تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 9. At-Tawba · Ayah 42
لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ع﴿42﴾
- لَوْاگر
- كَانَہوتا
- عَرَضًامال (غنیمت)
- قَرِيْبًاقریب
- وَّسَفَرًااور سفر
- قَاصِدًاآسان
- لَّاتَّبَعُوْكَتو آپ کے پیچھے ہولیتے
- وَلٰكِنْاور لیکن
- بَعُدَتْدور نظر آیا
- عَلَيْهِمُان پر
- الشُّقَّةُراستہ
- وَسَيَحْلِفُوْنَاور اب قسمیں کھائیں گے
- بِاللّٰهِاللہ کی
- لَوِ اسْتَطَعْنَااگر ہم سے ہوسکتا
- لَخَرَجْنَاہم ضرور نکلتے
- مَعَكُمْتمہارے ساتھ
- يُهْلِكُوْنَوہ ہلاک کر رہے ہیں
- اَنْفُسَهُمْاپنے آپ
- وَاللّٰهُاور اللہ
- يَعْلَمُجانتا ہے
- اِنَّهُمْکہ وہ
- لَكٰذِبُوْنَیقیناً جھوٹے ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اگر مالِ غنیمت سہل الحصول اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے۔ لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کریں گے)۔ اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ جھوٹے ہیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
عیار لوگوں کو بےنقاب کردو
جو لوگ غزوہ تبوک میں جانے سے رہ گئے تھے اور اس کے بعد حضور ﷺ کے پاس آ کر اپنے جھوٹے اور بناوٹی عذر پیش کرنے لگے تھے۔ انہیں اس آیت میں ڈانٹا جا رہا ہے کہ دراصل انہیں کوئی معذوری نہ تھی اگر کوئی انسان غنیمت اور قریب کا سفر ہوتا تو یہ ساتھ ہو لیتے لیکن شام تک کے لمبے سفر نے ان کے گھٹنے توڑ دیئے اور مشقت کے خیال نے ان کے ایمان کمزور کردیئے۔ اب یہ آ کر جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اللہ کے رسول ﷺ کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ اگر کوئی عذر نہ ہوتا تو بھلا ہم شرف ہم رکابی چھوڑنے والے تھے ؟ ہم تو جان و دل سے آپ کے قدموں میں حاضر ہوجاتے اللہ فرماتا ہے ان کے جھوٹ کا مجھے علم ہے انہوں نے تو اپنے آپ کو غارت کردیا۔