Tafseer-e-Madani - Al-Waaqia : 46
وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ
وَكَانُوْا : اور تھے وہ يُصِرُّوْنَ : اصرار کرتے عَلَي الْحِنْثِ الْعَظِيْمِ : بڑے گناہ پر
اور یہ (کفر و شرک کے) اس سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے تھے
[ 42] منکرین کے تمرّد اور ان کی سرکشی کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخیوں کے ہولناک انجام کا دوسرا بڑا سبب ان لوگوں کا تمردو سرکشی تھا۔ والعیاذ باللّٰہ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور یہ سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے رہے۔ یعنی حدود و بندگی سے نکل کر تمرود و سرکشی کے اس سب سے بڑے اور انتہائی ہولناک گناہ پر اصرار کرتے تھے جس کی کو کھ سے آگے کفر و شرک اور الحادو بےدینی جیسے کئی بڑے اور ہولناک جرائم جنم لیتے ہیں اور کفر و شرک کے اس گناہ عظیم پر جو کہ تمام گناہوں کی جڑ بنیاد ہے، اور جس کے ساتھ کوئی بھی نیکی قابل قبول نہیں، کہ شرک در حقیقت بگاوت ہے جو کہ ناقابل معافی جرم ہے، والعیاذ باللّٰہ، " حنث " کے معنی گناہ کے ہیں اس کی صفت یہاں پر عظیم آئی ہے، جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ " حنث " سے یہاں پر مراد شرک ہے، کیونکہ فلسفہ دین کے نقطہ نظر سے شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور قرآن حکیم نے اس کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ { ان الشرک لظلم عظیمٌ} اللہ ہمیشہ اور ہر قسم کے زیغ و ضلال سے اپنی پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، واکرم الاکرمین،
Top