Tafseer-al-Kitaab - Al-Faatiha : 4
الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
الَّذِیْ جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ : تمہارے لئے الْاَرْضَ : زمین فِرَاشًا : فرش وَالسَّمَآءَ : اور آسمان بِنَاءً : چھت وَاَنْزَلَ : اور اتارا مِنَ السَّمَآءِ : آسمان سے مَاءً : پانی فَاَخْرَجَ : پھر نکالے بِهٖ : اس کے ذریعے مِنَ : سے الثَّمَرَاتِ : پھل رِزْقًا : رزق لَكُمْ : تمہارے لئے فَلَا تَجْعَلُوْا : سو نہ ٹھہراؤ لِلّٰہِ : اللہ کے لئے اَنْدَادًا : کوئی شریک وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : اور تم جانتے ہو
روز جزا کا مالک ہے۔
[10] یعنی اس دن کا مالک جب تمام انسانوں کو جمع کر کے ان کے کارنامہ زندگی کا حساب لیا جائے گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا صلہ اور بدلہ مل جائے گا۔ مالک وہ ہوتا ہے جسے پورے اختیارات حاصل ہوں۔ مجرم کو چاہے تو بخش دے چاہے تو سزا دے۔ کوئی اس سے باز پرس کرنے والا نہیں اور کوئی اس پر حاکم نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف میں رحمن اور رحیم کہنے کے بعد روز جزا کا مالک کہنے سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ صرف مہربان ہی نہیں بلکہ منصف بھی ہے۔
Top