تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 9. At-Tawba · Ayah 12
وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ﴿12﴾
- وَاِنْاور اگر
- نَّكَثُوْٓاوہ توڑ دیں
- اَيْمَانَهُمْاپنی قسمیں
- مِّنْۢ بَعْدِکے بعد سے
- عَهْدِهِمْاپنا عہد
- وَطَعَنُوْااور عیب نکالیں
- فِيْمیں
- دِيْنِكُمْتمہارا دین
- فَقَاتِلُوْٓاتو جنگ کرو
- اَئِمَّةَ الْكُفْرِکفر کے سردار
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- لَآنہیں
- اَيْمَانَقسم
- لَهُمْان کی
- لَعَلَّهُمْشاید وہ
- يَنْتَهُوْنَباز آجائیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ یہ بےایمان لوگ ہیں اور) ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
وعدہ خلاف قوم کو دندان شکن جواب دو
اگر یہ مشرک اپنی قسموں کو توڑ کر وعدہ خلافی اور عہد شکنی کریں اور تمہارے دین پر اعتراض کرنے لگیں تو تم ان کے کفر کے سروں کو توڑ مروڑ دو۔ اسی لیے علماء نے کہا ہے کہ جو حضور ﷺ کو گالیاں دے، دین میں عیب جوئی کرے، اس کا ذکر اہانت کے ساتھ کرے اسے قتل کردیا جائے۔ ان کی قسمیں محض بےاعتبار ہیں۔ یہی طریقہ ان کے کفر وعناد سے روکنے کا ہے۔ ابو جہل، عتبہ، شیبہ امیہ وغیرہ یہ سب سردارن کفر تھے۔ ایک خارجی نے حضرت سعد بن وقاص کو کہا کہ یہ کفر کے پیشواؤں میں سے ایک ہے آپ نے فرمایا تو جھوٹا ہے میں تو ان میں سے ہوں جنہوں نے کفر کے پیشواؤں کو قتل کیا تھا۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں۔ اس آیت والے اس کے بعد قتل نہیں کئے گئے۔ حضرت علی ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آیت عام ہے گو سبب نزول کے اعتبار سے اس سے مراد مشرکین قریش ہیں لیکن حکماً یہ انہیں اور سب کو شامل ہے واللہ اعلم۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے شام کی طرف لشکر بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تمہیں ان میں کچھ لوگ ایسے ملیں گے جن کی چندھیا منڈی ہوئی ہوگی تو تم اس شیطانی بیٹھک کو تلوار سے دو ٹکڑے کردینا واللہ ان میں سے ایک کا قتل دوسرے ستر لوگوں کے قتل سے بھی مجھے زیادہ پسند ہے اسلیے کہ فرمان الٰہی ہے کفر کے اماموں کو قتل کرو (ابن ابی حاتم)