Sunan At-Tirmidhi 2203صحیح
لکڑی کی تلوار بنانے کے بارے میں
حدیث نمبر: 2203
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُدَيْسَةَ بِنْتِ أُهْبَانَ بْنِ صَيْفِيٍّ الْغِفَارِيِّ، قَالَتْ: جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى أَبِي، فَدَعَاهُ إِلَى الْخُرُوجِ مَعَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: إِنَّ خَلِيلِي وَابْنَ عَمِّكَ عَهِدَ إِلَيَّ إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ أَنْ أَتَّخِذَ سَيْفًا مِنْ خَشَبٍ ، فَقَدِ اتَّخَذْتُهُ فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِهِ مَعَكَ، قَالَتْ: فَتَرَكَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ.
عدیسہ بنت اہبان غفاری کہتی ہیں کہ میرے والد کے پاس علی (رض) آئے اور ان کو اپنے ساتھ لڑائی کے لیے نکلنے کو کہا، ان سے میرے والد نے کہا : میرے دوست اور آپ کے چچا زاد بھائی (رسول اللہ ﷺ ) نے مجھے وصیت کی کہ جب لوگوں میں اختلاف ہوجائے تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں ، لہٰذا میں نے بنا لی ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے لے کر آپ کے ساتھ نکلوں، عدیسہ کہتی ہیں : چناچہ علی (رض) نے میرے والد کو چھوڑ دیا ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عبیداللہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں محمد بن مسلمہ (رض) سے بھی روایت ہے۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الفتن ١٠ (٣٩٦٠) (تحفة الأشراف : ١٧٣٤) (حسن صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : لکڑی کی تلوار بنانے کا مطلب فتنہ کے وقت قتل و خوں ریزی سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہے۔
قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (3960)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2203
Sayyidah Udaysah bint Uhban ibn Sayfi (RA) narrated Sayyidina Ali ibn Abu Taub (RA) came to my father and asked him to enlist with him (for a battle). My father said to him, My friend and your cousin took a promise from me that when people dispute with each other, I should make for myself a sword of wood. So, I have taken it up and if you like I will come out with you.’ So, he left him alone. [Ibn Majah 3960]