تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 9. At-Tawba · Ayah 7
كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ﴿7﴾
- كَيْفَکیونکر
- يَكُوْنُہو
- لِلْمُشْرِكِيْنَمشرکوں کے لیے
- عَهْدٌعہد
- عِنْدَ اللّٰهِاللہ کے پاس
- وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓاس کے رسول کے پاس
- اِلَّاسوائے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- عٰهَدْتُّمْتم نے عہد کیا
- عِنْدَپاس
- الْمَسْجِدِ الْحَرَامِمسجد حرام
- فَمَاسو جب تک
- اسْتَقَامُوْاوہ قائم رہیں
- لَكُمْتمہارے لیے
- فَاسْتَقِيْمُوْاتو تم قائم رہو
- لَهُمْان کے لیے
- اِنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ
- يُحِبُّدوست رکھتا ہے
- الْمُتَّقِيْنَپرہیزگار (جمع)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بےشک خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
پابندی عہد کی شرائط
اوپر والے حکم کی حکمت بیان ہو رہی ہے کہ چارہ ماہ کی مہلت دینے پر لڑائی کی اجازت دینے کی وجہ سے ہے کہ وہ اپنے شرک و کفر کو چھوڑ نے اور اپنے عہد و پیمان پر قائم رہنے والے ہی نہیں۔ ہاں صلح حدیبیہ جب تک ان کی طرف سے نہ ٹوٹے تم بھی نہ توڑنا۔ یہ صلح دس سال کے لیے ہوئی تھی۔ ماہ ذی القعدہ سنہ006ہجری سے حضور ﷺ نے اس معاہدہ کو نبھایا یہاں تک کے قریشیوں کی طرف سے معاہدہ توڑا گیا ان کے حلیف بنو بکر نے رسول اللہ ﷺ کے حلیف خزاعہ پر چڑھائی کی بلکہ حرم میں بھی انہیں قتل کیا اس بنا پر رمضان شریف008ہجری میں حضور ﷺ نے ان پر چڑھائی کی۔ رب العالمین نے مکہ آپ کے ہاتھوں فتح کرایا اور انہیں آپ کے بس کردیا۔ وللّٰہ الحمد والمنہ لیکن آپ نے باوجود غلبہ اور قدرت کے ان میں سے جنہوں نے اسلام قبول کیا سب کو آزاد کردیا انہی لوگوں کو طلقاً کہتے ہیں۔ یہ تقریباً دو ہزار تھے جو کفر پر پھر بھی باقی رہے اور ادھر ادھر ہوگئے۔ رحمتہ اللعالمین نے سب کو عام پناہ دے دی اور انہیں مکہ شریف میں آنے اور یہاں اپنے مکانوں میں رہنے کی اجازت مرحمت فرمائی کہ چارماہ تک وہ جہاں چاہیں آ جاسکتے ہیں انہی میں صفوان بن امیہ اور عکرمہ بن ابی جہل وغیرہ تھے پھر اللہ نے انکی رہبری کی اور انہیں اسلام نصیب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اپنے ہر اندازے کے کرنے میں اور ہر کام کے کرنے میں تعریفوں والا ہی ہے۔