تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 24. An-Noor · Ayah 64

  1. اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ع﴿64﴾

    1. اَلَآ اِنَّ لِلّٰهِیاد رکھو بیشک اللہ کے لیے
    2. مَاجو
    3. فِي السَّمٰوٰتِآسمانوں میں
    4. وَالْاَرْضِاور زمین
    5. قَدْ يَعْلَمُتحقیق وہ جانتا ہے
    6. مَآجو۔ جس
    7. اَنْتُمْتم
    8. عَلَيْهِاس پر
    9. وَيَوْمَاور جس دن
    10. يُرْجَعُوْنَوہ لوٹائے جائیں گے
    11. اِلَيْهِاس کی طرف
    12. فَيُنَبِّئُهُمْپھر وہ انہیں بتائے گا
    13. بِمَااس سے
    14. عَمِلُوْاانہوں نے کیا
    15. وَاللّٰهُاور اللہ
    16. بِكُلِّ شَيْءٍہر شے کو
    17. عَلِيْمٌجاننے والا
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ جس (طریق) پر تم ہو وہ اسے جانتا ہے۔ اور جس روز لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو لوگ عمل کرتے رہے وہ ان کو بتا دے گا۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ہر ایک اس کے علم میں ہے مالک زمین و آسمان عالم غیب وحاضر بندوں کے چھپے کھلے اعمال کا جاننے والا ہی ہے۔ قد یعلم میں قد تحقیق کے لئے ہے جیسے اس سے پہلے کی آیت (قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا 63؀) 24۔ النور :63) میں۔ اور جیسے آیت (قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ مِنْكُمْ وَالْقَاۗىِٕلِيْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَيْنَا ۚ وَلَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا 18 ۙ) 33۔ الأحزاب :18) میں۔ اور جیسے آیت (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ) 58۔ المجادلة :1) میں اور جیسے آیت (قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَيَحْزُنُكَ الَّذِيْ يَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ 33؀) 6۔ الانعام :33) میں اور جیسے قدنری میں۔ اور جیسے موذن کہتا ہے قدقامت الصلوۃ تو فرماتا ہے کہ جس حال پر تم جن اعمال و عقائد کے تم ہو اللہ پر خوب روشن ہے۔ آسمان و زمین کا ایک ذرہ بھی اللہ پر پوشیدہ نہیں۔ جو عمل تم کرو جو حالت تمہاری ہو اس اللہ پر عیاں ہے۔ کوئی ذرہ اس سے چھپا ہوا نہیں۔ ہر چھوٹی بڑی چیز کتاب مبین میں محفوظ ہے۔ بندوں کے تمام خیروشر کا وہ عالم ہے کپڑوں میں ڈھک جاؤ چھپ لک کر کچھ کرو ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر اس پر یکساں ہے۔ سرگوشیاں اور بلند آواز کی باتیں اس کے کانوں میں ہیں تمام جانداروں کا روزی رساں وہی ہے ہر ایک جاندار کے ہر حال کو جاننے والا وہی ہے اور سب کچھ لوح محفوظ میں پہلے سے درج ہے۔ غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں جہنیں اس کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔ خشکی تری کی ہر ہر چیز کو وہ جانتا ہے۔ کسی پتے کا جھڑنا اس کے علم سے باہر نہیں زمین کی اندھیریوں کے اندر کا دانہ اور کوئی تر وخشک چیز ایسی نہیں جو کتاب مبین میں نہ ہو۔ اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں اور حدیثیں ہیں۔ جب مخلوق اللہ کی طرف لوٹائی جائے گی اس وقت ان کے سامنے ان کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور بدی پیش کردی جائے گی۔ تمام اگلے پچھلے اعمال دیکھ لے گا۔ اعمال نامہ کو ڈرتا ہوا دیکھے گا اور اپنی پوری سوانح عمری اس میں پاکر حیرت زدہ ہو کر کہے گا کہ یہ کیسی کتاب ہے جس نے بڑی تو بڑی کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی نہیں چھوڑی جو جس نے کیا تھا وہ وہاں پائے گا۔ تیرے رب کی ذات ظلم سے پاک ہے۔ آخر میں فرمایا اللہ بڑا ہی دانا ہے ہر چیز اس کے علم میں ہے۔