تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 39. Az-Zumar · Ayah 10
قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ١ؕ وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ١ؕ اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴿10﴾
- قُلْفرمادیں
- يٰعِبَادِاے میرے بندو
- الَّذِيْنَجو
- اٰمَنُواایمان لائے
- اتَّقُوْاتم ڈرو
- رَبَّكُمْ ۭاپنا رب
- لِلَّذِيْنَان کے لیے جنہوں نے
- اَحْسَنُوْااچھے کام کیے
- فِيْمیں
- هٰذِهِ الدُّنْيَااس دنیا
- حَسَنَةٌ ۭبھلائی
- وَاَرْضُ اللّٰهِاور اللہ کی زمین
- وَاسِعَةٌ ۭوسیع
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- يُوَفَّىپورا بدلہ دیا جائے گا
- الصّٰبِرُوْنَصبر کرنے والے
- اَجْرَهُمْان کا اجر
- بِغَيْرِ حِسَابٍبےحساب
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
کہہ دو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو۔ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے۔ اور خدا کی زمین کشادہ ہے۔ جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بےشمار ثواب ملے گا
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ہرحال میں اللہ کی اطاعت لازمی ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے ایمان دار بندوں کو اپنے رب کی اطاعت پر جمے رہنے کا اور ہر امر میں اس کی پاک ذات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ جس نے اس دنیا میں نیکی کی اس کو اس دنیا میں اور آنے والی آخرت میں نیکی ہی نیکی ملے گی۔ تم اگر ایک جگہ اللہ کی عبادت استقلال سے نہ کرسکو تو دوسری جگہ چلے جاؤ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے۔ مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہوجاؤں اپنے آپ کو رب کے احکام کا عامل اور پابند کرلوں۔