تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 6. Al-An'aam · Ayah 139

  1. وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ﴿139﴾

    1. وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
    2. مَاجو
    3. فِيْ بُطُوْنِپیٹ میں
    4. هٰذِهِاس
    5. الْاَنْعَامِمویشی (جمع)
    6. خَالِصَةٌخالص
    7. لِّذُكُوْرِنَاہمارے مردوں کے لیے
    8. وَمُحَرَّمٌاور حرام
    9. عَلٰٓيپر
    10. اَزْوَاجِنَاہماری عورتیں
    11. وَاِنْاور اگر
    12. يَّكُنْہو
    13. مَّيْتَةًمردہ
    14. فَهُمْتو وہ سب
    15. فِيْهِاس میں
    16. شُرَكَآءُشریک
    17. سَيَجْزِيْهِمْوہ جلد ان کو سزا دے گا
    18. وَصْفَهُمْان کا باتیں بنانا
    19. اِنَّهٗبیشک وہ
    20. حَكِيْمٌحکمت والا
    21. عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
نذر نیاز ابن عباس فرماتے ہیں جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ جن چوپایوں کو وہ اپنے معبودان باطل کے نام کردیتے تھے ان کا دودھ صرف مرد پیتے تھے جب انہیں بچہ ہوتا تو اگر نر ہوتا تو صرف مرد ہی کھاتے اگر مادہ ہوتا تو اسے ذبح ہی نہ کرتے اور اگر پیٹ ہی سے مردہ نکلتا تو مرد عورت سب کھاتے اللہ نے اس فعل سے بھی روکا۔ شعبی کا قول ہے کہ بحیرہ کا دودھ صرف مرد پیتے اور اگر وہ مرجاتا تو گوشت مرد عورت سب کھاتے۔ ان کی ان جھوٹی باتوں کا بدلہ اللہ انہیں دے گا کیونکہ یہ سب ان کا جھوٹ اللہ پر باندھا ہوا تھا، فلاح و نجات اسی لئے ان سے دور کردی گئی تھی۔ یہ اپنی مرضی سے کسی کو حلال کسی کو حرام کرلیتے تھے پھر اسے رب کی طرف منسوب کردیتے تھے اللہ جیسے حکیم کا کوئی فعل کوئی قول کوئی شرع کوئی تقدیر بےحکمت نہیں تھی وہ اپنے بندوں کے خیر و شر سے دانا ہے اور انہیں بدلے دینے والا ہے۔