Maarif-ul-Quran - Al-Hijr : 45
قَالَ لَمْ اَكُنْ لِّاَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَهٗ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ
قَالَ : اس نے کہا لَمْ اَكُنْ : میں نہیں ہوں لِّاَسْجُدَ : کہ سجدہ کروں لِبَشَرٍ : انسان کو خَلَقْتَهٗ : تو نے اس کو پیدا کیا مِنْ : سے صَلْصَالٍ : کھکھناتا ہوا مِّنْ : سے حَمَاٍ : سیاہ گارا مَّسْنُوْنٍ : سڑا ہوا
یہ جہنّم(جس کی وعید پَیروانِ ابلیس کے لیے کی گئی ہے)اس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ مخصوص کر دیا گیا ہے۔26
سورة الْحِجْر 26 جہنم کے یہ دروازے ان گمراہیوں اور معصیتوں کے لحاظ سے ہیں جن پر چل کر آدمی اپنے لیے دوزخ کی راہ کھولتا ہے۔ مثلاً کوئی دہریت کے راستے سے دوزخ کی طرف جاتا ہے، کوئی شرک کے راستہ سے، کوئی نفاق کے راستہ سے، کوئی نفس پرستی اور فسق و فجور کے راستہ سے، کوئی ظلم و ستم اور خلق آزاری کے راستہ سے، کوئی تبلیغ ضلالت اور اقامت کفر کے راستہ سے، اور کوئی اشاعت فحشاء و منکر کے راستہ سے۔
Top