشتر تھے۔ اے ہمارے پروردگار ہم سے وہ نہ اٹھوا جس کی برداشت ہم سے نہ ہو۔ اور ہم سے درگزر کر اور ہم کو بخش دے۔ اور ہم پر رحم کر تو ہی ہمارا کارساز ہے۔ سو ہم کو غالب کر کافر لوگوں پر۔