تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 6. Al-An'aam · Ayah 70
وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ع﴿70﴾
- وَذَرِاور چھوڑ دے
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- اتَّخَذُوْاانہوں نے بنا لیا
- دِيْنَهُمْاپنا دین
- لَعِبًاکھیل
- وَّلَهْوًااور تماشا
- وَّغَرَّتْهُمُاور انہیں دھوکہ میں ڈالدیا
- الْحَيٰوةُزندگی
- الدُّنْيَادنیا
- وَذَ كِّرْاور نصیحت کرو
- بِهٖٓاس سے
- اَنْتاکہ
- تُبْسَلَپکڑا (نہ) جائے
- نَفْسٌکوئی
- بِمَابسبب جو
- كَسَبَتْاس نے کیا
- لَيْسَنہیں
- لَهَااس کے لیے
- مِنْسے
- دُوْنِ اللّٰهِسوائے اللہ
- وَلِيٌّکوئی حمایتی
- وَّلَااور نہ
- شَفِيْعٌکوئی سفارش کرنیوالا
- وَاِنْاور اگر
- تَعْدِلْبدلہ میں دے
- كُلَّتمام
- عَدْلٍمعاوضے
- لَّا يُؤْخَذْنہ لیے جائیں
- مِنْهَااس سے
- اُولٰٓئِكَیہی لوگ
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- اُبْسِلُوْاپکڑے گئے
- بِمَا كَسَبُوْاجو انہوں نے کمایا (اپنا لیا
- لَهُمْان کے لیے
- شَرَابٌپینا (پانی)
- مِّنْسے
- حَمِيْمٍگرم
- وَّعَذَابٌاور عذاب
- اَلِيْمٌدردناک
- بِمَااس لیے کہ
- كَانُوْا يَكْفُرُوْنَوہ کفر کرتے تھے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور جن لوگوں نے اپنےدین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کےسوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
یعنی بےدینوں سے منہ پھیر لو ان کا انجام نہایت برا ہے اس قرآن کو پڑھ کر سنا کر لوگوں کو ہوشیار کردو اللہ کی ناراضگی سے اور اس کے عذابوں سے انہیں ڈرا دو تاکہ کوئی شخص اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہلاک نہ ہو پکڑا نہ جائے رسوا نہ کیا جائے اپنے مطلوب سے محروم نہ رہ جائے، جیسے فرمان ہے آیت (كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ) 74۔ المدثر :38) ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہوا ہے مگر داہنے ہاتھ والے، یاد رکھو کسی کا کوئی والی اور سفارشی نہیں جیسے ارشاد فرمایا آیت (مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ۭ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ) 2۔ البقرۃ :154) اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ خریدو فروخت ہے نہ دوستی اور محبت سفارش اور شفاعت کافر پورے طالم ہیں اگر یہ لوگ قیامت کے دن تمام دنیا کی چیزیں فدئیے یا بدلے میں دے دینا چاہیں تو بھی ان سے نہ فدیہ لیا جائے گا نہ بدلہ۔ کسی چیز کے بدلے وہ عذابوں سے نجات نہیں پاسکتے۔ جیسے فرمان ہے آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَھَبًا وَّلَوِ افْتَدٰى بِهٖ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَّمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ) 3۔ آل عمران :91) جو لوگ کفر پر جئے اور کفر پر ہی مرے یہ اگر زمین بھر کر سونا بھی دیں تو ناممکن ہے کہ قبول کیا جائے اور انہیں چھوڑا جائے پس فرما دیا گیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے رسوا کردیئے گئے انہیں گرم کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور انہیں سخت المناک عذاب ہوگا کیونکہ یہ کافر تھے۔