Tafseer-e-Saadi - Al-A'raaf : 6
یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ
يُرِيْدُوْنَ : وہ چاہتے ہیں لِيُطْفِئُوْا : کہ بجھادیں نُوْرَ اللّٰهِ : اللہ کے نور کو بِاَفْوَاهِهِمْ : اپنے مونہوں سے وَاللّٰهُ : اور اللہ مُتِمُّ : پورا کرنے والا ہے نُوْرِهٖ : اپنے نور کو وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ : اور اگرچہ ناپسند کرتے ہوں کافر
اور جب مریم کے بیٹے عیسیٰ نے کہا ۔ اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں ۔ تجھ سے آگے جو توراۃ ہے ۔ میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد (ف 1) آئے گا ۔ اس کا نام احمد ہوگا ۔ جب وہ کھلی نشانیاں لے کر اس کے پاس آیا تو بولے کہ یہ تو کھلا جادو ہے
1: حضرت مسیح نے یہودیوں کو ہرچند یقین دلایا ۔ کہ میں تورات کی تصدیق کے لئے آیا ہوں ۔ نئی شریعت کا موجد نہیں ہوں ۔ مگر انہوں نے انکار کیا ۔ اور ہمیشہ یہی کہا ۔ کہ ہم تم کو پیغمبر ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ پھر انہوں نے اس صداقت کبریٰ کا بھی اعلان کیا کہ میرے سعید زمانہ کے بعد تمہارے پاس اللہ کا رسول آئے گا ۔ جس کا نام احمد ہوگا ۔ جو اللہ کی حمد کے ترانے دنیا کے کانوں تک پہنچائے گا ۔ مگر خود اس کے ماننے والوں نے جب کہ وہ احمد ﷺ نامی ذات مبعوث ہوئی ۔ تو باوصف دلائل پیش کئے جانیکے ماننے سے انکار کیا ۔ اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہم بنی اسماعیل میں اس شرف و بزرگی کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ یہ واضح رہے کہ تورات وانجیل میں متعدد مقامات پر حضور ﷺ کی آمد کی پیشگوئی موجود ہے ۔ یہاں جس خبر کا ذکر ہے ۔ وہ بالفاظ پر بنا ۔ متی کی انجیل میں مذکور ہے ۔ اسمیں صاف لکھا ہے ۔ کہ میرے بعد اللہ کا رسول ﷺ آئے گا ۔ جن کا نام احمد ﷺ ہوگا ۔ موجودہ انجیلوں میں بھی فارتلیط کا لفظ آیا ہے ۔ جس کے معنے تسلی دینے والے کے ہیں ۔ حضرت مسیح نے واضح لفظوں میں فرمایا ہے کہ میں تم میں سے سب باتیں اس وقت نہیں کہہ سکتا کیونکہ تم میں ان کے لئے قوت برداشت نہیں ہے ۔ البتہ میرے بعد ایک شخص آنے والا ہے ۔ جو تم کو وہ اسرار بتائیگا ۔
Top