Sunan At-Tirmidhi 2752صحیح
اس بارے میں دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 2752
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ أَيْضًا.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھ کر تفریق پیدا کرے مگر ان کی اجازت سے ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کو عامر احول نے عمرو بن شعیب سے بھی روایت کی ہے۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٢٤ (٤٨٤٤، ٤٨٤٥) (تحفة الأشراف : ٨٦٥٦) ، و مسند احمد (٢/٢١٣) (حسن صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ بیٹھے ہوئے دو آدمیوں کے درمیان بغیر اجازت کسی کا بیٹھنا صحیح نہیں ، اگر وہ دونوں اجازت دے دیں تو پھر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، المشکاة (7403 / التحقيق الثاني)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2752
Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It is not lawful for a man that he separate two men (and sit between them) without their permission.” [Ahmed 7078,Abu Dawud 4845]