Tafseer-e-Madani - Al-Waaqia : 44
لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ
لَّا بَارِدٍ : نہ ٹھنڈے وَّلَا كَرِيْمٍ : اور نہ آرام دہ
جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ
[ 40] اہل دوزخ کے ہولناک سائے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ سیاہ دھوئیں کے ایسے ہولناک سائے میں ہوں گے، جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ۔ سائے میں اصل میں دو ہی فائدے ہوتے ہیں، ایک یہ کہ وہ انسان کو گرمی اور تیش سے بچاتا ہے، اور دوسرا یہ کہ اس کا منظر اچھا اور پیارا ہوتا ہے، اور اس میں بیٹھنے سے انسان آرام و سکون اور خوشی و اطمینان محسوس کرتا ہے، سو دوزخ کے اس سائے میں ان دونوں میں سے کوئی فائدہ بھی موجود نہیں ہوگا، کہ وہ سایہ دراصل دوزخ کے ایک بڑے ہی ہولناک اور سیاہ دھوئیں کا سایہ ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ { انطلقوآ الیٰ ظلٍ ذی ثلث شعبٍ لاظلیلٍ ولا یغنی من اللھب۔ انھا ترمی بشررٍ کالقصر۔ کأنہٗ جملت صفر ویل یؤمئذ للمکذبین } [ المرسلت : 34-30] اور جہاں کے سائے کا عالم یہ ہوگا وہاں کی آگ کیا کچھ ہوگی ؟ [ المراغی، الخازن، الصفوہ وغیرہ ] والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف وہ سیاہ دھوئیں کا ایک ایسا ہولناک سایہ ہوگا جو ان تمام خوبیوں سے خالی اور محروم ہوگا جو سائے میں موجود اور مطلوب ہوتی ہیں، اور اس کی گرمی اور تپش بہرحال نہایت تیز اور جھلسا دینے والی ہوگی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین،
Top