تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 46. Al-Ahqaf · Ayah 26

  1. وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْئِدَةً١ۖ٘ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْئِدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَ١ۙ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿26﴾

    1. وَلَقَدْاور البتہ
    2. مَكَّنّٰهُمْہم نے ان کو قدرت دی تھی
    3. فِيْمَآاس میں
    4. اِنْنہیں
    5. مَّكَّنّٰكُمْہم نے قدرت دی تمہیں
    6. فِيْهِاس میں، پر
    7. وَجَعَلْنَااور ہم نے بنائے، دئیے
    8. لَهُمْانہیں
    9. سَمْعًاکان
    10. وَّاَبْصَارًااور آنکھیں
    11. وَّاَفْئِدَةً ڮاور دل (جمع)
    12. فَمَآ اَغْنٰىتو نہ کام آئے
    13. عَنْهُمْان کے
    14. سَمْعُهُمْان کے کان
    15. وَلَآ اَبْصَارُهُمْاور نہ ان کی آنکھیں
    16. وَلَآ اَفْئِدَتُهُمْاور نہ دل ان کے
    17. مِّنْ شَيْءٍکچھ بھی
    18. اِذْجب
    19. كَانُوْا يَجْحَدُوْنَ ۙوہ انکار کرتے تھے
    20. بِاٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کی آیات کا
    21. وَحَاقَاور اس نے گھیر لیا
    22. بِهِمْان کو
    23. مَّا كَانُوْاجو وہ تھے
    24. بِهٖاس کا
    25. يَسْتَهْزِءُوْنَمذاق اڑاتے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور ہم نے ان کو ایسے مقدور دیئے تھے جو تم لوگوں کو نہیں دیئے اور انہیں کان اور آنکھیں اور دل دیئے تھے۔ تو جب کہ وہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے تو نہ تو ان کے کان ہی ان کے کچھ کام آسکے اور نہ آنکھیں اور نہ دل۔ اور جس چیز سے استہزاء کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
مغضوب شدہ قوموں کی نشاندہی ارشاد ہوتا ہے کہ اگلی امتوں کو جو اسباب دنیوی مال و اولاد وغیرہ ہماری طرف سے دئیے گئے تھے ویسے تو تمہیں اب تک مہیا بھی نہیں ان کے بھی کان آنکھیں اور دل تھے لیکن جس وقت انہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہمارے عذابوں کا مذاق اڑایا تو بالاخر ان کے ظاہری اسباب انہیں کچھ کام نہ آئے اور وہ سزائیں ان پر برس پڑیں جن کی یہ ہمیشہ ہنسی کرتے رہے تھے۔ پس تمہیں انکی طرح نہ ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ انکے سے عذاب تم پر بھی آجائیں اور تم بھی ان کی طرح جڑ سے کاٹ دئیے جاؤ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے اے اہل مکہ تم اپنے آس پاس ہی ایک نظر ڈالو اور دیکھو کہ کس قدر قومیں نیست و نابود کردی گئی ہیں اور کس طرح انہوں نے اپنے کرتوت بدلے پائے ہیں احقاف جو یمن کے پاس ہے حضرموت کے علاقہ میں ہے یہاں کے بسنے والے عادیوں کے انجام پر نظر ڈالو تمہارے اور شام کے درمیان ثمودیوں کا جو حشر ہوا اسے دیکھو اہل یمن اور اہل مدین کی قوم سبا کے نتیجہ پر غور کرو تم تو اکثر غزوات اور تجارت وغیرہ کے لئے وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو، بحیرہ قوم لوط سے عبرت حاصل کرو وہ بھی تمہارے راستے میں ہی پڑتا ہے پھر فرماتا ہے ہم نے اپنی نشانیوں اور آیتوں سے خوب واضح کردیا ہے تاکہ لوگ برائیوں سے بھلائیوں کی طرف لوٹ آئیں۔ پھر فرماتا ہے کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا جن جن معبودان باطل کی پرستش شروع کر رکھی تھی گو اس میں ان کا اپنا خیال تھا کہ اس کی وجہ سے ہم قرب الہٰی حاصل کریں گے، لیکن کیا ہمارے عذابوں کے وقت جبکہ ان کو ان کی مدد کی پوری ضرورت تھی انہوں نے ان کی کسی طرح مدد کی ؟ ہرگز نہیں بلکہ ان کی احتیاج اور مصیبت کے وقت وہ گم ہوگئے ان سے بھاگ گئے ان کا پتہ بھی نہ چلا الغرض ان کا پوجنا صریح غلطی تھی غرض جھوٹ تھا اور صاف افتراء اور فضول بہتان تھا کہ یہ انہیں معبود سمجھ رہے تھے پس ان کی عبادت کرنے میں اور ان پر اعتماد کرنے میں یہ دھوکے میں اور نقصان میں ہی رہے، واللہ اعلم۔