Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Open Surah Introduction
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafheem-ul-Quran - Al-An'aam : 141
مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ
مَالِكِ
: مالک
يَوْمِ
: دن
الدِّينِ
: بدلہ
جو اس دن کا مالک ہے جس دن کاموں کا بدلہ لوگوں کے حصے میں آئے گا
حقیقی مالک ہرچیز کا ” اللہ “ ہی ہے :
16
: ” ملک “ کی ” اصل “ م ل ک ہے۔ الملک بادشاہ جو عوام پر حکمرانی کرتا ہے ” ملک “ کو اس جگہ ملک بھی پڑھا گیا ہے اور ” مالک “ بھی ۔ مفہوم دونوں طرح پڑھنے سے ایک ہی رہتا ہے۔ مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ
003
قیامت کے روز اسی کی بادشاہت ہوگی۔ یہ اصل میں ملک الملک فی یوم الدین ہے اور دوسری جگہ فرمایا : لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَ
1
ؕ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ
0016
اور مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ
003
قیامت کے روز کا مالک ہے۔ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ (
3
:
26
) ” مالک “ کا لفظ قرآن مجید میں
3
بار استعمال ہوا ہے۔ مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ
003
(الفاتحہ
1
:
3
) ۔
2
: (ال عمران
3
:
26
) ۔
3
: (الزخرف
43
:
77
) ” ملک یوم الدین “ فاتحہ کی چوتھی آیت ہے :
17
: یوم اور ” الیوم “ کی ” اصل “ ی و م ہے۔ یوم طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کی مدت اور وقت پر بولا جاتا ہے اور عربی زبان میں مطلقاً وقت اور زمانہ کے لئے استعمال ہوتا ہے خواہ وہ زمانہ ایک دن کا ہو یا ایک سال کا ، ایک صدی کا یا ہزار سال کا یا ہزارہا سال کا۔ جمع ایام ، ایام اللہ ، اللہ کی نعمتیں۔ من اول یوم یعنی سب سے پہلادن۔ یوما اسم ظرف منصوب۔ دن یوم ، الیوم کا لفظ قرآن مجید میں
348
بار استعمال ہوا ہے۔ ” الدین “ کی اصل کیا ہے ؟ اور اس کا مطلب کیا ؟
18
: ” الدین “ کی ” اصل “ د ی ن ہے۔ دین بمعنی جزاء ، اطاعت شریعت ، بدلہ دینا ، اطاعت کرنا ، حکم ماننا۔ ” دین “ بمعنی ملت ہی ہے مگر اس کا استعمال اطاعت اور شریعت کی پابندی کے معنی میں ہوتا ہے۔ دان یدین کا مصدر ہے اور ” ادیان “ جمع ، دین۔ دام ، قرض ، ادھار ، قرض دینا ، قرض لینا۔ دان یدین کا مصدر ہے۔ دیون جمع ہے۔ ” یوم الدین “ خالصتاً اسلامی اصطلاح ہے :
19
: ” یَوْمِ الدِّیْنِ “ بدلے کا دن ، (انصاف کا دن ، جزا و سزا کا دن ، قیامت کا دن) ۔ نزول قرآن کے وقت پیروان مذاہب کا عالمگیر اعتقاد یہ تھا کہ جزا و سزا محض خدا کی خوشنودی اور اس کے قہر و غضب کا نتیجہ ہے۔ اعمال کے نتائج کو اس میں کوئی دخل نہیں۔ وہ دیکھتے تھے کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کبھی خوش ہو کر انعام و اکرام دینے لگتا ہے ، کبھی بگڑ کر سزائیں دینے لگتا ہے اس لئے خیال کرتے تھے کہ خدا کا بھی ایسا ہی حال ہے۔ لیکن قرآن کریم نے جزا و سزا کا اعتقاد ایک دوسری ہی شکل و نوعیت کا پیش کیا۔ وہ کہتا ہے کہ کائنات ہستی کا عالمگیر قانون یہ ہے کہ ہر حالت کوئی نہ کوئی اثر رکھتی ہے اور ہرچیز کا کوئی نہ کوئی خاصہ ہے۔ ممکن نہیں یہاں کوئی شے اپنا وجود رکھتی ہو اور اثرات و نتائج کے سلسلہ سے وہ باہر ہو۔ پس جس طرح خدا نے عالم دنیا کے اجسام میں خواص و نتائج رکھے ہیں۔ اس طرح اعمال میں بھی خواص و نتائج ہیں اور اعمال کے انہیں خواص و نتائج کو جزا و سزا کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اچھے عمل کا نتیجہ اچھائی ہے اور یہی ثواب کہلاتا ہے۔ برے عمل کا نتیجہ برائی ہے اور اس کو عذاب کہتے ہیں۔ ثواب و عذاب کے ان اثرات کی نوعیت کیا ہوگی ؟ وحی الٰہی نے ہماری فہم و استعداد کے مطابق اس کا ایک نقشہ کھینچا ہے اور اس نقشہ میں ایک مرقع بہشت کا ہے اور ایک دوزخ کا۔ بہشت کے انعامات ان کے لئے جن کے اعمال بہشتی ہوں گے اور دوزخ کی عقوبتیں ان کے لئے جن کے اعمال دوزخی ہوں گے۔ وہ کہتا ہے ، تم دیکھتے ہو کہ فطرت ہر گوشہ وجود میں اپنا قانون مکافات رکھتی ہے ممکن نہیں کہ اس میں تغیر و تساہل ہو۔ فطرت نے آگ میں یہ خاصہ رکھا ہے کہ جلائے۔ اب سوزش اور جل جانا فطرت کی وہ مکافات ہوگئی جو ہر اس انسان کے لئے ہے جو آگ کے شعلوں میں ہاتھ ڈال دے۔ ممکن نہیں کہ تم آگ میں کود جائو اور اس فعل کے مکافات سے بچ جائو ، تم دیکھتے ہو کہ آگ جلاتی ہے پانی ٹھنڈک پیدا کرتا ہے۔ سنکھیا کھانے سے موت آتی ہے اور دودھ پینے سے طاقت و قوت بڑھتی ہے اور کونین سے بخار رک جاتا ہے جب اشیاء کی ان تمام مکافات پر تم کو تعجب نہیں ہوتا کیونکہ یہ تمہاری زندگی کی یقینیات ہیں تو پھر اعمال کے مکافات پر کیوں تعجب ہوتا ہے ؟ افسوس تم پر ! تم اپنے فیصلوں میں کتنے ناہموار ہو۔ تم گیہوں بوتے ہو اور تمہارے دل میں کبھی خدشہ نہیں گزرتا گیہوں پیدا نہیں ہوگا۔ اگر تم سے کوئی کہے کہ ممکن ہے گیہوں کی جگہ جوار پیدا ہوجائے تو تم اسے پاگل سمجھو گے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ فطرت کے قانون مکافات کا یقین تمہاری طبیعت میں راسخ ہوچکا ہے۔ تمہارے وہم و گمان میں کبھی یہ خطرہ نہیں گزر سکتا کہ فطرت گیہوں لے کر اس کے بدلے میں جوار دے گی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تم یہ بھی نہیں مان سکتے کہ اچھی قسم کے گیہوں لے کر بری قسم کے گیہوں دے گی اس لئے کہ تم جانتے ہو کہ وہ بدلہ دینے میں قطعی اور شک و شبہ سے بالاتر ہے پھر بتلائو جو فطرت گیہوں کے بدلے گیہوں اور جوار کے بدلے جوار دے رہی ہے کیونکر ممکن ہے کہ اچھے عمل کے بدلے اچھا اور برے عمل کے بدلے برا نتیجہ نہ رکھتی ہو ؟ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے جزاء و سزا کے لئے ” الدین “ کا لفظ اختیار کیا کیونکہ مکافات عمل کا مفہوم ادا کرنے کے لئے سب سے زیادہ موزوں لفظ یہی تھا۔ پھر ” مٰلِكِ یَوْمِ الدِّیْنِؕ
003
“ کہہ کر اس مضمون کو مزید پکا کردیا کہ وہ اللہ جس کے فیصلوں میں کبھی ردو بدل نہیں ہوتا۔ جو اپنے فیصلے کو نہ خود بدلتا ہے اور نہ بدلنے دیتا ہے۔ مکافات عمل کے دن کا وہ مالک ہے۔ وہ اپنی رحمت اور ربوبیت کے باوجود عدالت بھی رکھتا ہے اور اس کے انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ اچھے اعمال کی جزا اچھی اور برے اعمال کی جزا بری ہو اور یہی مکافات عمل ہے۔ مزید دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات کو پیدا کیا اور نظام ربوبیت کے تحت ہرچیز کو انسان کی خدمت پر لگا دیا جدھر دیکھو خشکی اور تری پر اس کی رحمت اور نعمت کی چادریں پھیلی ہوئی نظر آتی ہیں۔ مادی ترقی کے ساتھ ساتھ اس نے روح کی نشو ونما کا انتظام بھی فرمایا اور راہ ہدایت میں صراط مستقیم بتانے کے لئے کتابیں اور رسول بھیجے اور آخر میں آخری پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر اپنی آخری کتاب قرآن مجید نازل فرما کر نعمت اسلام کی تکمیل فرمادی۔ اس سارے نظام ربوبیت کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایسا دن ضرور ہونا چاہیے جس میں اس امر کا فیصلہ ہوسکے کہ کس نے اللہ کی ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کیا اور کس نے ناشکری کی۔ کس نے اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت پر عمل کیا اور اس کے احکام کی تعمیل کی اور کس نے اس کے ہدایت اور اس کے احکام کو ٹھکرادیا۔ ایسا دن تو دنیا میں ہو نہیں سکتا کیونکہ یہ دارالعمل ہے ، اس لئے لامحالہ ایسا دن دنیا کے اختتام پر ہی ہوسکتا ہے۔ اسی دن کا نام ” یوم الدین “ ہے اور اس کو یوم آخر یا روزجزاء کہتے ہیں کیونکہ یہ دن دنیا کے ختم ہونے پر آئے گا اس میں نیک و بداعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس دن میں ہر قسم کے تمام اختیارات صرف اور صرف اللہ کے قبضے میں ہوں گے وہاں مجازی طور پر بھی کسی کو کوئی اختیار یا اقتدار حاصل نہیں ہوگا۔ اس کی وضاحت کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ اہل کتاب کے علماء سوء ان کے احبارو رہبان اور ان کے پیروں اور پادریوں کو چونکہ حق چھپانے ، حق و باطل کو ملانے ، غلط بیانی کرنے اور تورات و انجیل کی آیتوں میں لفظی اور معنوی تحریفیں اور تبدیلیاں کرنے کی عادت پڑچکی تھی اس لئے انہوں نے اپنے عوام میں بہت سے غلط عقائد پھیلا رکھے تھے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جابجا ان کے کرتوتوں کو ظاہر فرمایا ہے تاکہ امت محمدیہ اس سے عبرت حاصل کرے چناچہ ارشاد ہوتا ہے : وَ قَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ ہُمْ یَعْلَمُوْنَ
0075
(بقرہ
2
:
75
) ” ان (یہود) میں ایک گروہ ایسا تھا جو اللہ کا کلام سنتا تھا اور اس کا مطلب سمجھتا تھا لیکن پھر بھی جان بوجھ کر اس میں تحریف کردیتا تھا یعنی اس کا مطلب بدل دیتا تھا “۔ بنی اسرائیل کی سب سے پہلی گمراہی یہ تھی کہ نہ تو کتاب اللہ کا سچا علم ان میں باقی رہا اور نہ سچا عمل۔ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے : یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (رح)
0071
(آل عمران
3
:
71
) ” اے اہل کتاب ! کیوں حق و باطل کے ساتھ ملا جلا کر مشتبہ کردیتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ اصلیت کیا ہے ؟ “ ایک جگہ ارشاد ہوا : سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ
1
ؕ (المائدہ
5
:
42
) ” یہ لوگ جھوٹ کے لئے کان لگانے والے اور برے طریقوں سے مال کھانے میں بیباک ہوچکے ہیں۔ “ یعنی رشوت اور نذرانہ لے کر فتویٰ دیتے ہیں اور احکام شرع کی خریدو فروخت کی دکان لگا رکھی ہے۔ اہل کتاب کے پادریوں اور صوفیوں نے آخرت کے بارے میں ایک نہایت ہی غلط تصور عوام کے ذہن نشین کرا رکھا تھا۔ اپنے متعلق تو انہوں نے عوامی ذہن میں یہ بات بٹھا رکھی تھی کہ ہم اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں اور اللہ کے بیٹے ہیں یعنی جس طرح باپ کی صفات بیٹوں میں ہوتی ہیں اسی طرح اللہ کی صفات ہم میں موجود ہیں اس لئے آخرت میں ہمیں تو کسی قسم کا عذاب ہوگا ہی نہیں۔ چناچہ قرآن مجید میں ہے : وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ وَ النَّصٰرٰى نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ (المائدہ
5
:
18
) ” اور یہودی اور عیسائی کہتے ہیں ، ہم خدا کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔ “ یعنی ہم جو کچھ بھی کریں ہمارے لئے نجات ہی نجات ہے۔ عوام کو انہوں نے یقین دلا رکھا تھا کہ جنت ان کے لئے ریزرو (Reserve) ہے ان کے سوا اور کوئی جنت میں داخل نہیں ہوسکے گا۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے : وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ کَانَ ہُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى
1
ؕ (البقرہ
2
:
111
) ” انہوں نے کہا جنت میں ہرگز داخل نہ ہوگا مگر وہی جو یہودی ہوگا یا عیسائی۔ “ حالانکہ ان کا یہ کہنا ان کے اپنے بیان کے بھی بالکل خلاف ہے کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کو برملا جھٹلا چکے ہیں۔ ارشاد الٰہی ہے : وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ
1
۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ
1
ۙ وَّ ہُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ
1
ؕ (البقرہ
1
:
113
) ” یہودی کہتے ہیں عیسائیوں کا دین کچھ نہیں ہے عیسائی کہتے ہیں یہودیوں کے پاس کیا دھرا ہے ؟ حالانکہ اللہ کی کتاب دونوں پڑھتے ہیں “۔ قرآن کہتا ہے خدا کی سچائی سب کے لئے ہے اور سب کو ملی تھی لیکن سب نے سچائی سے انحراف کیا۔ سب اصل کے اعتبار سے سچے اور عمل کے اعتبار سے جھوٹے ہیں میں چاہتا ہوں اسی مشترک اور عالمگیر سچائی پر سب کو جمع کردوں اور مذہبی نزاع کا خاتمہ ہوجائے۔ یہ مشترک اور عالمگیر سچائی کیا ہے ؟ خدا پرستی اور نیک عملی کا قانون ہے یہی قانون ہے جو خدا کا ٹھہرایا ہوا دین ہے اور اس کو میں ” الاسلام “ کے نام سے پکارتا ہوں۔ اہل کتاب کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کے پیر اور پادری سب حاجت روا مشکل کشا اور شفیع غالب ہیں اور قیامت کے دن ان کو عذاب سے بچالیں گے جیسا کہ قرآن مجید میں ان کے عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے : اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ
1
ۚ (التوبہ
9
:
31
) ” ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو پروردگار بنالیا تھا اور مریم (علیہا السلام) کے بیٹے مسیح علیہ لسلام کو بھی۔ “ سورۃ فاتحہ میں جس طرح دوسرے باطل عقیدوں کی تردید کی گئی ہے اسی طرح ” ملک یوم الدین “ سے اہل کتاب کے غلط تصور آخرت کی تردید فرمائی کہ قیامت کے دن کا مالک تو صرف اللہ ہی ہے اور اس کے ہاتھ میں سب کا حساب و کتاب اور عذاب وثواب ہے اجو ان لوگوں کے اپنے ہی کئے کا رزلٹ ہے۔ جن کو تم اللہ کے سوا معبود سمجھ رہے ہو اور ان کو مالک و مختارا اور شفیع غالب مان رہے ہو اور جن کے بارے میں تمہارا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن وہ خدا کے عذاب سے جو انہی کے کئے کا نتیجہ ہوگا چھڑا لیں گے۔ یاد رکھو قیامت کے دن ان کا کوئی زور نہیں چلے گا اور نہ ہی ان کو کسی قسم کے تصرف کا اختیار ہوگا اور نہ ہی وہ کوئی بات منوا سکیں گے کیونکہ تصرف صرف وہی کرسکتا ہے جو مالک و مختار ہو اور قیامت کے دن کا مالک صرف اور صرف اللہ ہی ہے اور سب کے نیک و بد اعمال کو جاننے والا بھی وہی ہے اسلئے وہی لوگوں کے اعمال کی جزا و سزا کا مالک ہے اس کے سوا کسی میں قدرت نہیں کہ اعمال کا حساب لے اور ہر ایک کے حسب حال اور حسب نیک و بداعمال کی جزا و سزا دے۔ یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْـًٔا
1
ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ (رح)
0019
(الانفطار
82
:
19
)
Top