Bayan-ul-Quran - Al-Baqara : 67
یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ
يَا بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ : اے اولاد یعقوب اذْكُرُوْا : تم یاد کرو نِعْمَتِيَ : میری نعمت الَّتِیْ : جو اَنْعَمْتُ : میں نے بخشی عَلَيْكُمْ : تمہیں وَاَوْفُوْا : اور پورا کرو بِعَهْدِیْ : میرا وعدہ أُوْفِ : میں پورا کروں گا بِعَهْدِكُمْ : تمہارا وعدہ وَاِيَّايَ : اور مجھ ہی سے فَارْهَبُوْنِ : ڈرو
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ حق تعالیٰ تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم ایک بیل ذبح کرو وہ لوگ کہنے لگے کہ کیا آپ ہم کو مسخرا بناتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا نعوذبالله جو میں ایسی جہالت والوں کا سا کام کروں۔ (ف 1) (67)
1۔ بنی اسرائیل میں ایک خون ہوگیا تھا لیکن اس وقت قاتل کا پتہ نہ لگتا تھا بنی اسرائیل نے موسیٰ سے عرض کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ قاتل کا پتہ لگے آپ نے بحکم الہی ایک بیل کے ذبح کرنے کا حکم فرمایا اس پر انہوں نے اپنی جبلت کے موافق حجتیں نکالنا شروع کردیں۔
Top