تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 33. Al-Ahzaab · Ayah 38

  1. مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ﴿38﴾

    1. مَا كَانَنہیں ہے
    2. عَلَي النَّبِيِّنبی پر
    3. مِنْ حَرَجٍکوئی حرج
    4. فِيْمَااس میں جو
    5. فَرَضَ اللّٰهُمقرر کیا اللہ نے
    6. لَهٗ ۭاس کے لیے
    7. سُنَّةَ اللّٰهِاللہ کا دستور
    8. فِيمیں
    9. الَّذِيْنَوہ جو
    10. خَلَوْاگزرے
    11. مِنْ قَبْلُ ۭپہلے
    12. وَكَانَاور ہے
    13. اَمْرُ اللّٰهِاللہ کا حکم
    14. قَدَرًامقرر کیا ہوا
    15. مَّقْدُوْرَۨااندازہ سے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
پیغمبر پر اس کام میں کچھ تنگی نہیں جو خدا نے ان کے لئے مقرر کردیا۔ اور جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے۔ اور خدا کا حکم ٹھیر چکا ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
لے پالک کی بیوی سے متعلق حکم۔ فرماتا ہے کہ جب اللہ کے نزدیک اپنے لے پالک متبنی کی بیوی سے اس کی طلاق کے بعد نکاح کرنا حلال ہے پھر اس میں نبی ﷺ پر کیا حرج ہے اگلے نبیوں پر جو جو حکم اللہ نازل فرماتے تھے۔ ان پر عمل کرنے میں ان پر کوئی حرج نہ تھا۔ اس سے منافقوں کے اس قول کا رد کرنا ہے کہ دیکھو اپنے آزاد کردہ غلام اور لے پالک لڑکے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔ اس اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا۔