Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Israa : 79
وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ
وَاِنِّىْ : اور بیشک میں نے كُلَّمَا : جب کبھی دَعَوْتُهُمْ : میں نے پکارا ان کو لِتَغْفِرَ لَهُمْ : تاکہ تو بخش دے ان کو جَعَلُوْٓا : انہوں نے ڈال لیں اَصَابِعَهُمْ : اپنی انگلیاں فِيْٓ اٰذَانِهِمْ : اپنے کانوں میں وَاسْتَغْشَوْا : اور اوڑھ لیے۔ ڈھانپ لیے ثِيَابَهُمْ : کپڑے اپنے وَاَصَرُّوْا : اور انہوں نے اصرار کیا وَاسْتَكْبَرُوا : اور تکبر کیا اسْتِكْبَارًا : تکبر کرنا
ان کے دستور کے موافق جو ہم نے تم سے پہلے اپنے رسول بھیجے اور تم ہمارے قانون میں کچھ بھی فرق نہ پاؤ گے
یہاں فرمایا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہی قاعدہ ہے کہ نبی نکالنے کے بعد قوم کے لوگوں کو امن سے نہیں رکھتے ان کو بھی جلاوطنی نصیب ہوتی ہے۔ جو انبیاء تم سے پہلے آئے ہیں ان کی بھی یہی کیفیت ہوئی کہ جب ان کی قوم نے ان کو نکالا تو وہ خود بھی وہاں سے نکالے گئے۔ اور اللہ کے انتظام میں جو دستور ہے اس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔
Top