Asrar-ut-Tanzil - Al-Baqara : 174
وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ
وَاِنْ : اور اگر خِفْتُمْ : تم ڈرو اَلَّا : کہ نہ تُقْسِطُوْا : انصاف کرسکوگے فِي : میں الْيَتٰمٰى : یتیموں فَانْكِحُوْا : تو نکاح کرلو مَا : جو طَابَ : پسند ہو لَكُمْ : تمہیں مِّنَ : سے النِّسَآءِ : عورتیں مَثْنٰى : دو ، دو وَثُلٰثَ : اور تین تین وَرُبٰعَ : اور چار، چار فَاِنْ : پھر اگر خِفْتُمْ : تمہیں اندیشہ ہو اَلَّا : کہ نہ تَعْدِلُوْا : انصاف کرسکو گے فَوَاحِدَةً : تو ایک ہی اَوْ مَا : یا جو مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ : لونڈی جس کے تم مالک ہو ذٰلِكَ : یہ اَدْنٰٓى : قریب تر اَلَّا : کہ نہ تَعُوْلُوْا : جھک پڑو
یہی لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت پر اور عذاب کو مغفرت پر ترجیح دی یہ دوزخ کے معاملہ میں کتنے ڈھیٹ ہیں۔
ۚفَمَآ اَصْبَرَ کا اسلوب ما اَحسَنَ کی طرح اظہار تعجب کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جو اس دیدہ دلیری کے ساتھ ہدایت کی جگہ ضلالت اور مغفرت کی جگہ عذاب کو ترجیح دے رہے ہیں تو دوزخ کے معاملہ میں ان کی ڈھٹائی اور جرات حیرت انگیز ہے۔
Top