Al-Quran-al-Kareem - Al-Baqara : 146
یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ
يَغْفِرْ لَكُمْ : بخش دے گا تمہارے لیے ذُنُوْبَكُمْ : تمہارے گناہوں کو وَيُدْخِلْكُمْ : اور داخل کرے گا تم کو جَنّٰتٍ : باغوں میں تَجْرِيْ : بہتی ہیں مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ : ان کے نیچے سے نہریں وَمَسٰكِنَ : اور گھروں (میں طَيِّبَةً : پاکیزہ فِيْ جَنّٰتِ عَدْنٍ : ہمیشگی کے باغوں میں ذٰلِكَ الْفَوْزُ : یہی ہے کامیابی الْعَظِيْمُ : بڑی
وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی، اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں اور بیشک ان میں سے کچھ لوگ یقینا حق کو چھپاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
اوپر کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ اہل کتاب کعبہ کے قبلہ برحق ہونے کو خوب جانتے تھے، مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرتے تھے۔ اب اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ قبلہ کی طرح اہل کتاب کو رسول اللہ ﷺ کے نبی آخر الزماں ہونے میں کچھ شبہ نہیں ہے، مگر پھر بھی ان میں سے اہل علم کا ایک گروہ حق کو چھپا رہا ہے۔ ایک گروہ اس لیے فرمایا کہ اہل کتاب میں سے بعض علماء جیسے (یہود میں سے) عبداللہ بن سلام (اور نصاریٰ میں سے) تمیم داری اور صہیب ؓ وغیرہ وہ بھی تھے جو آپ ﷺ کے نبی صادق ہونے کو پہچاننے کے بعد مسلمان ہوگئے تھے۔ (قرطبی، ابن کثیر)
Top