Tafseer-al-Kitaab - An-Nisaa : 58
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ
اَلَمْ تَرَ : کیا تم نے نہیں دیکھا اِلَى : طرف الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو اُوْتُوْا : دیا گیا نَصِيْبًا : ایک حصہ مِّنَ : سے الْكِتٰبِ : کتاب يَشْتَرُوْنَ : مول لیتے ہیں الضَّلٰلَةَ : گمراہی وَيُرِيْدُوْنَ : اور وہ چاہتے ہیں اَنْ : کہ تَضِلُّوا : بھٹک جاؤ السَّبِيْلَ : راستہ
(مسلمانو، ) اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کردیا کرو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ کیا ہی اچھی بات ہے جس کی اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے۔ بلاشبہ وہ (سب کچھ) سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے۔
[47] یعنی جو لوگ جس منصب کے اہل ہوں انہی کو اس پر فائز کرو، جو خیر امت ہوں انہیں اقتدار کی ذمہ داریاں سونپو۔ یہاں کلام کے سیاق وسباق میں '' امانات '' سے مراد ذمہ داری کے عہدے اور مناصب ہی ہیں۔
Top