تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 9. At-Tawba · Ayah 4

  1. اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ﴿4﴾

    1. اِلَّاسوائے
    2. الَّذِيْنَوہ لوگ جو
    3. عٰهَدْتُّمْتم نے عہد کیا تھا
    4. مِّنَسے
    5. الْمُشْرِكِيْنَمشرک (جمع)
    6. ثُمَّپھر
    7. لَمْ يَنْقُصُوْكُمْانہوں نے تم سے کمی نہ کی
    8. شَيْئًاکچھ بھی
    9. وَّلَمْ يُظَاهِرُوْااور نہ انہوں نے مدد کی
    10. عَلَيْكُمْتمہارے خلاف
    11. اَحَدًاکسی کی
    12. فَاَتِمُّوْٓاتو پورا کرو
    13. اِلَيْهِمْان سے
    14. عَهْدَهُمْان کا عہد
    15. اِلٰىتک
    16. مُدَّتِهِمْان کی مدت
    17. اِنَّبیشک
    18. اللّٰهَاللہ
    19. يُحِبُّدوست رکھتا ہے
    20. الْمُتَّقِيْنَپرہیزگار (جمع)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
عہد نامہ کی شرط پہلے جو حدیثیں بیان ہوچکی ہیں ان کا اور اس آیت کا مضمون ایک ہی ہے اس سے صاف ہوگیا کہ جن میں مطلقاً عہد و پیمان ہوئے تھے انہیں تو چار ماہ کی مہلت دی گئی کہ اس میں وہ اپنا جو چاہیں کرلیں اور جن سے کسی مدت تک عہد پیمان ہوچکے ہیں وہ سب عہد ثابت ہیں بشرطیکہ وہ لوگ معاہدے کی شرائط پر قائم رہیں نہ مسلمان کو خود کوئی ایذاء پہنچائیں نہ ان کے دشمنوں کی کمک اور امداد کریں اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے پورے لوگوں سے محبت رکھتا ہے۔