تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 64. At-Taghaabun · Ayah 5

  1. اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١٘ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿5﴾

    1. اَلَمْ يَاْتِكُمْکیا نہیں آئی تمہارے پاس
    2. نَبَؤُا الَّذِيْنَخبر ان لوگوں کی
    3. كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
    4. مِنْ قَبْلُاس سے پہلے
    5. فَذَاقُوْاتو انہوں نے چکھا
    6. وَبَالَ اَمْرِهِمْوبال اپنے کام کا
    7. وَلَهُمْ عَذَابٌاور ان کے لیے عذاب
    8. اَلِيْمٌدردناک
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کیا تم کو ان لوگوں کے حال کی خبر نہیں پہنچی جو پہلے کافر ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے کاموں کی سزا کا مزہ چکھ لیا اور (ابھی) دکھ دینے والا عذاب (اور) ہونا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
سابقہ واقعات سے سبق لو یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں ؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی ؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہوگئے یہاں بھی اپنے بد افعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے۔ اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل وبراہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی وہ تو غنی ہے ہی اور ساتھ ہی حمد وثناء کے لائق بھی۔