تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 31. Luqman · Ayah 25

  1. وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿25﴾

    1. وَلَئِنْاور اگر
    2. سَاَلْتَهُمْتم ان سے پوچھو
    3. مَّنْ خَلَقَکس نے پیدا کیا
    4. السَّمٰوٰتِآسمانوں کو
    5. وَالْاَرْضَاور زمین
    6. لَيَقُوْلُنَّتو وہ یقینا کہیں گے
    7. اللّٰهُ ۭاللہ
    8. قُلِفرمادیں
    9. الْحَمْدُ لِلّٰهِ ۭتمام تعریفیں اللہ کے لیے
    10. بَلْ اَكْثَرُهُمْبلکہ ان کے اکثر
    11. لَا يَعْلَمُوْنَجانتے نہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور اگر تم اُن سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو بول اُٹھیں گے کہ خدا نے۔ کہہ دو کہ خدا کا شکر ہے لیکن ان میں اکثر سمجھ نہیں رکھتے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
حاکم اعلی وہ اللہ ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یہ مشرک اس بات کو مانتے ہوئے سب کا خالق اکیلا اللہ ہی ہے پھر بھی دوسروں کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ انکی نسبت خود جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے اور اس کے ماتحت ہیں۔ ان سے اگر پوچھا جائے کہ خالق کون ہے ؟ تو انکا جواب بالکل سچا ہوتا ہے کہ اللہ ! تو کہہ کہ اللہ کا شکر ہے اتنا تو تمہیں اقرار ہے۔ بات یہ ہے کہ اکثر مشرک بےعلم ہوتے ہیں۔ زمین و آسمان کی ہر چھوٹی بڑی چھپی کھلی چیز اللہ کی پیدا کردہ اور اسی کی ملکیت ہے وہ سب سے بےنیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں وہی سزاوار حمد ہے وہی خوبیوں والا ہے۔ پیدا کرنے میں بھی احکام مقرر کرنے میں بھی وہی قابل تعریف ہے۔