تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 17. Al-Israa · Ayah 73
وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا﴿73﴾
- وَاِنْاور تحقیق
- كَادُوْاوہ قریب تھا
- لَيَفْتِنُوْنَكَکہ تمہیں بچلا دیں
- عَنِسے
- الَّذِيْٓوہ لوگ جو
- اَوْحَيْنَآہم نے وحی کی
- اِلَيْكَتمہاری طرف
- لِتَفْتَرِيَتاکہ تم جھوٹ باندھو
- عَلَيْنَاہم پر
- غَيْرَهٗاس کے سوا
- وَاِذًااور اس صورت میں
- لَّاتَّخَذُوْكَالبتہ وہ تمہیں بنا لیتے
- خَلِيْلًادوست
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور اے پیغمبر جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے قریب تھا کہ یہ (کافر) لوگ تم کو اس سے بچلا دیں تاکہ تم اس کے سوا اور باتیں ہماری نسبت بنالو۔ اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
مکار و فجار کی چلاکیوں سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے رسول کو بچاتا رہا آپ کو معصوم اور ثابت قدم ہی رکھا خود ہی آپ کا ولی و ناصر رہا اپنی ہی حفاظت اور صیانت میں ہمیشہ آپ کو رکھا آپ کی تائید اور نصرت برابر کرتا رہا آپ کے دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کردیا آپ کے مخالفین کے بلند بانگ ارادوں کو پست کردیا مشرق سے مغرب تک آپ کا کلمہ پھیلا دیا اسی کا بیان ان دونوں آیتوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر قیامت تک بیشمار درود وسلام بھیجتا رہے۔ آمین۔