Asrar-ut-Tanzil - Al-Waaqia : 39
ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ
ثُلَّةٌ : ایک بڑا گروہ ہوگا مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ : پہلوں میں سے
(ان میں) ایک بڑاگروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا
آیات 39 تا 74۔ اسرار ومعارف۔ ان میں پہلے لوگوں میں سے بھی بہت سے لوگ ہوں گے اور بعدوالوں سے بھی بہت سے کہ ہر نجات پانے والاشامل ہوجائے گا اللہ نے ویسے رحمت فرمادی یا کسی کی شفاعت کام آگئی یا دوزخ سے ہوکرآ گیا کہ مومن کے لیے دوزخ نری سزا ہی نہ ہوگی بلکہ گناہ کا کھوٹ جلانے کی تدبیر ہوگی لہذا نکل کر آیا تو بھی اصحاب الیمین میں شامل ہوگا اب رہے تیسری قسم کے لوگ کفار تو ان کا حال سن لیجئے کہ وہ بائیں والے کیسے بدبخت ہوں گے کہ جلتے ہوئے پانی کو تیز بھاپ اور کھولتے ہوئے پانی میں ڈالے جائیں گے اور ان پر دھواں ہی دھواں بھردیا جائے گا جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ اس میں کوئی فرحت ولذت ہوگی بلکہ عذاب ہی عذاب ہوگا کہ یہ لوگ دنیا میں تو اللہ کی نعمتیں صحت وزندگی اور مال واولاد میں مزے لوٹنے تھے لیکن ایسے بگڑ گئے تھے کہ بہت بڑا جرم یعنی کفر وشرک اختیار کررکھا تھا ورڈینگیں مارتے تھے کہ بھلاجب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے تو ہمیں کیسے زندہ کیا جائے گا یا ہمارے آباؤ وواجداد جن کی ہڈیاں خاک ہوچکیں انہیں کون زندہ کرسکے گا اور انہیں فرمادیجئے کہ سب اگلے پچھلے وقت مقررہ پر ایک ہی روز جمع کردیے جائیں گے اور تمہارے ان خرافات بکنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے منہ میں دوزخ کا تھوہڑ ٹھونسا جائے جو تمہیں کھانا بھی پڑے گا چھوڑ بھی نہ سکو گے اور کھانا بھی انتہائی کربناک ہوگا اور اس پر تمہیں کھولتا ہواپانی پلایاجائے گا جو منہ کی کھال ادھیڑ دے گا اور ہونٹوں سے لے کر انتڑیوں تک کاٹتا چلاجائے گا اور تم ایسے پیو گے جیسے کوئی پیاسا اونٹ پیتا ہے روز حشر ایسے لوگوں کی یہی مہمانی ہوگی آخر ہم نے ہی تم کو بار اول بھی تو پیدا کیا ہے اگر اے انسانو تم اپنی خلقت پر غورکرو تو کیوں نہ دوبارہ پیدا ہونے پر بھی ایمان لے آؤ آخرمانتے کیوں نہیں ہوکیاتم نے غور کیا کہ ایک نطفہ جو مرد وعورت کے باہمی اختلاط سے قرار پکڑتا ہے بھلاخود تمہارے وجود میں کیسے بنتا ہے کہ غذا تم کھاتے ہو اور بیج کسی اور وجود کا بن رہا ہوتا ہے یعنی اس کے حصے کے ذرات تمہارے خون سے نتھر کرجاتے ہیں پھر شکم مادر ہیں تم تو اسے بنا نہیں سکتے ہم ہی بناتے ہیں کہ نرومادہ حسین یابدصورت گورایا یا کالا پھر ذہنی اعتبار سے اور عمر اور نصیب کے اعتبار سے کیسی کیسی تعمیر تخلیق ہوتی ہے اور ہماری قدرت کاملہ سے انسان بنتا ہے پھر ہم نے اس کے لیے موت کا راستہ مقرر کردیا کہ ہر ایک کو اس دروازے سے دارآخرت کو آنا ہے تو کوئی بھلاہم سے بھاگ سکے گا سب اسی راستے آرہے ہیں جب یہاں تک سب کچھ تمہارے سامنے ہے تو جس قادر مطلق نے یہ سب کردیا ہے وہی فرماتا ہے کہ دارآخرت میں تم پھر زندہ کیے جاؤ گے تو کیسے انکار کرسکتے ہو اور موت سے پہلے بھی تم بےخطرہ نہ ہوجاؤ کہ ہم قادر ہیں کہ گناہوں پر پکڑ کر تمہیں تباہ کردیں یا شکلیں مسخ کردیں اور تمہاری جگہ دوسرے انسان اور دیگر اقوام لے لیں۔ جب تخلیق باری کا اتنا بڑا کارخانہ تمہارے سامنے ہے اور یہ دیکھ رہے ہو کہ وہ قادر کس طرح بےجان ذروں کو خوبصورت وجودوں میں ڈالتا ہے اور پھر روح پھونک کر انسان بنادیتا ہے بھلادوبارہ اس کے پیدا کرنے کو کیوں نہیں مانتے زراعت ہی کو دیکھ لو کہ زمین تیار کرکے بیج ڈال دیتے ہو بھلا ایک دانے سے پودا بنانا ذرات خاکی کو اس میں ڈھالنا اس پر خوشے لگانا اور ایک جگہ سینکڑوں دانوں سے انہیں بھردینا یہ کیا تم کرتے ہو یاسارانظام قدرت کاملہ کا ہے اور جب کبھی ہم اسے تباہ کرڈالیں گے اور بھرے کھیتوں کو ویران کردیں تو تم روک نہیں سکتے بلکہ روتے پھرتے ہو کہ مارے گئے تباہ ہوگئے قرض لے کر گذارہ ہوگاہم تو بہت ہی بدنصیب نکلے یا اسی پانی کو دیکھ لو جو زندگی کا بہت بڑا سبب ہے جسے پی کر جیتے ہو کیا اسے بادلوں سے تم برساتے ہو سورج کی گرمی بھاپ بادل بارش اس سارے نظام میں تمہارا حصہ کتنا ہے کچھ بھی تو نہیں اگر ہم اسے کڑوا کردیں سمندر کی تلخی بھاپ میں شامل ہو کر بادل کی راہ برسے اور سارا پانی تلخ ہوجائے کہ نہ کوئی حیوان زندہ رہ سکے اور نہ روئیدگی باقی تو تم کیا کرلو گے لہذا شکر کیوں نہیں کرتے ہو اور ہمارے احسانات کیوں نہیں مانتے ہوذرا آگ میں غورکروجوہرشے کو جلاتی ہے جس سے تم بیشمار خدمت لیتے ہو ہم ایسے قادر ہیں کہ اس کا بھی سرسبز و شاداب درخت بنادیا جس سے آگ جھڑتی ہے اور یوں انسان کو آگ کانشان ملا وہ درخت اے انسانوتم نے پیدا نہ کیا تھ اہم نے پیدا فرمایا ہم نے اس کو باعث نصیحت بنادی اور بادیہ نشینوں کے استعمال کی شے بھی لہذا حق یہ ہے کہ اپنے پروردگار کی عظمت کے گیت گایا کرو۔
Top