Ruh-ul-Quran - Al-Waaqia : 51
ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ
ثُمَّ اِنَّكُمْ : پھر بیشک تم اَيُّهَا الضَّآلُّوْنَ : اے گمراہو الْمُكَذِّبُوْنَ : جھٹلانے والو
اے گمراہو، اور جھٹلانے والو
ثُمَّ اِنَّـکُمْ اَیُّھَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ ۔ لَاٰکِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ ۔ فَمَالِـُٔوْنَ مِنْھَا الْبُطُوْنَ ۔ فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْہِ مِنَ الْحَمِیْمِ ۔ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْھِیْمِ ۔ ھٰذَا نُزُلُہُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ ۔ (الواقعۃ : 51 تا 56) (اے گمراہو، اور جھٹلانے والو !۔ تم شجرِزقوم کی غذا کھائو گے۔ پھر اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر کھولتا پانی پیو گے۔ تونس لگے ہوئے اونٹوں کی طرح۔ یہ ان کی پہلی مہمانی ہوگی جزاء کے دن کی۔ ) قریش سے مزید کہا گیا، اے گمراہو اور جھٹلانے والو ! کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی بجائے شرک کا راستہ اختیار کیا، اور آخرت کو تم ہمیشہ جھٹلاتے رہے۔ اب تم آخرت میں پکڑے گئے ہو، اب تمہیں جہنم میں زقوم کے خاردار اور کڑوے پھلوں سے اپنا پیٹ بھرنا ہوگا۔ اور جب تمہاری پیاس بھڑکے گی تو تم کھولتا ہوا پانی پیو گے۔ اور اس طرح پیو گے جیسے تونس لگے ہوئے اونٹ پیتے ہیں۔ ھِیْمِجمع ہے اَھْیَمْ کی۔ اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کو ھیام یعنی تونس کی بیماری لگ جائے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ پانی پیتا چلا جاتا ہے، لیکن اس کی پیاس نہیں بجھتی۔ آخر میں فرمایا کہ یہ ان بدبختوں کی جہنم میں پہلی ضیافت ہوگی جو ان کے سامنے پیش کی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کی۔ اس نے جسم و جان کی رعنائیوں اور بیشمار نعمتوں سے انھیں نوازا۔ لیکن بجائے شکر ادا کرنے کے، استکبار کا رویہ اختیار کیا، اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کی بجائے اکڑ گئے۔ تو اب جہنم میں ان کے ساتھ وہ سلوک ہورہا ہے جو کسی ذلیل ترین انسان سے بھی نہیں ہوتا۔ لیکن اس پہلی ضیافت کے بعد کون اندازہ کرسکتا ہے کہ اس کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔
Top