Mazhar-ul-Quran - An-Nisaa : 8
اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ
اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ : بیشک وہ البتہ ایک قرآن ہے كَرِيْمٌ : عزت والا
اور جب تقسیم کے وقت رشتہ دار ( جن کا کوئی حصہ معین نہیں) اور یتیم اور مساکین آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دو اور ان کو اچھی بات کہو
اس آیت سے ظاہر ہے کہ میت کے ترکہ سے غیر وارث رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کو کچھ بطور صدقہ دینے اور قول معروف کہنے کا حکم دیا۔ زمانہ صحابہ میں اس پر عمل تھا۔ مسلمانوں میں یہ معمول ہے کہ وہ بھی اس آیت کا اتباع کرتے ہیں جس کو سوئم کہتے ہیں لیکن اسراف بےجا نہیں کرنا چاہیے اور عذر نرم لفظوں میں کردیا جاوے۔
Top