تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 8. Al-Anfaal · Ayah 29
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴿29﴾
- يٰٓاَيُّھَااے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- اٰمَنُوْٓاایمان لائے
- اِنْاگر
- تَتَّقُواتم ڈروگے
- اللّٰهَاللہ
- يَجْعَلْوہ بنادے گا
- لَّكُمْتمہارے لیے
- فُرْقَانًافرقان
- وَّيُكَفِّرْاور دور کردے گا
- عَنْكُمْتم سے
- سَيِّاٰتِكُمْتمہاری برائیاں
- وَيَغْفِرْ لَكُمْاور بخشدے گا تمہیں
- وَاللّٰهُاور اللہ
- ذُو الْفَضْلِفضل والا
- الْعَظِيْمِبڑا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
مومنو! اگر تم خدا سے ڈرو گے تو وہ تمہارے لیے امر فارق پیدا کردے گا (یعنی تم کو ممتاز کردے گا) تو وہ تمہارے گناہ مٹادے گا اور تمہیں بخش دے گا۔ اور خدا بڑا فضل والا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
دنیا و آخرت کی سعادت مندی
فرقان سے مراد نجات ہے دنیوی بھی اور اخروی بھی اور فتح و نصرت غلبہ و امتیاز بھی مراد ہے جس سے حق و باطل میں تمیز ہوجائے۔ بات یہی ہے کہ جو اللہ کی فرمانبرداری کرے، نافرمانی سے بچے اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ جو حق و باطل میں تمیز کرلیتا ہے، دنیاو آخرت کی سعادت مندی حاصل کرلیتا ہے اس کے گناہ مٹ جاتے ہیں لوگوں سے پوشیدہ کروئے جات یہیں اور اللہ کی طرف سے اجر وثواب کا وہ کامل مستحق ٹھہر جاتا ہے۔ جیسے فرمان عالی شان ہے یایھا الزین امنو اتقواللہ وامنو ابر سولہ یوتکم کفلین من رحمتہ ویجعل لکم نورا تمشون بہ و یغفر لکم واللہ غفور الرحیم یعنی اے مسلمانو ! اللہ کا ڈر دلوں میں رکھو۔ اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کے دوہرے حصے دے گا اور تمہارے لئے ایک نور مہیا کر دے گا جس کے ساتھ تم چلتے پھرتے رہو گے اور تمہیں بخش بھی دے گا، اللہ غفورو رحیم ہے۔