تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 13. Ar-Ra'd · Ayah 5

  1. وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿5﴾

    1. وَاِنْاور اگر
    2. تَعْجَبْتم تعجب کرو
    3. فَعَجَبٌتو عجب
    4. قَوْلُهُمْان کا کہنا
    5. ءَاِذَاکیا جب
    6. كُنَّاہوگئے ہم
    7. تُرٰبًامٹی
    8. ءَاِنَّاکیا ہم یقیناً
    9. لَفِيْ خَلْقٍزندگی پائیں گے
    10. جَدِيْدٍنئی
    11. اُولٰٓئِكَوہی
    12. الَّذِيْنَجو لوگ
    13. كَفَرُوْامنکر ہوئے
    14. بِرَبِّهِمْاپنے رب کے
    15. وَاُولٰٓئِكَاور وہی ہیں
    16. الْاَغْلٰلُطوق (جمع)
    17. فِيْٓمیں
    18. اَعْنَاقِهِمْان کی گردنیں
    19. وَاُولٰٓئِكَاور وہی ہیں
    20. اَصْحٰبُ النَّارِدوزخ والے
    21. هُمْوہ
    22. فِيْهَااس میں
    23. خٰلِدُوْنَہمیشہ رہیں گے
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اگر تم عجیب بات سننی چاہو تو کافروں کا یہ کہنا عجیب ہے کہ جب ہم (مر کر) مٹی ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہوں گے؟ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے منکر ہوئے ہیں۔ اور یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
عقل کے اندھے ضدی لوگ اللہ تبارک وتعالی اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ ان کے جھٹلانے کا کوئی تعجب نہ کریں یہ ہیں ہی ایسے اس قدر نشانیاں دیکھتے ہوئے، اللہ کی قدرت کا ہمیشہ مطالعہ کرتے ہوئے، اسے مانتے ہوئے کہ سب کا خالق اللہ ہی ہے پھر بھی قیامت کے منکر ہوتے ہیں حالانکہ اس سے بڑھ کر روز مرہ مشاہدہ کرتے رہتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ سب کچھ کردیتا ہے۔ ہر عاقل جان سکتا ہے کہ زمین و آسمان کی پیدائش انسان کی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ اور دوبارہ پیدا کرنا بہ نسبت اول بار پیدا کرنے کے بہت آسان ہے۔ جیسے فرمان ربانی ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀) 46۔ الأحقاف :33) یعنی جس نے آسمان و زمین تھکے پیدا کردیا، کیا وہ مردوں کو جلانے پر قادر نہیں ؟ بیشک ہے بلکہ ہر چیز اس کی قدرت میں ہے۔ پس یہاں فرماتا ہے کہ اصل یہ کفار ہیں، ان کی گردنوں میں قیامت کے دن طوق ہوں گے اور یہ جہنمی ہیں جو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔