تفسیر ابنِ کثیر

Tafseer Ibn-e-Kaseer · 12. Yusuf · Ayah 111

  1. لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ع﴿111﴾

    1. لَقَدْالبتہ
    2. كَانَہے
    3. فِيْمیں
    4. قَصَصِهِمْان کے قصے
    5. عِبْرَةٌعبرت (نصیحت)
    6. لِّاُولِي الْاَلْبَابِعقلمندوں کے لیے
    7. مَا كَانَنہیں ہے
    8. حَدِيْثًابات
    9. يُّفْتَرٰىبنائی ہوئی
    10. وَلٰكِنْاور لیکن (بلکہ)
    11. تَصْدِيْقَتصدیق
    12. الَّذِيْوہ جو
    13. بَيْنَ يَدَيْهِاس (اپنے سے) پہلی
    14. وَتَفْصِيْلَاور تفصیل (بیان)
    15. كُلِّہر
    16. شَيْءٍبات
    17. وَّهُدًىاور ہدایت
    18. وَّرَحْمَةًاور رحمت
    19. لِّقَوْمٍلوگوں کے لیے
    20. يُّؤْمِنُوْنَجو ایمان لاتے ہیں
Translation · Tafseer Ibn-e-Kaseer
ان کے قصے میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ (قرآن) ایسی بات نہیں ہے جو (اپنے دل سے) بنائی گئی ہو بلکہ جو (کتابیں) اس سے پہلے نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق (کرنے والا) ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer
عبرت و نصیحت نبیوں کے واقعات، مسلمانوں کی نجات، کافروں کی ہلاکت کے قصے، عقلمندوں کے لئے بڑی عبرت و نصیحت والے ہیں۔ یہ قرآن بناوٹی نہیں بلکہ اگلی آسمانی کتابوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ ان میں جو حقیقی باتیں اللہ کی ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور جو تحریف و تبدیلی ہوئی ہے اسے چھانٹ دیتا ہے ان کی دو باتیں باقی رکھنے کی ہیں انہیں باقی رکھتا ہے۔ اور جو احکام منسوخ ہوگئے انہیں بیان کرتا ہے۔ ہر ایک حلال و حرام، محبوب و مکروہ کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ طاعات واجبات، مستحبات، محرمات، مکروہات وغیرہ کو بیان فرماتا ہے اجمالی اور تفصیلی خبریں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل وعلا کی صفات بیان فرماتا ہے اور بندوں نے جو غلطیاں اپنے خالق کے بارے میں کی ہیں ان کی اصلاح کرتا ہے۔ مخلوق کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اللہ کی کوئی صفت اس کی مخلوق میں ثابت کریں۔ پس یہ قرآن مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے، ان کے دل ضلالت سے ہدایت اور جھوٹ سے سچ اور برائی سے بھلائی کی راہ پاتے ہیں اور رب العباد سے دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کرلیتے ہیں۔ ہماری بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دنیا آخرت میں ایسے ہی مومنوں کا ساتھ دے اور قیامت کے دن جب کہ بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے منہ کالے ہوجائیں گے، ہمیں مومنوں کے ساتھ نورانی چہروں میں شامل رکھے آمین۔ الحمد للہ سورة یوسف کی تفسیر ختم ہوگئی۔ اللہ کا شکر ہے وہی تعریفوں کے لائق ہے اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔