Tafseer-e-Madani - Al-Waaqia : 45
اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ
اِنَّهُمْ كَانُوْا : کیونکہ وہ تھے قَبْلَ ذٰلِكَ : اس سے پہلے مُتْرَفِيْنَ : نعمتوں میں پہلے ہوئے
بیشک یہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) اپنی خوشحالی میں مگن رہا کرتے تھے
[ 41] دوزخیوں کے عذاب کے سبب اور باعث کا ذکر وبیان : سو دوزخیوں کے اس ہولناک انجام کے سبب اور اس کے باعث کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اس سے پہلے دنیا میں مست ومگن رہا کرتے تھے، اور اپنی خواہشات نفس ہی کو انہوں نے اپنا قبلہء مقصود بنا رکھا تھا، یہ اسی کے لئے جیتے اور اسی کے لئے مرتے تھے، اور کلمہ حق ان کو سننا اور قبول کرنا گوارا نہیں تھا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ یہ لوگ اپنے مال و دولت اور عیش و رفاہیت میں مست رہا کرتے تھے اور حق بات سننے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے تھے۔ سو اللہ تعالیٰ نے تو ان کو مال و دولت اور سامان عیش و عشرت سے اس لیے نوازا تھا کہ یہ لوگ اس کے شکر گزار بن کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کریں، لیکن یہ الٹا اس کی بناء پر اعراض و استکبار میں مبتلا ہو کر سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے رہے اور انہوں نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ یہ مال ان کے پاس ہمیشہ رہے گا اور یہ اسی طرح عیش کرتے رہیں گے۔ یحسب ان مالہ اخلدہٗ اور یہ کہ اگر ان کا طریقہ صحیح نہ ہوتا تو ان کو یہ دنیاوی مال و دولت کیوں ملتا۔ سو دنیاوی مال و دولت کو پانے کے بعد اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے اور اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کی بجائے یہ لوگ الٹا تکبر میں مبتلا ہوگئے اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے اور " خسر الدنیا والآخرۃ " کا مصداق بن گئے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین،
Top