تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 12. Yusuf · Ayah 31

  1. فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ﴿31﴾

    1. فَلَمَّاپھر جب
    2. سَمِعَتْاس نے سنا
    3. بِمَكْرِهِنَّان کا فریب
    4. اَرْسَلَتْدعوت بھیجی
    5. اِلَيْهِنَّان کی طرف
    6. وَاَعْتَدَتْاور تیار کی
    7. لَهُنَّان کے لیے
    8. مُتَّكَاًایک محفل
    9. وَّاٰتَتْاور دی
    10. كُلَّ وَاحِدَةٍہر ایک کو
    11. مِّنْهُنَّان میں سے
    12. سِكِّيْنًاایک ایک چھری
    13. وَّقَالَتِاور کہا
    14. اخْرُجْنکل آ
    15. عَلَيْهِنَّان پر (ان کے سامنے)
    16. فَلَمَّاپھر جب
    17. رَاَيْنَهٗٓانہوں نے اسے دیکھا
    18. اَكْبَرْنَهٗان پر اس کا رعب چھا گیا
    19. وَقَطَّعْنَاور انہوں نے کاٹ لیے
    20. اَيْدِيَهُنَّاپنے ہاتھ
    21. وَقُلْنَاور کہنے لگیں
    22. حَاشَپناہ
    23. لِلّٰهِاللہ کی
    24. مَا ھٰذَانہیں یہ
    25. بَشَرًابشر
    26. اِنْنہیں
    27. ھٰذَآیہ
    28. اِلَّامگر
    29. مَلَكٌفرشتہ
    30. كَرِيْمٌبزرگ
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
جب زلیخا نے ان عورتوں کی (گفتگو جو حقیقت میں دیدار یوسف کے لیے ایک) چال (تھی) سنی تو ان کے پاس (دعوت کا) پیغام بھیجا اور ان کے لیے ایک محفل مرتب کی۔ اور (پھل تراشنے کے لیے) ہر ایک کو ایک چھری دی اور (یوسف سے) کہا کہ ان کے سامنے باہر آؤ۔ جب عورتوں نے ان کو دیکھا تو ان کا رعب (حسن) ان پر (ایسا) چھا گیا کہ (پھل تراشتے تراشتے) اپنے ہاتھ کاٹ لیے اور بےساختہ بول اٹھیں کہ سبحان الله (یہ حسن) یہ آدمی نہیں کوئی بزرگ فرشتہ ہے