Madarik-ut-Tanzil - Al-Baqara : 166
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ
يٰٓاَيُّهَا : اے الَّذِيْنَ اٰمَنُوا : جو لوگ ایمان لائے ادْخُلُوْا : تم داخل ہوجاؤ فِي : میں السِّلْمِ : اسلام كَآفَّةً : پورے پورے وَ : اور لَا تَتَّبِعُوْا : نہ پیروی کرو خُطُوٰتِ : قدم الشَّيْطٰنِ : شیطان اِنَّهٗ : بیشک وہ لَكُمْ : تمہارا عَدُوٌّ : دشمن مُّبِيْنٌ : کھلا
جو صاف صاف ہدایات تمہارے پا س آ چکی ہیں، اگر ان کو پا لینے کے بعد پھر تم نے لغز ش کھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے
[ فَاِنْ : پھر اگر ] [ زَلَلْتُمْ : تم لوگوں نے لغزش کھائی ] [ مِّنْم بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ جو ] [ جَآئَ تْکُمُ : آئیں تمہارے پاس ] [ الْبَـیِّنٰتُ : واضح (نشانیاں) ] [ فَاعْلَمُوْآ : تو جان لو ] [ اَنَّ : کہ ] [ اللّٰہَ : اللہ ] [ عَزِیْزٌ : بالادست ہے ] [ حَکِیْمٌ: دانا ہے ] ترکیب : ” اِنْ “ شرطیہ ہے۔ ” زَلَلْتُمْ “ سے ” اَلْبَیِّنٰتُ “ تک شرط ہے اور ” فَاعْلَمُوْا “ سے آخر تک جوابِ شرط ہے۔ ” جَائَ تْ “ کا مفعول ” کُمْ “ کی ضمیر ہے اور ” اَلْبَیِّنٰتُ “ اس کا فاعل ہے اور یہ صفت ہے ‘ اس کا موصوف ” الْاٰیٰتُ “ محذوف ہے۔
Top