تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 9. At-Tawba · Ayah 50

  1. اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ﴿50﴾

    1. اِنْاگر
    2. تُصِبْكَتمہیں پہنچے
    3. حَسَنَةٌکوئی بھلائی
    4. تَسُؤْهُمْانہیں بری لگے
    5. وَاِنْاور اگر
    6. تُصِبْكَتمہیں پہنچے
    7. مُصِيْبَةٌکوئی مصیبت
    8. يَّقُوْلُوْاتو وہ کہیں
    9. قَدْ اَخَذْنَآہم نے پکڑ لیا (سنبھال لیا) تھا
    10. اَمْرَنَااپنا کام
    11. مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
    12. وَيَتَوَلَّوْااور وہ لوٹ جاتے ہیں
    13. وَّهُمْاور وہ
    14. فَرِحُوْنَخوشیاں مناتے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
(اے پیغمبر) اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے۔ اور کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہیں (درست) کر لیا تھا اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
بدفطرت لوگوں کا دوغلا پن ان بدباطن لوگوں کی اندرونی خباثت کا بیان ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی فتح و نصرت سے، ان کی بھلائی اور ترقی سے ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے اور اگر اللہ نہ کرے یہاں اس کے خلاف ہوا تو بڑے شور و غل مچاتے ہیں گاگا کر اپنی چالاکی کے افسانے گائے جاتے ہیں کہ میاں اسی وجہ سے ہم تو ان سے بچے رہے مارے خوشی کے بغلیں بجانے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو جواب دے کر رنج راحت اور ہم خود اللہ کی تقدیر اور اس کی منشا کے ماتحت ہیں وہ ہمارا مولیٰ ہے وہ ہمارا آقا ہے وہ ہماری پناہ ہے ہم مومن ہیں اور مومنوں کا بھروسہ اسی پر ہوتا ہے وہ ہمیں کافی ہے بس ہے وہ ہمارا کار ساز ہے اور بہترین کار ساز ہے۔