تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 7. Al-A'raaf · Ayah 182
وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ﴿182﴾
- وَالَّذِيْنَاور وہ لوگ جو
- كَذَّبُوْاانہوں نے جھٹلایا
- بِاٰيٰتِنَاہماری آیات کو
- سَنَسْتَدْرِجُهُمْآہستہ آہستہ ان کو پکڑیں گے
- مِّنْ حَيْثُاس طرح
- لَا يَعْلَمُوْنَوہ نہ جانیں گے (خبر نہ ہوگی)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
سامان تعیش کی کثرت عتاب الٰہی بھی ہے
یعنی ایسے لوگوں کو روزی میں کشادی دی جائے گی، معاش کی آسانیاں ملیں گی، وہ دھوکے میں پڑجائیں گے اور حقانیت کو بھول جائیں گے۔ جب پورے مست ہوجائیں گے اور ہماری نصیحت کو گئی گذری کردیں گے تو ہم انہیں ہر طرح کے آرام دیں گے یہاں تک کہ وہ مست ہوجائیں تب انہیں ہم ناگہانی پکڑ میں پکڑ لیں گے۔ اس وقت وہ مایوسی کے ساتھ منہ تکتے رہ جائیں گے اور ان ظالموں کی رگ کٹ جائے گی۔ حقیقتاً تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انہیں میں تو ڈھیل دونگا اور یہ میرے اس داؤ سے بیخبر ہوں گے۔ میری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی وہ بڑی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔