تفسیر ابنِ کثیر
Tafseer Ibn-e-Kaseer · 13. Ar-Ra'd · Ayah 32
وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ﴿32﴾
- وَلَقَدِاور البتہ
- اسْتُهْزِئَمذاق اڑایا گیا
- بِرُسُلٍرسولوں کا
- مِّنْ قَبْلِكَتم سے پہلے
- فَاَمْلَيْتُتو میں نے ڈھیل دی
- لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا (کافر)
- ثُمَّپھر
- اَخَذْتُهُمْمیں نے ان کی پکڑ کی
- فَكَيْفَسو کیسا
- كَانَتھا
- عِقَابِمیرا بدلہ
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
سچائی کا مذاق اڑانا آج بھی جاری ہے
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے غلظ رویہ سے رنج وفکر نہ کریں آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا بھی یونہی مذاق اڑایا گیا تھا میں نے ان کافروں کو بھی کچھ دیر تو ڈھیل دی تھی آخرش بری طرح پکڑ لیا تھا اور نام ونشان تک مٹا دیا تھا۔ تجھے معلوم ہے کہ کس کیفیت سے میرے عذاب ان پر آئے ؟ اور ان کا انجام کیسا کچھ ہوا ؟ جیسے فرمان ہے بہت سی بستیاں ہیں جو ظلم کے باوجود ایک عرصہ سے دنیا میں مہلت لئے رہیں لیکن آخرش اپنی بداعمالیوں کی پاداش میں عذابوں کا شکار ہوئیں۔ بخاری ومسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے پھر آپ نے آیت (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) 11۔ ہود :102) ، کی تلاوت کی۔