Sunan At-Tirmidhi 2753ضعیف
اس بارے میں دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 2753
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ رَجُلًا قَعَدَ وَسْطَ حَلْقَةٍ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ، أَوْ لَعَنَ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَعَدَ وَسْطَ الْحَلْقَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مِجْلَزٍ اسْمُهُ لَاحِقُ بْنُ حُمَيْدٍ.
ابومجلز سے روایت ہے کہ ایک آدمی حلقہ کے بیچ میں بیٹھ گیا، تو حذیفہ نے کہا : محمد ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ شخص ملعون ہے جو بیٹھے ہوئے لوگوں کے حلقہ (دائرہ) کے بیچ میں جا کر بیٹھے ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابومجلز کا نام لاحق بن حمید ہے۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ١٧ (٤٨٢٦) (تحفة الأشراف : ٣٣٨٩) ، و مسند احمد (٥/٣٨٣، ٤٠١) (ضعیف) (ابو مجلز اور حذیفہ (رض) کے درمیان سند میں انقطاع ہے )
وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد وہ آدمی ہے جو مجلس کے کنارے نہ بیٹھ کر لوگوں کی گردنوں کو پھاندتا ہوا بیچ حلقہ میں جا کر بیٹھے ، اور لوگوں کے درمیان حائل ہوجائے ، البتہ ایسا آدمی جس کا انتظار اسی بنا پر ہو کہ وہ مجلس کے درمیان آ کر بیٹھے تو وہ اس لعنت میں داخل نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (638) ، المشکاة (4722) // ضعيف الجامع الصغير (4694) ، ضعيف أبي داود (1028 / 4826) //
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2753
Abu Mijlaz reported that a man sat in the center of a circle (of men). Hudhaifa (RA) said to him, “He who sits in the centre of a circle si accursed by the tongue of Muhammad or cursed by Allah through the tongue ot Muhammad.’ [Abu Dawud 4826]