تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 32. As-Sajda · Ayah 2
تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَؕ﴿2﴾
- تَنْزِيْلُنازل کرنا
- الْكِتٰبِکتاب
- لَا رَيْبَکوئی شبہ نہیں
- فِيْهِاس میں
- مِنْسے
- رَّبِّپروردگار
- الْعٰلَمِيْنَتمام جہان
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کتاب کا نازل کیا جانا تمام جہان کے پروردگار کی طرف سے ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
سورتوں کے شروع میں جو حروف مقطعات ہیں ان کی پوری بحث ہم سورة بقرہ کے شروع میں کرچکے ہیں۔ یہاں دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب قرآن حکیم بیشک وشبہ اللہ رب العلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ مشرکین کا یہ قول غلط ہے کہ حضور ﷺ نے خود اسے گھڑلیا ہے۔ نہیں یہ تو یقینا اللہ کی طرف سے ہے اس لئے اترا ہے کہ حضور ﷺ اس قوم کو ڈراوے کے ساتھ آگاہ کردیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی اور پیغمبر نہیں آیا۔ تاکہ وہ حق کی اتباع کرکے نجات حاصل کرلیں۔