Tafseer-al-Kitaab - Nooh : 6
فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا
فَلَمْ يَزِدْهُمْ : تو نہ زیادہ کیا ان کو دُعَآءِيْٓ : میری پکارنے اِلَّا فِرَارًا : مگر فرار میں
اللہ نے بہترین کلام نازل کیا ہے (یعنی) ایسی کتاب جس کی تمام آیات ہم رنگ ہیں (اور لوگوں کو سمجھانے کے لئے) بار بار دہرائی گئی ہیں۔ (اس کتاب کی تاثیر یہ ہے کہ) جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں (اس کے سنتے ہی) ان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر یاد الٰہی کی طرف (راغب) ہوتے ہیں۔ یہ (کتاب) ہدایتِ الٰہی ہے جس کے ذریعے سے اللہ ہدایت کرتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جس کو اللہ گمراہ کر دے تو پھر کوئی بھی اس کو ہدایت دینے والا نہیں۔
[16] پورا قرآن بیک وقت تو اترا نہیں بلکہ بتدریج ایک مدت دراز تک (یعنی تقریباً 23 سال تک) نازل ہوتا رہا۔ اگر یہ کسی انسان کا بنایا ہوا ہوتا تو ایسی کیا بات ہے کہ اتنی مدت تک ہمہ وقت اس کے خیالات یکساں رہیں اور اس کے مضامین میں تضاد نہ پایا جائے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ شروع سے لے کر آخر تک قرآن ایک نسق پر چلا جاتا ہے اور جو تعلیم مدنظر ہے وہ قرآن کی ہر ہر جگہ سے ٹپک رہی ہے اور یہی اس کے کلام الٰہی ہونے کی بڑی دلیل ہے۔
Top