Kashf-ur-Rahman - Az-Zumar : 51
قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ
قُلْ : آپ کہ دیں اِنِّىْ : بیشک میں عَلٰي : پر بَيِّنَةٍ : روشن دلیل مِّنْ : سے رَّبِّيْ : اپنا رب وَكَذَّبْتُمْ : اور تم جھٹلاتے ہو بِهٖ : اس کو مَا عِنْدِيْ : نہیں میرے پاس مَا : جس تَسْتَعْجِلُوْنَ : تم جلدی کر رہے ہو بِهٖ : اس کی اِنِ : صرف الْحُكْمُ : حکم اِلَّا : مگر (صرف) لِلّٰهِ : اللہ کیلئے يَقُصُّ : بیان کرتا ہے الْحَقَّ : حق وَهُوَ : اور وہ خَيْرُ : بہتر الْفٰصِلِيْنَ : فیصلہ کرنے والا
پھر ان کی تمام بداعمالیوں کا وبال ان پر آپڑا اور ان موجودہ لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں ان کی بداعمالیوں کا وبال بھی ان پر عنقریب پڑنے والا ہی ہے اور یہ لوگ خدا کو ہرا نہیں سکتے۔
(51) پھران پہلوں پر ان بداعمالیوں اور بری کمائیوں کا اثر اور وبال آپڑا اور ان موجودہ لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں ان کی کمائیوں کی برائی اور ان کی بداعمالی کا اثر اور وبال ان پر پڑنے والا ہے اور ان کو پہنچے گا اور بہت جلد ان کو پہنچ کر رہے گا اور یہ اللہ تعالیٰ کو تھکانے اور عاجز کرے والے نہیں ہیں۔ یعنی یہ کفار مکہ بھی عنقریب اپنے برے اعمال اور بری کمائیوں کا پھل پانے والے ہیں جیسا کہ قحط میں اور بدر کے دن قتل میں مبتلا کئے گئے اور اللہ تعالیٰ کو عاجز نہ کرسکے آگے پھر قدرت کا اظہار فرمایا۔
Top