تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 9. At-Tawba · Ayah 120

  1. مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ﴿120﴾

    1. مَا كَانَنہ تھا
    2. لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِمدینہ والوں کو
    3. وَمَنْ حَوْلَھُمْاور جو ان کے ارد گرد
    4. مِّنَ الْاَعْرَابِدیہاتیوں میں سے
    5. اَنْ يَّتَخَلَّفُوْاکہ وہ پیچھے رہ جاتے
    6. عَنْسے
    7. رَّسُوْلِرسول
    8. اللّٰهِاللہ
    9. وَلَا يَرْغَبُوْااور یہ کہ زیادہ چاہیں وہ
    10. بِاَنْفُسِهِمْاپنی جانوں کو
    11. عَنْسے
    12. نَّفْسِهٖان کی جان
    13. ذٰلِكَیہ
    14. بِاَنَّھُمْاس لیے کہ وہ
    15. لَا يُصِيْبُھُمْنہیں پہنچی ان کو
    16. ظَمَاٌکوئی پیاس
    17. وَّلَا نَصَبٌاور نہ کوئی مشقت
    18. وَّلَا مَخْمَصَةٌاور نہ کوئی بھوک
    19. فِيْمیں
    20. سَبِيْلِ اللّٰهِاللہ کی راہ
    21. وَلَا يَطَئُوْنَاور نہ وہ قدم رکھتے ہیں
    22. مَوْطِئًاایسا قدم
    23. يَّغِيْظُغصے ہوں
    24. الْكُفَّارَکافر (جمع)
    25. وَلَا يَنَالُوْنَاور نہ وہ چھینتے ہیں
    26. مِنْسے
    27. عَدُوٍّدشمن
    28. نَّيْلًاکوئی چیز
    29. اِلَّامگر
    30. كُتِبَ لَھُمْلکھا جاتا ہے ان کیلئے
    31. بِهٖاس سے
    32. عَمَلٌ صَالِحٌعمل نیک
    33. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    34. لَا يُضِيْعُضائع نہیں کرتا
    35. اَجْرَاجر
    36. الْمُحْسِنِيْنَنیکو کار (جمع)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں ان کو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لیے کہ انہیں خدا کی راہ میں تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی، محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لیے عمل نیک لکھا جاتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونے والوں کو تنبیہہ ان لوگوں کو غزوہ تبوک میں حضور ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اللہ تعالیٰ ڈانٹ رہا ہے کہ مدینے والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو مجاہدین کے برابر ثواب والا نہیں سمجھنا چاہیے وہ اس اجر وثواب سے محروم رہ گئے جو ان مجاہدین فی سبیل اللہ کو ملا۔ مجاہدین کو ان کی پیاس پر تکلیف پر بھوک پر، ٹھہرنے اور چلنے پر، ظفر اور غلبے پر، غرض ہر ہر حرکت و سکون پر اللہ کی طرف سے اجر عظیم ملتا رہتا ہے۔ رب کی ذات اس سے پاک ہے کہ کسی نیکی کرنے والے کی محنت برباد کر دے۔