تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 13. Ar-Ra'd · Ayah 26

  1. اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ع﴿26﴾

    1. اَللّٰهُاللہ
    2. يَبْسُطُکشادہ کرتا ہے
    3. الرِّزْقَرزق
    4. لِمَنْ يَّشَآءُجس کے لیے وہ چاہتا ہے
    5. وَيَقْدِرُتنگ کرتا ہے
    6. وَفَرِحُوْااور وہ خوش ہیں
    7. بِالْحَيٰوةِزندگی سے
    8. الدُّنْيَادنیا
    9. وَمَااور نہیں
    10. الْحَيٰوةُ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
    11. فِيمقابلہ (میں)
    12. الْاٰخِرَةِآخرت
    13. اِلَّامگر (صرف)
    14. مَتَاعٌمتاع حقیر
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
خدا جس کا چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور (جس کا چاہتا ہے) تنگ کر دیتا ہے۔ اور کافر لوگ دنیا کی زندگی پر خوش ہو رہے ہیں اور دنیا کی زندگی آخرت (کے مقابلے) میں (بہت) تھوڑا فائدہ ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
مسئلہ رزق اللہ جس کی روزی میں کشادگی دینا چاہے قادر ہے، جسے تنگ روزی دینا چاہے قادر ہے، یہ سب کچھ حکمت وعدل سے ہو رہا ہے۔ کافروں کو دنیا پر ہی سہارا ہوگیا۔ یہ آخرت سے غافل ہوگئے سمجھنے لگے کہ یہاں رزق کی فراوانی حقیقی اور بھلی چیز ہے حالانکہ دراصل یہ مہلت ہے اور آہستہ پکڑ کی شروع ہے لیکن انہیں کوئی تمیز نہیں۔ مومنوں کو جو آخرت ملنے والی ہے اس کے مقابل تو یہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں یہ نہایت ناپائیدار اور حقیر چیز ہے آخرت بہت بڑی اور بہتر چیز۔ لیکن عموما لوگ دینا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ اسے کوئی سمندر میں ڈبو لے اور دیکھے کہ اس میں کتنا پانی آتا ہے ؟ جتنا یہ پانی سمندر کے مقابلے پر ہے اتنی ہی دنیا آخرت کے مقابلے میں ہے (مسلم) ایک چھوٹے چھوٹے کانوں والے بکری کے مرے ہوئے بچے کو راستے میں پڑا ہوا دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا جیسا یہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جن کا یہ تھا اس سے بھی زیادہ بیکار اور ناچیز اللہ کے سامنے ساری دنیا ہے۔