Tafseer-e-Majidi - An-Nisaa : 74
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا
اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ يَاْمُرُكُمْ : تمہیں حکم دیتا ہے اَنْ : کہ تُؤَدُّوا : پہنچا دو الْاَمٰنٰتِ : امانتیں اِلٰٓى : طرف (کو) اَھْلِھَا : امانت والے وَاِذَا : اور جب حَكَمْتُمْ : تم فیصلہ کرنے لگو بَيْنَ : درمیان النَّاسِ : لوگ اَنْ : تو تَحْكُمُوْا : تم فیصلہ کرو بِالْعَدْلِ : انصاف سے اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ نِعِمَّا : اچھی يَعِظُكُمْ : نصیحت کرتا ہے بِهٖ : اس سے اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ كَانَ : ہے سَمِيْعًۢا : سننے والا بَصِيْرًا : دیکھنے والا
تو (اگر یہ ہے تو) اسے چاہیے کہ اللہ کی راہ میں لڑے،207 ۔ A ان لوگوں سے جو دنیا کی زندگی خریدے ہوئے ہیں آخرت کے عوض میں،208 ۔ اور جو کوئی اللہ کی راہ میں لڑتا ہے تو مارا جائے یا جیت جائے (بہرصورت) ہم اس کو عنقریب اجر عظیم دیں گے،209 ۔
207 ۔ (اخلاص کامل اور اللہ کی رضا جوئی کی نیت سے) (آیت) ’ فلیقاتل “۔ میںکے معنی ہیں کہ اگر واقعی اسے فوز عظیم ہی منظور ہے۔ 208 ۔ یعنی کافروں سے قتال کرے جو دین کی صحیح تعلیم کو بھلائے ہوئے ہیں اور آخرت کے منکر ہیں۔ (آیت) ” یشرون “۔ شراء لغات اضداد میں سے ہے۔ یعنی اس کے معنی خریدنے کے بھی ہیں اور فروخت کرنے کے بھی۔ کچھ اس بنا پر اور کچھ آیت کی ترکیب الفاظ کی بنا پر، آیت کے ایک بالکل دوسرے معنی بھی کئے جاسکتے ہیں اور کئے گئے ہیں۔ یعنی ” وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑیں جو دنیا کی زندگی آخرت کے عوض میں فروخت کرچکے ہیں۔ “ اور اس صورت میں آیت کا تعلق تمام تر مومنین مخلصین سے ہوگا جو اپنی ہر دنیوی خوشحالی اور کامرانی کو رضاء الہی پر قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ ائمہ تفسیر نے دونون ہی پہلو اختیار کئے ہیں۔ وللمفسرین وجھان الاول ان یشرون معناہ یبیعون والقول الثانی معنی قولہ یشرون ای یشترون (کبیر) یشرون بمعنی یشترون ویبیعون (کشاف) نزلت فی المنافقین ومعنی یشرون یشترون وقیل نزلت فی ال مومنین المخلصین ومعنی یشرون یبیعون (معالم) 209 ۔ (آخرت میں) یہ آخرت کا اجر عظیم مجاہدین کے لئے غلبہ اور شکست (کہ اس کی انتہائی صورت کو (آیت) ” فیقتل “۔ سے تعبیر کیا ہے) کہ ہر صورت میں موعود ہے۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ فوز عظیم کو اجر سے تعبیر کرنا وعدہ کے تاکد اور ترتب کے تیقن کے لئے ہے۔
Top