تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 35. Faatir · Ayah 31
وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ﴿31﴾
- وَالَّذِيْٓاور وہ جو
- اَوْحَيْنَآہم نے وحی بھیجی ہے
- اِلَيْكَتمہاری طرف
- مِنَ الْكِتٰبِکتاب
- هُوَوہ
- الْحَقُّحق
- مُصَدِّقًاتصدیق کرنے والی
- لِّمَااس کی جو
- بَيْنَ يَدَيْهِ ۭان کے پاس
- اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
- بِعِبَادِهٖاپنے بندوں سے
- لَخَبِيْرٌۢالبتہ باخبر
- بَصِيْرٌدیکھنے والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور یہ کتاب جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے برحق ہے۔ اور ان (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے کی ہیں۔ بےشک خدا اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
فضائل قرآن
قرآن اللہ کا حق کلام ہے اور جس طرح اگلی کتابیں اس کی خبر دیتی رہی ہیں یہ بھی ان اگلی سچی کتابوں کی سچائی ثابت کر رہا ہے۔ رب خبیر وبصیر ہے۔ ہر مستحق فضیلت کو بخوبی جانتا ہے۔ انبیاء کو انسانوں پر اس نے اپنے وسیع علم سے فضیلت دی ہے۔ پھر انبیاء میں بھی آپس میں مرتبے مقرر کردیئے ہیں اور علی الاطلاق حضور محمد ﷺ کا درجہ سب سے بڑا کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے تمام انبیاء پر درود وسلام بھیجے۔