تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 33. Al-Ahzaab · Ayah 55

  1. لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا﴿55﴾

    1. لَا جُنَاحَگناہ نہیں
    2. عَلَيْهِنَّعورتوں پر
    3. فِيْٓمیں
    4. اٰبَآئِهِنَّاپنے باپ
    5. وَلَآاور نہ
    6. اَبْنَآئِهِنَّاپنے بیٹوں
    7. وَلَآ اِخْوَانِهِنَّاور نہ اپنے بھائی
    8. وَلَآاور نہ
    9. اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّاور اپنے بھائیوں کے بیٹے
    10. وَلَآاور نہ
    11. اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّاپنی بہنوں کے بیٹے
    12. وَلَااور نہ
    13. نِسَآئِهِنَّاپنی عورتیں
    14. وَلَااور نہ
    15. مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ ۚجس کے مالک ہوئے ان کے ہاتھ (کنیزیں)
    16. وَاتَّقِيْنَاور ڈرتی رہو
    17. اللّٰهَ ۭاللہ
    18. اِنَّ اللّٰهَبیشک اللہ
    19. كَانَہے
    20. عَلٰيپر
    21. كُلِّ شَيْءٍہر شے
    22. شَهِيْدًاگواہ (موجود)
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
عورتوں پر اپنے باپوں سے (پردہ نہ کرنے میں) کچھ گناہ نہیں اور نہ اپنے بیٹوں سے اور نہ اپنے بھائیوں سے اور نہ اپنے بھتیجوں سے اور نہ اپنے بھانجوں سے نہ اپنی (قسم کی) عورتوں سے اور نہ لونڈیوں سے۔ اور (اے عورتو) خدا سے ڈرتی رہو۔ بےشک خدا ہر چیز سے واقف ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
پردہ کی تفصیلات چونکہ اوپر کی آیتوں میں اجنبیوں سے پردے کا حکم ہوا تھا اس لئے جن قریبی رشتہ داروں سے پردہ نہ تھا ان کا بیان اس آیت میں کردیا۔ سورة نور میں بھی اسی طرح فرمایا کہ عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں، باپوں، سسروں، لڑکوں، خاوند کے لڑکوں، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں، عورتوں اور ملکیت جن کی ان کے ہاتھوں میں ہو۔ ان کے سامنے یا کام کاج کرنے والے غیر خواہشمند مردوں یا کمسن بچوں کے سامنے۔ اس کی پوری تفسیر اس آیت کے تحت میں گذر چکی ہے۔ چچا اور ماموں کا ذکر یہاں اس لئے نہیں کیا گیا کہ ممکن ہے وہ اپنے لڑکوں کے سامنے ان کے اوصاف بیان کریں۔ حضرت شعبی اور حضرت عکرمہ تو ان دونوں کے سامنے عورت کا دوپٹہ اتارنا مکروہ جانتے تھے۔ نسائھن سے مراد مومن عورتیں ہیں۔ ماتحت سے مراد لونڈی غلام ہیں۔ جیسے کہ پہلے ان کا بیان گذر چکا ہے اور حدیث بھی ہم وہیں وارد کرچکے ہیں۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں اس سے مراد صرف لونڈیاں ہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو۔ اللہ ہر چیز پر شاہد ہے۔ چھپا کھلا سب اسے معلوم ہے۔ اس موجود اور حاضر کا خوف رکھو اور اس کا لحاظ کرتی رہو۔